0
Sunday 11 Oct 2009 11:08

پشاور کا خودکش دھماکہ اور جی ایچ کیو چیک پوسٹ پر حملہ

پشاور کا خودکش دھماکہ اور جی ایچ کیو چیک پوسٹ پر حملہ
ابھی پشاور میں ہونے والے خودکش دھماکے کی گونج بھی ختم نہیں ہوئی کہ راولپنڈی سے یہ افسوسناک خبر ملی ہے کہ وہاں دہشت گردوں نے جی ایچ کیو کی حدود کے قریب ایک چیک پوسٹ کو عبور کرنے کی کوشش کی اور روکے جانے پر گرنیڈ پھینک کر اور فائرنگ کر کے ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں سے باقاعدہ جنگ کا آغاز کر دیا جو تادم تحریر جاری ہے۔ افواج پاکستان کے ترجمان کے بیان کے مطابق اس تصادم میں اب تک 4دہشت گرد ہلاک اور ایک شدید زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ 4 فوجی جوان جام شہادت نوش کر چکے ہیں۔ دہشت گردوں کا تمام تر ناکہ بندیوں اور حفاظتی انتظامات کو درہم برہم کر کے ملکی سلامتی کے حوالے سے ایک حساس مقام تک پہنچ جانا اس بات کی علامت ہے کہ شدت پسند عناصر حکومت کو کھلا چیلنج دے رہے ہیں کہ وہ جب چاہیں اور جہاں چاہیں وار کر سکتے ہیں اور کوئی انہیں روکنے والا نہیں ہے۔ یہ بہت تشویشناک صورتحال ہے۔ اسی طرح پشاور کے مصروف ترین تجارتی مرکز خیبر بازار میں کئے جانیوالے خودکش دھماکے میں 50 معصوم انسانوں کا لقمہ اجل بن جانا اور 107 سے زائد افراد کا شدید زخموں سے دوچار ہونے کے علاوہ درجنوں دکانوں مکانوں اور گاڑیوں کا تباہی کی نذر ہو جانا ایک انتہائی المناک سانحہ ہے اور اس کی جس قدر بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ پشاور میں پچھلے دھماکے کو ابھی بمشکل پندرہ دن بھی نہیں گزرے کہ اس سے بھی بڑے ایک نئے المیہ نے اس کے شہریوں کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے اور وہ شدید اضطراب کے عالم میں یہ سوچنے لگے ہیں کہ دہشت گردی کا یہ دائرہ مسلسل پھیلتا کیوں جا رہا ہے اور امن و امان کی صورتحال بہتر ہونے میں کیوں نہیں آ رہی۔
یوں تو صوبہ سرحد اور اس کا دار الحکومت ایک عرصہ سے شدت پسندی کی زد میں ہے لیکن 8 مئی 2009ء سے سوات اور مالا کنڈ کے علاقے میں کئے جانے والے فوجی آپریشن کے بعد یہ بطور خاص دہشت گردی کا نشانہ بنا ہوا ہے اور گذشتہ چار ساڑھے چار ماہ میں یہاں تخریب کاری کے 20 سے ذیادہ واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ ارباب حکومت کا نقطہ نظر یہ ہے کہ سوات اور مالا کنڈ میں دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے اور ان میں سے جو اردگرد کے علاقوں میں روپوش ہو گئے ہیں یہ ان کی طرف سے کی جانے والی کارروائیاں ہیں جو محض وہ اپنے وجود کا ثبوت دینے کے لئے کر رہے ہیں لیکن ان کا بھی جلد ہی صفایا کر دیا جائے گا۔ وزیر داخلہ رحمن ملک نے پشاور دھماکے کے ڈانڈے جنوبی وزیرستان سے ملاتے ہوئے وہاں بھی جلد ہی آپریشن شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ امریکہ کی خواہش بھی یہی ہے کہ شمالی و جنوبی وزیرستان کو جتنی جلدی ممکن ہو عسکری کارروائی کی زد میں لایا جائے۔ لیکن اس علاقے کے مخصوص قبائلی مزاج، اسلحہ بندی اور افغانستان سے اس کی سرحدیں ملنے کے باعث بہت سے حلقوں کا خیال ہے کہ اس بارے میں معاملات کے تمام پہلوؤں پر نہایت احتیاط،تدبر اور دانشمندی کے ساتھ غور و فکر کر نے کے بعد ہی کوئی فیصلہ کیا جانا چاہئے اور صرف فوجی کارروائی کو ہی سب سے زیادہ کارگر نسخہ نہیں سمجھا جانا چاہئے بلکہ دہشت گردوں کے متعلق انٹیلی جنس ذرائع سے بالکل درست اور صحیح اطلاعات حاصل کرنے کے بعد ان کے صرف منتخب مراکز کو نشانہ بنایا جانا چاہئے جبکہ اس قبائلی علاقے کے محب وطن عوام کو اپنے ساتھ ملا کر غیر ملکی دہشت گردوں کو تنہا کرنے اور بوجوہ ان کا ساتھ دینے والے مقامی طالبان اور دوسرے گروپوں کو ہتھیار ڈالنے پر آمادہ کرنے کی کوششوں کو بیک وقت آگے بڑھایا جانا چاہئے تا کہ دہشت گردوں کو مقامی حمایت سے محروم کر کے پہلے انہیں تنہا کر دیا جائے اور پھر ایک ہی ہلے میں انہیں ختم کر دیا جائے۔
اس زاویہ نگاہ کو اس خیال سے بھی تقویت مل رہی ہے کہ سوات اور مالاکنڈ میں کئے جانے والے آپریشن کی کامیابی کا دعویٰ اگرچہ بڑے زور سے کیا جا رہا ہے اور اس میں کسی حد تک صداقت بھی ہے لیکن پشاور اور گرد و نواح کے علاقوں میں دہشت گردوں کی کارروائیوں میں آنے والی تیزی یہ بھی بتا رہی ہے کہ حالات کی تصویر بالکل ایسی ہی نہیں جیسی بتائی جا رہی ہے بلکہ یوں لگتا ہے کہ دہشت گردوں نے اپنی کارروائیوں کی جگہ تبدیل کر لی ہے کیونکہ وادی سوات میں فوجی کارروائی کے دوران ان کے فرار کے راستوں کو بند کرنے اور ملحقہ علاقوں میں نئی پناہ گاہیں تلاش کرنے کے منصوبوں کو ناکام بنانے کی مناسب پیش بندی نہیں کی گئی اور شاید یہی وجہ ہے کہ دہشت گردی کا دائرہ نہ صرف صوبہ سرحد کے دوسرے علاقوں کی طرف پھیلتا نظر آ رہا ہے بلکہ سوات میں گولیوں سے چھلنی لاشوں اور مختلف سڑکوں کے اطراف میں بنائے گئے گڑھوں سے انسانی ڈھانچوں کی برآمدگی بھی یہاں کے باسیوں کی تشویش میں اضافے کا موجب بن رہی ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ سوات اور مالاکنڈ میں کی جانے والی کارروائی کے بعد ان دشمن ممالک کو مایوسی ہوئی ہو جو اس علاقے میں بدامنی کو مسلسل ہوا دینے میں مصروف ہیں اور انہوں نے اپنی کارروائیوں میں نئے سرے سے شدت لانے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ دہشت گردی ایک اتنا گھمبیر اور پیچیدہ مسئلہ ہے کہ اس کے صرف کسی ایک پہلو کو سامنے رکھ کر اس سے نبرد آزما ہونے کو کامیابی کی کنجی خیال کر لینا کسی طرح درست نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ ایک ایسا ہمہ جہت اور ہمہ گیر معاملہ ہے کہ اس کے کسی رخ کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔
پشاور میں پچھلے دو ہفتوں میں ہونے والے دو خوفناک دھماکوں سے یہ حقیقت بھی سامنے آئی ہے کہ دہشت گردوں نے اب پولیس چیک پوسٹوں،فوجی قافلوں،سرکاری انتظامی دفاتر اور بنکوں کو اپنا ہدف بنانے یا فرقہ پرستی کا تاثر دینے والی کارروائیوں کو چھوڑ کر بلا امتیاز معصوم شہری آبادی پر بربادیاں مسلط کرنے کی راہ اختیار کر لی ہے۔ اس کا مقصد عوام کے ذہنوں پر خوف کے پہرے بٹھا کر انہیں اپنی حمایت پر آمادہ کرنا ہو یا انہیں حکومت کے انتظامی اداروں کا ساتھ دینے سے دستبردار کرنا کچھ بھی ہو یہ معاملہ ہرگز ایسا نہیں ہے کہ اسے ٹھنڈے پیٹوں برداشت کر لیا جائے یا محض تقدیر کا لکھا قرار دے کر اس سے صرف نظر کر لیا جائے کیونکہ ہر با خبر آدمی اس حقیقت سے شناسا ہے کہ پاکستان اس وقت اپنی سلامتی کے حوالے سے ایک ایسے سخت کشیدہ ماحول سے دوچار ہے جس کی تشکیل گذشتہ کئی عشروں میں کئے جانے والے غلط اور عاقبت نااندیشی پر مبنی فیصلوں سے ہوئی ہے اور اب شدت پسندی کے اس رجحان کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنے کے لئے صرف مقامی کھلاڑی ہی میدان عمل میں نہیں آ رہے بلکہ کئی علاقائی اور بین الاقوامی کھلاڑی بھی اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے میں کوئی کمی نہیں کر رہے۔ اس صورتحال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت دہشت گردی کے عفریت سے نمٹنے کے لئے کسی ایک پالیسی اور حکمت عملی کو حرف آخر نہ سمجھ لے بلکہ تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں، قبائلی عمائدین اور عسکری ماہرین کے مشورے سے ایک ایسی جامع اور ٹھوس پالیسی مرتب کرے جو عوام اور حکومت کے درمیان پائے جانے والے فاصلوں کو کم کرنے میں مدد دے تاکہ وہ سب مل کر ایک ایسی سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں جس میں دشمن کوئی نقب لگانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ سیاسی رہنماؤں اور علماء کا یہ فرض بھی ہے کہ وہ ملک کو امن کا گہوارہ بنانے کے لئے اسلام کی عوام دوست اور انسان دوست تعلیمات کو عام کرنے کی طرف خصوصی توجہ دیں اور ان کے ذہنوں میں یہ بات جاگزیں کریں کہ بے گناہ اور معصوم لوگوں کا قتل انسانیت کے خلاف اتنا بڑا جرم ہے کہ اس کا ارتکاب کرنے والا عذاب الٰہی سے کسی صورت نہیں بچ سکتا ۔


خبر کا کوڈ : 12966
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے