0
Tuesday 15 May 2018 03:37

سندھ بھر میں رمضان المبارک کے دوران 55,702 افسران و جوان سکیورٹی فرائض انجام دینگے

سندھ بھر میں رمضان المبارک کے دوران 55,702 افسران و جوان سکیورٹی فرائض انجام دینگے
رپورٹ: ایس ایم عابدی

آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے سینٹرل پولیس آفس میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ہدایات دیں کہ ماہ رمضان کے تینوں عشروں کے دوران پولیس سیکیورٹی میکنزم کے مجموعی اقدامات کو مربوط، موُثر اور ٹھوس بناتے ہوئے ترتیب کردہ کنٹی جینسی پلان پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کی جان و مال کے تحفظ کے جملہ امور کو غیر معمولی بنایا جاسکے۔ اجلاس میں ایڈیشنل آئی جی کراچی، ڈی آئی جیز حیدر آباد، اسپیشل برانچ، سی آئی اے، سکھر، لاڑکانہ، میرپورخاص، شہید بینظیر آباد، ہیڈکواٹرز سندھ، ایڈمن کراچی اور زونل ڈی آئی جیز کراچی سمیت اے آئی جیز ایڈمن، آپریشنز، فنانس اور لاجسٹکس نے بھی شرکت کی۔ ایڈیشنل آئی جی کراچی کی رپورٹ کے مطابق ایسٹ، ویسٹ اور ساؤتھ میں 4215 مساجد / نماز و تروایح / محافل شبینہ / کھلے مقامات پر دوران رمضان اضافی نفری کے علاوہ 26780 سے زائد پولیس افسران و جوان سیکیورٹی / ٹریفک فرائض انجام دینگے جبکہ 500 سے زائد موبائلوں اور 662 موٹرسائیکل سوار افسران و جوان اسنیپ چیکنگ علاقہ پیٹرولنگ پر مامور کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مذکورہ مجموعی ڈپلائمنٹ میں کراچی پولیس 19400 سے زائد جبکہ کراچی ٹریفک رینج کے تمام سیکشنز میں مجموعی طور پر 7380 سے زائد ٹریفک پولیس افسران و اہلکار مختلف شاہراہوں، ٹریفک لائٹ سگنلز، چوراہوں، ٹریفک جنکشنز، ممکنہ متبادل روٹس و دیگر مقامات پر فرائض انجام دینگے۔ علاوہ ازیں ٹریفک پولیس افسران و جوان خصوصی ہدایات کے تحت ماڑی پور روڈ سے لیاری ایکسپریس وے کو جانے والے روٹ پر ٹریفک انتظامات اور روانی کے اقدامات کو یقینی بنائیں گے۔

ڈی آئی جی حیدرآباد کی رپورٹ کے مطابق رمضان المبارک کے دوران 2108ء مساجد / تراویح کے کھلے مقامات و دیگر سیکیورٹی امور پر 11622 سے زائد افسران و جوان سیکیورٹی فرائض انجام دینگے جس میں 216 موبائل اور 169 موٹر سائیکل پر سوار نفری بھی شامل ہے۔ ڈی آئی جی میرپورخاص کی رپورٹ کے مطابق رمضان کے دوران کم و بیش 660 مساجد / تراویح کے کھلے مقامات پر 6106 کے قریب افسران و جوان سیکیورٹی فرائض انجام دے دینگے۔ ڈی آئی جی شہید بینظیرآباد کی رپورٹ کے مطابق رمضان المبارک کے دوران 1542 مساجد / تراویح کے کھلے مقامات و دیگر سیکیورٹی امور پر 4504 سے زائد افسران و جوان سیکیورٹی فرائض انجام دینگے جس میں موبائل اور موٹرسائیکل پر سوار نفری بھی شامل ہے۔ ڈی آئی جی سکھر کی رپورٹ کے مطابق 605 مساجد / تراویح کے کھلے مقامات پر 3661 کے قریب افسران و جوان سیکیورٹی فرائض انجام دینگے جس میں موبائل اور موٹر سائیکل پر سوار نفری بھی شامل ہے۔ ڈی آئی جی لاڑکانہ کی رپورٹ کے مطابق رمضان کے دوران 947 مساجد / تراویح کے کھلے مقامات پر 10453 سے زائد افسران و جوان سیکیورٹی فرائض انجام دینگے جس میں 230 کے قریب موبائل اور 219 سے زائد موٹر سائیکل پر سوار نفری بھی شامل ہے۔

دوسری جانب رمضان المبارک سے قبل کراچی سمیت سندھ بھر میں مذہبی انتہا پسندی روکنے اور بدامنی کے خدشات کے پیش نظر سی ٹی ڈی سندھ نے اہم اقدامات اٹھانا شروع کردیئے ہیں۔ فورتھ شیڈول میں شامل کراچی کے 37 افراد اور کالعدم تنظیموں کی مشتبہ قیادت کی کڑی نگرانی شروع کردی گئی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق رمضان المبارک کے سلسلے میں سیکورٹی اقدامات کے حوالے سے اہم اجلاس فورتھ شیڈول کمیٹی کے چیئرمین ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ثناء اللہ عباسی کی صدارت میں پولیس ہیڈ آفس کراچی میں ہوا۔ جس میں سندھ بھر کے ڈی آئی جیز اور دیگر اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں صوبے سے انتہا پسندی روکنے اور امن و سلامتی کیلئے مختلف فوری اقدامات اٹھانے کے احکامات جاری کئے گئے۔ اجلاس میں انتہا پسندوں کے ذرائع آمدنی اور مالی معاملات کی نگرانی کیلئے اسٹیٹ بینک کی مدد لینے کا فیصلہ کیا گیا اور ایسے افراد کے غیرملکی اور مقامی دوروں کیلئے دستیاب مالی وسائل کی بھی چھان بین شروع کرنے کیلئے کہا گیا۔ اجلاس میں سندھ کی فورتھ شیڈول کی فہرستوں کا جائزہ لیا گیا، پولیس ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں بعض تشویش طلب پہلو سامنے آئے۔

ذرائع کے مطابق فورتھ شیڈول میں شامل کراچی کی کالعدم تنظیموں کے 80 افراد کے مختلف کوائف اور رہائشی پتے تبدیل ہوچکے ہیں۔ ان کے نئے شناختی کارڈز طلب کرکے دیگر ریکارڈ کی چھان بین اور فائلیں مکمل کرنے کے احکامات بھی جاری کئے گئے۔ ذرائع کے مطابق اقوام متحدہ سے پابندی کا شکار کالعدم تنظیموں کے ارکان خاص طور پر جماعت الدعویٰ کے 25 عہدیداروں کے نام بھی کڑی نگرانی کی فہرست میں شامل ہیں، جبکہ سندھ کے دیگر 18 اضلاع کے فورتھ شیڈول کے 18 افراد کے کوائف تبدیل پائے گئے ہیں۔ پولیس ذرائع فورتھ شیڈول کی لسٹ میں کراچی کے 425 اور سندھ کے 278 افراد شامل ہیں جن میں کڑی نگرانی کیلئے منتخب ضلع شرقی کے 10، جنوبی کے 15 اور غربی کے 12 افراد فہرست میں شامل ہیں۔ لاپتہ میں ضلع وسطی کے 28، شرقی کے 14، کورنگی کے 7 افراد شامل، ملیر کے 11، جنوبی 5 اور غربی کے 15 افراد شامل ہیں۔ فورتھ شیڈول میں شامل کراچی کے 38 جبکہ سندھ کے 3 افراد جیلوں میں ہیں۔ ذرائع کے مطابق کراچی کے 184 جبکہ سندھ کے 100 افراد کو فورتھ شیڈول سے نکال دیا گیا۔
خبر کا کوڈ : 724784
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب