0
Tuesday 8 May 2018 19:47
میاں نواز شریف کے معاملے میں انصاف سے فیصلہ نہیں کیا گیا

بلوچستان میں تحریک آزادی سے زیادہ مذہبی دہشتگردی خطرناک ہے، جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ

افغان مہاجرین نہیں بلکہ خود پاکستانی شہری دہشتگردی میں استعمال ہوتے ہیں
بلوچستان میں تحریک آزادی سے زیادہ مذہبی دہشتگردی خطرناک ہے، جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ
لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ مسلم لیگ (ن) کے رہنماء اور وفاقی وزیر سیفران ہے۔ وہ 9 اپریل 1945ء کو بلوچستان کے علاقے خاران میں پیدا ہوئے۔ وہ کور کمانڈر کوئٹہ کے طور پر بھی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ وہ 2003ء میں گورنر بلوچستان کے عہدے پر بھی فائز رہے ہے۔ ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال اور بلوچستان کے مسائل کے حوالے سے اسلام ٹائمز نے جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ سے مختصر گفتگو کی ہے، جو قارئین کرام کی خدمت میں پیش ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: فاٹا کے انضمام اور دیگر مسائل کے حل کیلئے کس حد تک پیشرفت ہو پائی ہے اور فاٹا کے عوام کو انکے جائز حقوق دینے میں حکومت کیوں تاخیر کر رہی ہے۔؟
جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ:
پاکستان کو معرض وجود میں آئے ستر سال کا عرصہ ہوگیا، لیکن آج تک فاٹا کے عوام کو وہ حقوق حاصل نہیں ہوئے، جو ملک کے دیگر علاقوں میں رہنے والے عام شہریوں کے ہیں۔ فاٹا کے عوام اپنے نمائندے سینیٹ اور قومی اسمبلی کیلئے منتخب کرتے ہیں، لیکن قومی اسمبلی اور سینیٹ کیجانب سے جب کوئی قانون بنتا ہے تو صرف فاٹا میں جب تک صدر مملکت اس کی منظوری نہ دیں، تب تک وہ قانون فاٹا پر لاگو نہیں ہوتا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ فاٹا کے عوامی نمائندوں کا اپنے علاقے کے مسائل کے حوالے سے کوئی عمل دخل نہیں۔ اسی طرح انتظامی معاملات گورنر اور پولیٹیکل ایجنٹس انجام دیتے ہیں، لیکن گورنر صاحب مرکز کے علاوہ کسی کو جواب دیں نہیں ہے۔ فاٹا میں ایک کالا قانون ایف سی آر کے تحت لاگو ہے، جس میں سب سے منفی پہلو یہ ہے کہ اگر کسی علاقے میں ایک بندہ کوئی غلطی کرتا ہے تو اس کی سزاء پورے کے پورے قبیلے کو دی جاسکتی ہے۔ یعنی آج کے دور میں بھی اس طرح کا وحشیانہ قانون وہاں پر رائج ہے۔ اسی طرح جب کسی مجرم کو سزاء دی جاتی ہے تو ایف سی آر کے تحت اسے کسی اور عہدیدار کے سامنے اپیل کیلئے پیش نہیں کیا جاسکتا۔ لہذا فاٹا کا اصل مسئلہ انضمام کا نہیں بلکہ اصلاحات کا ہے۔

وہاں پر سب سے پہلے کالے قوانین کو ختم کرنے کی ضرورت ہے، دوسرا ان کے اپنے نمائندوں کو قانون سازی کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیئے، تیسرا وہاں ترقیاتی پروجیکٹس پر کام کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے۔ جب یہ سارے کام ہو جائینگے تو اس کے بعد فاٹا کے انضمام کے مسئلے کو بھی حل کیا جائے گا۔ فاٹا کا انضمام خود وہاں کے عوام اور ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کا مطالبہ ہے۔ 2015ء میں وزیراعظم نواز شریف نے فاٹا ریفارمز کے حوالے سے ایک کمیٹی بنائی، جس کی سربراہی سرتاج عزیز صاحب کے پاس تھی اور اس کمیٹی کے چھ ممران میں میرا نام بھی تھا۔ کم و بیش دو سالوں کے بعد ہم نے فاٹا کے مطالبات کو مدنظر رکھتے ہوئے پچیس نکات پر مشتمل اپنی سفارشات کابینہ کے سامنے پیش کی۔ اس کے بعد بھی میں خود پریس کانفرنسز کا انعقاد کرتا رہا ہوں، فاٹا ریفارمز کے پچیس نکات میں سے بارہ نکات پر عملدرآمد ہوچکا ہیں، جبکہ باقی نکات پر عملدرآمد کیلئے بعض تقرریاں کرنا لازمی تھیں، اسی وجہ سے اس میں تاخیر ہوئی، کیونکہ ہم ایک صحیح شخص کی تلاش میں تھے، جو معاملات کو سنبھال سکے۔ فاٹا کا کالا قانون گذشتہ ایک صدی سے زائد عرصے سے رائج ہے اور اسے ختم کرنے کا فیصلہ صرف مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے کیا۔

اسلام ٹائمز: میاں نواز شریف صاحب اپنی نااہلی کو منصفانہ فیصلہ نہیں سمجھتے اور اپنے دشمن کو خلائی مخلوق کا نام دے رہے ہیں۔ آپکا اس حوالے سے کیا موقف ہے۔؟
جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ:
میاں نواز شریف کے معاملے میں انصاف سے فیصلہ نہیں کیا گیا۔ کرپشن کے خلاف تحقیقات کو پانچ ججز نے مل کر شروع کیا۔ کیس کے پہلے فیصلے میں دو ججز نے کہا کہ میاں نواز شریف کرپٹ ہے اور باقی تین ججز نے مزید تحقیقات کا حکم دیا۔ بعدازاں جے آئی ٹی کا فیصلہ آنے کے بعد عدالت نے دوبارہ کہا کہ نیب کو اس حوالے سے مزید تحقیقات کرنا ہونگی اور محض کسی سعودی کمپنی سے ایک تںخواہ لینے کے جرم میں انہیں نااہل کیا گیا۔ یعنی ابھی تک میاں نواز شریف پر کرپشن کا الزام ثابت نہیں‌ ہوا، انہیں اس لئے ہٹایا گیا کہ وہ نیب پر اثر انداز نہ ہوسکیں، لیکن ہمارا میڈیا اسی دن سے آج تک یہ شور مچا رہا ہے کہ میاں نواز شریف بدعنوانی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ ان فیصلوں کے باوجود جب میاں نواز شریف صاحب لاہور تک زمینی راستے سے گئے، تو عوام کا استقبال آپ نے بھی مشاہدہ کیا ہوگا۔ اسی طرح این اے 120 کا ضمنی انتخاب جب ہوا تو اس میں بھی ہماری تاریخی فتح دیکھنے کو ملی۔

اسلام ٹائمز: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ میاں نواز شریف کی نااہلی کے پیچھے فوج کار فرما تھی۔؟
جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ:
ہمارے ملک کی بدقسمتی یہی ہے کہ ہم ہر چیز کی ذمہ داری فوج پر ڈال دیتے ہیں۔ یہ بات میں اس لئے نہیں کر رہا کہ خود ماضی میں فوج کا حصہ رہا ہو، بلکہ میرا اصل مطلب یہ ہے کہ مجھے ذاتی طور پر اس قسم کی کوئی معلومات نہیں کہ جس کی بناء پر میں نااہلی کے پیچھے فوج کے کردار کو دیکھ سکوں۔ ہاں اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں جو تین مرتبہ مارشل لاء لگائے جا چکے ہیں، ان کی وجہ سے آج ہم بیشتر مسائل میں گرفتار ہیں۔ اس بات کی مخالفت اور مذمت میں‌ خود بھی کرتا ہو کہ فوج کو قطعاً سیاست میں حصہ نہیں لینا چاہیئے۔ لیکن بعض اوقات آرمی میں بیٹھے تین چار جنرل یہ غلطی کرتے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ پورے ادارے کو مورد الزام ٹہرائیں۔ لیکن یہ بات واضح ہے کہ میں مفروضوں اور پروپیگنڈے پر یقین نہیں رکھتا اور نواز شریف صاحب کے معاملے میں مجھے فوج کا کردار نظر نہیں آتا۔

اسلام ٹائمز: چوہدری نثار کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور نواز شریف کو محاذ آرائی کی سیاست نہیں کرنی چاہیئے۔ آپ اس بات سے متفق ہیں۔؟
جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ:
چوہدری نثار صاحب کی اپنی ایک دنیا ہے، جو اپنے آپ کو میاں نواز شریف جیسا لیڈر بھی مانتے ہیں۔ یہ بات تو میاں صاحب کو معلوم ہوگی کہ وہ اداروں کے ساتھ محاذ آرائی کر رہے ہیں یا نہیں۔

اسلام ٹائمز: کیا مسلم لیگ (ن) میں کسی قسم کی کوئی تقسیم پائی جاتی ہے۔؟
جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ:
نہ مجھے ایسی کوئی چیز نظر آرہی ہے اور نہ مستقبل میں اس کا امکان ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے معنی مسلم لیگ نواز شریف ہے۔ ابھی کل اگر کوئی فارورڈ بلاک بن بھی جاتا ہے تو وہ (ن) کا حصہ نہیں ہوگا۔ لہذا میاں نواز شریف سے کوئی اختلاف کا سوچ بھی نہیں سکتا۔

اسلام ٹائمز: کیا پرویز مشرف کا احتساب ہونا چاہیئے۔؟
جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ:
بالکل، نہ صرف پرویز مشرف کا بلکہ اس ملک میں ہر جنرل، جج، سیاستدان اور تمام عہدیداران کا احتساب ہونا چاہیئے۔ آج پرویز مشرف کا کیس عدالتوں میں ہے تو اسی وجہ سے وہ ملک سے باہر چھپتے پھر رہے ہیں۔ ایک زمانے میں وہ اس ملک کے بے تاج بادشاہ تھے، لیکن آج وہ خود کہتے ہیں کہ انہیں پاکستان کے پکوڑے بہت زیادہ یاد آتے ہیں۔ یہی چیز مستقبل کیلئے دیگر جنرلوں، ججز اور سیاستدانوں کو کوئی بھی غلط کام کرنے سے روکتی ہے۔

اسلام ٹائمز: صوبہ بلوچستان میں ماضی کی حکومتیں آغاز حقوق بلوچستان پیکیج، این ایف سی ایوارڈ اور اٹھارویں ترمیم بھی لائیں، لیکن صحیح معنوں میں اس صوبے کے احساس محرومی کو ختم نہیں کیا جاسکا۔ اسکی کیا وجہ ہے۔؟
جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ:
بلوچستان کا مسئلہ دیگر صوبوں سے بالکل مختلف ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بلوچستان ایک بہت بڑے رقبے پر محیط ہے۔ پاکستان کا چوالیس فیصد حصہ بلوچستان پر مشتمل ہے اور یہاں پاکستان کی پانچ فیصد آبادی رہتی ہے۔ پانچ فیصد آبادی صوبے کے چوالیس فیصد حصے پر پھیلی ہوئی ہے۔ اب بدقسمتی سے ملک میں وسائل کی تقسیم آبادی کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ این ایف سی ایوارڈ کے مطابق بلوچستان کو نو فیصد حصہ ملتا ہے۔ خود بلوچستان کے وسائل پر زیادہ حق مرکز کا تھا، جس کی وجہ سے وفاق سے دوریاں بڑھتی گئیں۔ لیکن ابھی آہستہ آہستہ چیزیں صحیح ہوتی جا رہی ہیں، اگر وسائل کو صحیح طریقے سے بلوچستان میں استعمال کیا گیا، تو ناراضگیاں ختم ہو جائیں گی۔

اسلام ٹائمز: بلوچستان میں شیعہ ہزارہ قوم سمیت دیگر اقوام اور سکیورٹی فورسز پر پے در پے حملے ہو رہے ہیں۔ دہشتگردی کے پیچھے کونسے ہاتھ ملوث ہیں اور اسکی روک تھام کیسے ممکن ہے۔؟
جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ:
جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ صوبہ بلوچستان کا رقبہ انتہائی وسیع ہے، جس کی وجہ سے ہمیں انتظامی معاملات میں بعض اوقات مسائل پیش آتے ہیں۔ بلوچستان میں‌ افغانستان اور انڈیا سے براہ راست مداخلت کی جاتی ہے۔ پیسہ انڈیا کا استعمال ہوتا ہے اور زمین افغانستان کی۔ بدقسمتی سے دہشتگردی میں ہمارے اپنے پاکستانی ہی ملوث ہوتے ہیں۔ اس بات میں‌ کوئی شک نہیں کہ ان کو ٹریننگ افغانستان میں ملتی ہے، لیکن بیشتر حملہ آور پاکستانی شہریت رکھتے ہیں، جنہیں برین واش کرکے یہاں حالات خراب کرنے کیلئے بھیجا جاتا ہے۔ اگر یہاں پر محرومیاں‌ ہونگی، تو آپ کے اپنے شہری دشمن ممالک کے آلہ کار بنیں گے۔ لہذا ہمیں ان عوامل کو جاننے اور حل کرنے کی ضرورت ہے، جن کی وجہ سے ہمارے اپنے شہری ہی دہشتگردی کرنے پر آمادہ ہوتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: کیا افغان مہاجرین بھی دہشتگردی میں ملوث ہیں۔؟
جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ:
ہمارے پاس ایسے کوئی شواہد نہیں، جس سے معلوم ہوسکے کہ بلوچستان میں افغان مہاجرین دہشتگردی میں ملوث ہیں۔

اسلام ٹائمز: اگر بلوچستان میں طالبان کا کمانڈر ملا اختر منصور امریکی ڈرون حملے میں‌ مارا جاتا ہے، تو بین الاقوامی ممالک کیجانب سے کوئٹہ شوریٰ اور دیگر جہادی تنظیموں کی موجودگی کا الزام صحیح ثابت ہوتا ہے۔ کیا پاکستان آج بھی ان جہادی تنظیموں اور کرداروں کو سپورٹ کرتا ہے۔؟
جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ:
جب میں نے سیفران کی وزارت سنبھالی تو اس وقت ہمارے پاس تیس لاکھ کے قریب افغان مہاجرین موجود تھے۔ ساڑھے چھ لاکھ کے قریب افغان مہاجرین کو واپس بھیج دیا گیا ہے۔ ڈیڑھ لاکھ کے قریب افغان مہاجرین اس سال بھی جا چکے ہیں۔ لیکن ابھی بھی ہمارے پاس چوبیس لاکھ کے قریب افغان مہاجرین موجود ہے۔ ان میں رجسٹرڈ افغان مہاجرین کی تعداد پندرہ لاکھ کے قریب ہے۔ اب ان افغان مہاجرین کے چہرے، لباس اور زبان ہمارے اپنے پاکستانی پشتون بھائیوں کے ساتھ ملتے جلتے ہیں۔ ان میں فرق کرنا کہ کون افغانستان کا ہے اور کون پاکستان کا، یہ انتہائی سخت کام ہے۔ بین الاقوامی ممالک اگر ہم پر یہ الزام لگاتے ہیں، تو سب سے پہلے انہیں پاکستان سے افغان مہاجرین کی واپسی کو یقینی بنانا چاہیئے۔ جس دن اس ملک سے افغان مہاجرین کو مکمل طور پر نکالا جائے گا، اس کے بعد کسی بھی دہشتگرد کے اس ملک میں موجودگی اور سرپرستی کا الزام ہم پر لگا سکیں گے۔

اسلام ٹائمز: اسوقت بلوچستان میں آزادی کی تحریک زیادہ خطرناک ہے یا مذہبی انتہاء پسندی کی آڑ میں ہونیوالی دہشتگردی۔؟
جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ:
یقینی طور پر اس وقت بلوچستان میں مذہب کی آڑ میں دہشتگردی کرنے والے زیادہ خطرناک ہیں۔ آزادی کی تحریک کو کاؤنٹر کرنے میں ریاست کافی حد تک کامیاب ہوچکی ہے، لیکن مذہبی دہشتگردی کی مکمل روک تھام ابھی تک ایک چیلنج ہے۔
خبر کا کوڈ : 723180
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب