0
Saturday 12 May 2018 23:58
پاکستانی عوام اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتی، قائداعظم کا اسرائیل مخالف بیان ملک و قوم کیلئے بڑا رہنما اصول ہے

پاکستان کو غیرجانبدار رہنے کی بجائے امریکہ و اسرائیل مخالف بلاک کا عملی ساتھ دینا چاہیئے، علامہ احمد اقبال رضوی

پاکستان میں آئی ایس او کے امریکہ مخالف کردار و خدمات اور عوام کو شعور دینے کے حوالے سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا
پاکستان کو غیرجانبدار رہنے کی بجائے امریکہ و اسرائیل مخالف بلاک کا عملی ساتھ دینا چاہیئے، علامہ احمد اقبال رضوی
کراچی سے تعلق رکھنے والے علامہ سید احمد اقبال رضوی اس وقت مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل کی حیثیت سے ذمہ داریاں سرنجام دے رہے ہیں، اس سے قبل آپ ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی سیکریٹری تربیت کی حیثیت سے بھی ذمہ داریاں سرنجام دے چکے ہیں، آپ امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کی مرکزی مجلس نظارت کے رکن بھی ہیں۔ ”اسلام ٹائمز“ نے علامہ سید احمد اقبال رضوی کے ساتھ مشرق وسطیٰ کی صورتحال، یوم مردہ باد امریکا و دیگر موضوعات کے حوالے سے آپ کی رہائشگاہ پر ایک مختصر نشست کی۔ اس موقع پر آپ کے ساتھ کیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کیلئے پیش ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: گزشتہ دنوں اسرائیلی جارحیت کے جواب میں شام کے میزائل حملے کے بعد کی صورتحال کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں، کیا جنگ چھڑ سکتی ہے۔؟
علامہ احمد اقبال رضوی:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔۔۔۔۔
مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال غیر یقینی تو ہے اور احمق پاگل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کوئی بھی چیز بعید نہیں، لیکن اس وقت مقاومتی مزاحمتی قوتیں اور ممالک بھی بہت بہتر پوزیشن میں ہیں، بہت مستحکم ہیں اور خطے میں انہوں نے اپنی طاقت کو ثابت کیا ہے، خصوصاً عراق و شام میں دہشتگرد گروہ داعش کی شکست اس کا منہ بولتا ثبوت ہے، داعش کی شکست دراصل امریکا و اسرائیل کی شکست ہے، جن کی کوشش تھی کہ مزاحمتی بلاک کو ختم کر دیں، شام اور ایران کو ختم کر دیں، مزحمتی محور کے ہاتھوں داعش کی شکست کے بعد ایران شام میں اسرائیل سے تھوڑا فاصلے پر تھا، اب تو بالکل ہی وہ اس کے نزدیک پہنچ چکا ہے، خود شام کے تمام امور میں ایرانی شراکت موجود ہے، اسی طرح حزب اللہ بھی شریک ہے، اسرائیل کے خلاف ایک بہت مضبوط مزاحمتی بلاک بن چکا ہے، روس اور چین بھی اس کے ساتھ ہیں، موجودہ صورتحال کے تناظر میں میرا نہیں خیال کہ اسرائیل، امریکا مزاحمتی بلاک سے دوبدو جنگ کرنے کی ہمت کرینگے۔

اسلام ٹائمز: کیا اسرائیلی حملے کے جواب میں شام کی جانب سے فوری شدید ردعمل اس بات کی علامت بنا ہے کہ اسرائیل دوبدو جنگ سے پرہیز کریگا۔؟
علامہ احمد اقبال رضوی:
پہلی بات تو یہ کہ ابھی جب اسرائیل نے شام پر حملہ کیا، تو شامی ڈیفنس سسٹم نے اکثر اسرائیلی میزائیلوں کو فضا میں بھی ناکارہ بنا دیا، دوسری بات یہ ہے کہ شام نے فوراً ہی اسرائیل کے اہم ترین دفاعی و اسٹراٹیجک مقامات پر کامیاب جوابی حملہ کیا، شام کے اس فوری جوابی ردعمل کے نتیجے میں اسرائیل شدید خوف کا شکار ہو چکا ہے، اسرائیل عوام اپنے گھروں کو چھوڑ پر تہہ خانوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے، شامی حملہ اتنا شدید تھا کہ اسرائیل نے اس کا ذمہ دار ایران کو قرار دیا، لیکن ایران نے اسکی تردید کی کہ یہ حملہ شام نے کیا ہے، ہم نے نہیں، لیکن ایران نے واضح طور پر کہا ہے کہ شام پر جو بھی حملہ ہوگا، اس کا فوری جواب دیا جائے گا۔

اسلام ٹائمز: اسرائیل کے حوالے سے پاکستان و اسکی عوام کے جذبات کے حوالے سے کیا کہیں گے۔؟
علامہ احمد اقبال رضوی:
میں بحیثیت پاکستانی بات کر رہا ہوں، پاکستان کا قیام اسلامی نظریاتی بنیاد پر ہوا ہے، پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے، جس کے پاس ایک مضبوط فوج ہے، بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ نے واضح طور پر اسرائیل کے ناجائز وجود کا انکار کیا تھا کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا، قائداعظم کے اس حوالے سے بیانات ریکارڈ پر موجود ہیں۔ خود پاکستان کے پاسپورٹ میں واضح لکھا ہو اہے کہ یہ پاسپورٹ سوائے اسرائیل کے دنیا کے تمام ممالک کیلئے کارآمد ہے، یعنی پاکستانی اسرائیل کے علاوہ ہر جگہ جا سکتے ہیں، اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ ہم پاکستانی اسرائیل کے وجود کوتسلیم نہیں کرتے، اسے ناجائز سمجھتے ہیں، پاکستانی عوام ماضی میں چند سیاستدانوں کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ پینگیں بڑھانے کی تمام سازشوں کو ناکام بناچکی ہے، یہ بھی اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ پاکستانی عوام اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتی، پاکستانی عوام اسرائیل مخالف ہے، قائداعظم کا اسرائیل مخالف بیان ملک و قوم کیلئے بڑا رہنما اصول ہے، پاکستانی عوام اپنے قائداعظم محمد علی جناح کے اسرائیل مخالف رہنما اصول پر ماضی میں بھی عمل پیرا رہی، آج بھی ہے اور آئندہ بھی رہے گی۔

اسلام ٹائمز: پاکستان اور اسکی عوام اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتے اور اسرائیل مخالف ہیں، اس حقیقت کے پیش نظر مشرق وسطیٰ میں شام سمیت مسلم ممالک پر اسرائیلی امریکی جارحیت کے حوالے سے پاکستان کا کردار کیا ہونا چاہیئے۔؟
علامہ احمد اقبال رضوی:
خطے میں جنگ کے دو اہم نکتے ہیں، پہلا یہ کہ اسرائیل کے وجود کا تحفظ اور دوسرا یہ کہ خطے پر امریکا کا غلبہ قائم کرنا۔ عالمی استعماری بلاک اپنی پوری اسٹراٹیجی کو انہیں دو نکات کے تحت بناتے ہیں، اسی تناظر میں وہ پاکستان کو بھی دیکھتے ہیں۔ ماضی میں حکمرانوں نے پاکستان کو امریکا کی گود میں بٹھا دیا تھا، اسی کے نتیجے میں آج ہمارے ملک میں دہشتگردی و تباہ حالی ہے، اس وقت اقتصادی لحاظ سے بالکل صفر ہیں، پاکستان کو درپیش تمام تر مشکلات امریکا کی وجہ سے ہیں، جس میں امریکا کے آلہ کار بعض نام نہاد عرب ممالک بھی شریک ہیں، لیکن دنیا شاہد ہے کہ ماضی کے مقابلے میں پاکستان کے امریکا کے ساتھ جو اسٹراٹیجک روابط تھے، وہ اب اس طرح سے نہیں ہیں، پاکستان چین کے مزید نزدیک آیا ہے، روس کے نزدیک آیا ہے، امریکا نہ تو پہلے پاکستان کو سوٹ کرتا تھا، نہ اب کرتا ہے اور نہ آئندہ کریگا، کیونکہ امریکا ایک دھوکے باز ملک ہے، پوری دنیا پر یہ حقیت آشکار ہو چکی ہے کہ امریکا ایک شیطان، دھوکے باز، خبیث ملک ہے، جہاں بھی نفوذ کرتا ہے، اپنے شیطانی مفادات کیلئے کرتا ہے۔

اس وقت پاکستان کے حکمرانوں، سیاستدانوں کو اچھی طرح سے یہ باور ہو چکا ہے، کافی حد تک یہ بات سمجھ آئی ہے، اسی وجہ سے امریکا سے دوری بھی اختیار کی گئی ہے کہ اقتصادی سمیت دیگر تمام پہلوؤں سے پاکستان کو امریکا کے ساتھ تعلقات کا کوئی فائدہ نہیں ہوا، لہٰذا پاکستان کو غیر جانبدار رہنے کے بجائے ہر اس بلاک کا ساتھ دینا چاہیئے کہ جو امریکا و اسرائیل مخالف بلاک ہو، جو امریکا اور اسرائیل سے مقابلہ کر رہا ہو۔ شام یا ایران پر اگر امریکا یا اسرائیل جنگ مسلط کرتے ہیں، تو یہ عالمی جنگ ہوگی، جس میں چین، روس کو کودنا پڑے گا، دیگر ممالک بھی کودیں گے، لہٰذا اس حوالے سے پاکستان لاتعلق نہیں رہ سکتا، پاکستان کو اپنا مؤقف بالکل واضح کرنا چاہیئے، ایک مسلمان ملک ہونے کی حیثیت سے بھی کہ ہم مسلمان ہیں، رسول اکرمؐ کی امت ہیں، کفار، مشرکین، کفار جب عالم اسلام پر حملہ آور ہوتے ہیں، تو اس میں مسلم ملک کی حیثیت سے پاکستان کو بڑا واضح مؤقف اختیار کرنا چاہیئے اور سفارتی، سیاسی و تمام طریقوں سے استعماری، استکباری و طاغوتی قوتوں کو جس طرح سے بھی زک پہنچا سکتا ہے، مخالفت کر سکتا ہے، اسے کرنا چاہیئے۔

اسلام ٹائمز: پاکستانی عوام امریکا مخالف جذبات رکھتی ہے، لیکن ملک میں موجود امریکی آلہ کار عناصر نے عوام کو امریکی دشمنی کے ہی نام پر ہمیشہ منفی استعمال کیا، اس کا تدارک کیسے ممکن ہے۔؟
علامہ احمد اقبال رضوی:
امریکا اپنے لوگوں کو بلاواسطہ ایجنٹ بھی بناتا ہے اور اپنے مخالف لوگوں کے ساتھ بھی وہ بلواسطہ کھیل کھیلتا ہے اور اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرتا ہے، ہماری پاکستان کے اندر مختلف گروپس ہیں، این جی اوز ہیں، وہ امریکا مخالف عناصر کو امریکا کیلئے ہی استعمال کرتی ہیں، اس کے تدارک کیلئے ہمارے مذہبی لیڈران کا کردار بہت اہم ہے، امریکی سازشوں کو سمجھنے والے سیاستدانوں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے، ہماری اسٹیبلشمنٹ اور میڈیا کا کردار بھی بہت اہم ہے، ملک و قوم کو سمت دینے کے حوالے سے، اگر یہ اپنا اہم کردار ادا رکرینگے تو ان شاءاللہ ہماری عوام ان امریکی آلہ کار عناصر کے ہاتھوں میں نہیں کھیلے گی، ان کی سازشوں کا شکار نہیں ہوگی۔

اسلام ٹائمز: ایم ڈبلیو ایم 13 مئی کو، جبکہ امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان 16 مئی کو یوم مردہ باد امریکا منا رہی ہے، اس حوالے سے پھیلی ہوئی کنفیوژن کے حوالے سے کیا کہیں گے۔؟
علامہ احمد اقبال رضوی:
ہم سب استکبار، استعمار کے خلاف، شیطان بزرگ امریکا کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، قائد شہید علامہ سید عارف حسین الحسینی کی یاد میں امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان 16 مئی کو یوم مردہ باد امریکا منا رہی ہے، ہم سب اس میں اپنی فیملیز کے ساتھ شریک ہوتے ہیں، ان شاءاللہ اس سال بھی آئی ایس او 16 مئی کو یوم مردہ باد امریکا منائے گی اور بھرپور طریقے سے منائے گی اور اس میں ہم سب شریک ہونگے، مجلس وحدت مسلمین نے جو 13 مئی کو یوم مردہ باد امریکا کا اعلان کیا ، اس کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ 13 مئی کو اتوار ہے، چھٹی کا دن ہے، ایم ڈبلیو ایم کے لوگ برسرروزگار ہوتے ہیں، کاروباری ہوتے ہیں، تو انکا عام دنوں میں نکلنا ذرا مشکل ہوتا ہے، لیکن چھٹی والے دن ان کیلئے نکلنا آسان ہوتا ہے، لہٰذا 13 مئی کو یوم مردہ باد امریکا کا اعلان اسی وجہ سے کیا گیا، آئی ایس او کے 16مئی یوم مردہ باد امریکا کا ایک نکاتی ایجنڈا ہوتا ہے یعنی امریکا جس نے اسرائیل کے ناجائز وجود کو سب سے پہلے تسلیم کیا تھا، لیکن اس وقت خطے کی جو صورتحال تھی، شام پر امریکی حملہ، امریکی صدرٹرمپ کی جانب سے اپنا سفارتخانہ مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کا اعلان کرنا، اسی طرح مسلسل پاکستان کو دھمکیاں، ایران کو دھمکیاں، مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری ہندوستان کا ظلم و بربریت و جارحیت، جسے امریکی سرپرستی بھی حاصل ہے، تو یہ ساری چیزیں مجموعی طور پر اس بات کا باعث بنیں کہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری صاحب نے 13 مئی کو یوم مردہ بادامریکا منانے کا اعلان کیا۔

16 مئی کو یوم مردہ باد امریکا منانا آئی ایس او کا تنظیمی فیصلہ ہے، جس سے آگے پیچھے ہونا ان کیلئے مشکل تھا، لہٰذا ایم ڈبلیو ایم نے یوم مردہ باد امریکا کا الگ سے اعلان کیا، آئی ایس او جب 16 مئی کو پروگرام کرتی ہے تو اس میں صرف آئی ایس او ہوتی ہے، جبکہ ایم ڈبلیو ایم کا جو پروگرام ہے، اس میں دیگر سیاسی اور مذہبی جماعتوںکو بھی دعوت دی گئی ہے، دیگر شیعہ جماعتوںکو بھی دعوت دی گئی ہے، اس کا دائرہ کار تھوڑا وسیع ہے، لہٰذا سوشل میڈیا پر بیٹھے ہوئے لوگ اس قت مختلف اطراف سے ایک دوسرے کے خلاف باتیںکر رہے ہیں، میں ان تمام سے درخواست کروں گا کہ آپ خدا کیلئے یہ کام نہ کریں، اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے، اس کا فائدہ سراسر امریکا کو ہوگا، ہم سب کا دشمن امریکا ہے، ہمیں اس کے خلاف بات کرنی چاہیئے، یوم مردہ باد امریکا دراصل امریکا کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے کا دن ہے، نہ یہ کہ ایک دوسرے کے خلاف ہم احتجاج شروع کر دیں

چلیں بہتر ہوتا ایک دن یہ پروگرام ہو جاتا، لیکن فرض کر لیں کہ دو تنظیمیں الگ الگ دن کر رہی ہیں، تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، آپس میں ہم آہنگی کے ساتھ چلا جا سکتا ہے، آپ ان کے پروگرام میں شریک ہوں، وہ آپ کئے پروگرام میں شریک ہوں، دونوں ایک ہی مقصد و ہدف کے تحت آگے بڑھ رہے ہیں اور احتجاج کر رہے ہیں، تو اس میں کسی قسم کا کوئی مسئلہ نہیں ہے، علامہ راجہ ناصر عباس جعفری صاحب نے جو یوم مردہ باد امریکا منانے کی اپیل کی ہے کہ اس دن سارے لوگ جمع ہوں اور فرمان جو ہے وہ شہید قائد علامہ سید عارف حسین الحسینی کا ہے، بلکہ میں تو کہتا ہوں کہ اصل فرمان تو امام خمینیؒ کا فرمان ہے، اصل میں امریکا کے خلاف شعور تو ہمیں امام خمینیؒ نے دیا ہے، لہٰذا شہید قائد نے وہی آواز پاکستان میں بلند کی، شہید ڈاکٹر سید محمد علی نقوی نے اسی آواز کو پاکستان میں بلند کیا

آج ایم ڈبلیو ایم بھی اگر امریکا مخالف شعور رکھتی ہے، استعمار، استکبار و طاغوت کے خلاف شعور رکھتی ہے تو وہ شہید قائد علامہ سید عارف حسین الحسینی اور شہید ڈاکٹر سید محمد علی نقوی کی وجہ سے رکھتی ہے، آئی ایس او وہ جماعت ہے، جس نے آج تک امریکا کے خلاف علم بغاوت کو بلند کر رکھا ہے، آج تک پاکستان میں جو یوم مردہ باد امریکا منایا جا رہا ہے، پاکستان میں امریکا مخالف احساسات موجود ہیں، اس میں آئی ایس او کا کلیدی کردار ہے، پاکستان میں آئی ایس او کے امریکا مخالف کردار و خدمات سے، عوام کو شعور دینے کے حوالے سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا اور نہ کرنا چاہیئے، آئی ایس او کی اس خدمت کو قبول کرنا چاہیئے، لہٰذا آئی ایس او کے برادران ہوں یا ایم ڈبلیو ایم کے برادران ہوں، دونوں ایک ہی مقصد و ہدف کیلئے آگے بڑھ رہے ہیں، اور ہم سب آپس میں بھائی ہیں اور ان شاءاللہ 13 مئی بھی پھربور طریقے سے منائیں گے اور 16 مئی بھی ان شاءاللہ بھرپور طریقے سے منائیں گے۔

اسلام ٹائمز: 13 مئی و 16 مئی یوم مردہ باد امریکا کی مناسبت سے کیا کہیں گے۔؟
علامہ احمد اقبال رضوی:
تیرہ مئی کو مجلس وحدت مسلمین یوم مردہ باد امریکا منا رہی ہے، اسی طرح سے سولہ مئی کو امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان یوم مردہ باد امریکا منا رہی ہے، فلسطین فاؤنڈیشن و دیگر گروہ بھی اس حوالے سے پروگرامات کا انعقاد کر رہی ہیں، یہ ساری فعالیت بھی عوام کو شعور دینے، انہیں امریکا اور اسکے آلہ کاروں کی سازشوں سے بچانے کی ایک کڑی ہے، الحمداللہ مکتب تشیع کے ماننے والوں میں سیاسی شعور نسبتاً بہتر ہے، مکتب اہلبیت کے ماننے والے چونکہ کربلا سے وابستہ ہیں تو ان کے اندر شروع سے ہی امریکا مخالف جذبات موجود ہیں، حتیٰ انقلاب اسلامی ایران سے پہلے بھی امریکا مخالف جذبات موجود تھے، ایک استکبار و استعمار کی حیثیت سے امریکا کو اہل تشیع مسلمان قبول نہیں کرتے تھے، جبکہ آج تو شیعوں میں بہت زیادہ شعور ہے، پاکستان میں بھی اہل تشیع مسلمانوں نے نہ تو کبھی امریکا کو قبول کیا ہے اور نہ اس وقت وہ امریکا برداشت کرنے کو تیار ہیں، اہل تشیع اپنے دیگر اہل سنت بھائیوں کے ساتھ، و دیگر لوگوں کے ساتھ، جو واقعاً محب وطن ہیں، اسلام پسند ہیں، ان کے ساتھ ملکر پاکستان کے اندر امریکا و اسرائیل مخالف محاذ کو مضبوط کرینگے، ان شاءاللہ۔ عالمی استکبار و استعمار و طاغوت کے حوالے سے، جو کچھ دنیا میں ہو رہا ہے، خطے میں جو کچھ ہو رہا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ اہل تشیع مسلمانوںکا کردار بہت کلیدی ہے۔

پاکستان میں امریکا و اسرائیل مخالف تحریک اٹھانے میں، مردہ باد امریکا، اسرائیل نامنظور کے نعرے کو زندہ رکھنے میں اہل تشیع مسلمانوں نے، شیعہ تنظیموں نے انتہائی کلیدی کردار ادا کیا ہے، آج بھی یوم مردہ باد امریکا منایا جا رہا ہے، یہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے، پوری قوم کو مردہ باد امریکا کی ریلیوں، مظاہروں، احتجاج، پروگرامات میں ضرور شرکت کرنی چاہیئے، تاکہ فلسطین، مقبوضہ کشمیر سمیت دنیا کی تمام مظلوم اقوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا جا سکے، خود ہندوستان کے پیچھے بھی امریکا ہی ہے، ہندوستان کی سرپرستی بھی تو امریکا ہی کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر پر بھارتی مظالم و جارحیت کے پیچھے یا تو صیہونی ہیں یا امریکی ہیں، لہٰذا ہمیں شرعی، قومی، اخلاقی فریضے کے طور پر یوم مردہ باد امریکا منانا چاہیئے، جس طرح امام خمینیؒ نے ’لاشرقیہ لا غربیہ‘ کا نعرہ لگایا تھا، ہمیں بھی اسی طرح ثابت کر دینا چاہیئے کہ نہ ہم لیفٹ کے ساتھ ہیں اور نہ ہم رائٹ کے ساتھ ہیں، ہم صرف اسلام کے ساتھ ہیں، ہم اپنے وطن کے ساتھ ہیں، لہٰذا پاکستان میں بھی امریکا کے خلاف مزاحمت کرنے والی حقیقی قوتیں موجود ہیں اور عوام کو شعور دے رہی ہیں۔
خبر کا کوڈ : 724211
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے