0
Monday 14 May 2018 22:29
عوام کو بھڑکانے سے کسی کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا

ملوکانہ اور ملحدانہ سامراج نے ہمیشہ مسلمانوں کے درمیان غلط باتیں منسوب کرکے پروپیگنڈا کیا ہے، غلام علی گلزار

تقسیم برصغیر سے لیکر اب تک ڈیڑھ لاکھ انسانوں کا خون بہایا گیا ہے
ملوکانہ اور ملحدانہ سامراج نے ہمیشہ مسلمانوں کے درمیان غلط باتیں منسوب کرکے پروپیگنڈا کیا ہے، غلام علی گلزار
مقبوضہ کشمیر کے مایہ ناز مفکر، سماجی کارکن اور قلمکار مولانا غلام علی گلزار فعلاً کشمیر طبیہ کالج سرینگر میں بحثیت پروفیسر مصروف ہیں، اسکے علاوہ مذکورہ ادارے سے شائع ہونیوالے جریدے علم و حکمت کے مُدیر بھی ہیں، ساتھ ہی ساتھ مجلس اتحاد ملت جو اسلامی انجمنوں و دانشوروں کا ایک فورم ہے، کے جوائنٹ سیکرٹری کے طور پر اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں، غلام علی گلزار 1976ء تک انجمن تحفظ اسلام کے جنرل سیکرٹری بھی رہ چکے ہیں، 1972ء سے 1976ء تک مسلم پرنسل لاء فورم کے سیکرٹری رہ چکے ہیں، اسکے علاوہ تنظیم المکاتب معاون کمیٹی کشمیر کے نگران سیکرٹری کے فرائض تقریباً 24 سال انجام دیئے، وہ تحریک مکاتب امامیہ اور تحریک نفاذ شریعت کے بانی بھی ہیں، مولانا غلام علی گلزار 90 سے زائد کتابوں کے مصنف بھی ہیں اور انکی چند ایک کتب ابھی زیر طبع بھی ہیں، اسلام ٹائمز نے مفکر اسلام مولانا غلام علی گلزار سے محرم الحرام کی مناسبت پر ایک خصوصی انٹرویو کا اہتمام کیا، جو قارئین کرام کی خدمت میں پیش ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: تحریک آزادی کشمیر کو منطقی انجام تک پہنچانے کے حوالے سے ہمیں کیا لائحہ عمل اپنانا چاہیئے۔؟
غلام علی گلزار:
دیکھئے میں نے مقبوضہ کشمیر میں تحریک نفاذ شریعت کی بنیاد ڈالی ہے لیکن میرے کچھ اپنے اصول ہیں، جو اس طرح ہیں کہ جب تک امامت نہ ہو، تب تک مسلمانوں کے عالمی مسائل حل نہیں ہوسکتے ہیں اور وہ کسی انقلاب سے ہمکنار نہیں ہوسکتے ہیں، امامت کا مطلب حالیہ طور پر یہ نہیں ہے کہ امامت اِمپلیمنٹ ہو جائے، فعلاً یہ نہیں ہوسکتا ہے، امپلیمنٹ میرے کہنے سے پوری دنیا میں نہیں ہوسکتا ہے، امامت کا مسئلہ جو ہے وہ الگ چیز ہے، وہ ہم زبردستی ٹھوس نہیں سکتے ہیں، لیکن علامہ اقبال (رہ) کا جو تصور امامت ہے، تمام عالم اسلام میں امامت کو منظم ہونا چاہیئے، وہ ایک کونسل ہوسکتی ہے، معنوی سطح پر ہمیں امامت کو تلاش کرنا چاہیئے یعنی آج مسلمانوں میں امامت نہیں ہے، امت مسلمہ امام کے بغیر ہے، ایک محدود سطح پر ایران میں ہے اور جمہوری اسلامی ایران کی جو صالح قیادت ہے، اس کو امامت کی شکل میں، نائب امام کی شکل میں ہم سمجھتے ہیں۔

عالمی سطح پر تمام مسلمانوں میں ایک نظم ہونا چاہیئے، میں نے کئی سیمینارز میں یہ بات کہی ہے اور میں یہ پیغام سنانا چاہتا ہوں کہ تمام مسلمانوں کو ایک اجتہاد عالمی مرکزیت میں منظم ہونا چاہیئے، جب تک وہ عالمی اجتہادی مرکزیت میں منظم نہیں ہونگے، تب تک دنیائے اسلام میں کوئی خالص انقلاب نہیں آسکتا، تمام مسلمانوں کو ایک اجتہادی مرکز کی جانب توجہ مبذول کرنی چاہیئے، لیکن اہل تشیع اقلیت میں ہونے کے باعث ایکٹو رول ادا نہیں کرسکتے ہیں، لیکن میں ان تمام غیر شیعہ حلقوں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ عالمی سطح پر ایک عالمی اجتہادی مرکز میں جمع ہو جائیں، جب مسلمانان جہاں ایک پلیٹ فارم پر منظم ہونگے، تب انہیں سیاسی قیادت بھی میسر ہوگی، جب دینی قیادت مجتمع نہیں ہوگی، تب تک تمام مسائل میں چاہے وہ عراق کا مسئلہ ہو یا افغانستان کا مسئلہ ہو یا چیچنیا کا مسئلہ ہو یا فلسطین یا کشمیر یا پھر شام کا مسئلہ ہو، اختلاف رہے گا اور یہ اختلاف سیاسی سطح پر بھی نظر آئے گا۔

اسلام ٹائمز: آئے روز امریکہ و اسرائیل کی اسلام دشمنی میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ امریکہ کی اسلام دشمن سازشوں کو کیسے توڑا جاسکتا ہے۔؟
غلام علی گلزار:
دیکھئے سب سے بڑی بات یہ ہے کہ مسلمانوں کو جہاں تک کلمہ کا تعلق ہے، اس پر سیمیناز ہونے چاہیئیں، رسول اکرم (ص) کی شان میں سیمینارز کرنے کی ضرورت ہے، رسول اکرم (ص) کی حیات و سیرت پر سیمینارز انعقاد کرنے کی ضرورت ہے۔ جب یورپ ایک ہوگیا تو اسلامی ممالک ایک کرنسی یا ایک خارجہ پالیسی میں کیوں نہ جُٹ جائیں، کیا اس لئے امام خمینی (رہ) کی بات نہیں ماننی چاہیئے کہ وہ شیعہ لیڈر تھے، علامہ باقر الصدر شیعہ عالم و لیڈر تھے، اس لئے ان کا اسلامی بینک نظام لاگو نہیں ہونا چاہیئے، یہ سراسر تنگ نظریہ ہے، مسلمانوں کو اس طرح تنگ نظر ہرگز نہیں ہونا چاہیئے، اہل تسنن میں علامہ اقبال (رہ) اور علامہ مودودی (رہ) اور محمد سلطوط (رہ) بہت معروف شخصیت ہیں، اس لئے کہ ان کے خیالات تنگ نہیں ہیں، اسی طرح امام خمینی (رہ) اور علامہ اقبال (رہ) کے خیالات کو Flourish ہونا چاہیئے اور تمام عالم اسلام میں Implement ہونے چاہیئے۔ اسلامی بینک علامہ باقر الصدر کے Guidelines کے تحت منظم ہونا چاہیئے، تمام عالم اسلام کے چند ممالک میں ہوچکا ہے، ایران نے امریکہ کے ڈالر کو شکست دی، جب اسلامی بینک علامہ کے کہنے پر انہوں نے قائم کیا، دوسری بات یہ ہے کہ امام خمینی (رہ) نے کہا کہ حج صرف مناسک نہیں ہے، یہ سالانہ عالمی کانفرنس و عالمی سیمینار ہے، تمام مسلمانوں کی اسی لئے Ecominics کو الگ وہاں سیمینار کرنا چاہیئے، تاجروں، سائنسدانوں، سیاست کاروں کو وہاں الگ الگ سیمینارز کرنے چاہیئیں۔ حج کے دوران مختلف محققین کا سیمینار ہونا چاہیئے، کیونکہ جغرافیہ بھی تقاضہ کرتا ہے، معدنیات کے ذخیرے بھی تقاضہ کرتے ہیں اور مسلمانوں کا تناسب آبادی بھی تقاضہ کرتا ہے کہ مسلمانوں کو ایک بلاک میں منظم ہونا چاہیئے۔

اسلام ٹائمز: دین و سیاست میں آپسی ربط اور اسلامک اسٹیٹ کے بارے میں آپکی رائے جاننا چاہینگے۔؟
غلام علی گلزار:
میرا اعتقاد ہے کہ دین اور سیاست دو الگ الگ جیزیں نہیں ہوسکتیں اور اسلامک اسٹیٹ رسول اللہ نے خود بنائی ہے، اس کے بعد مسلمانوں میں امامت و خلافت کا ایک اختلاف رہا، لیکن آج بھی اگر مسلمانوں کے تمام فرقے کم از کم مشترکہ بنیاد پر یعنی قرآن و سنت کی روشنی میں متفق ہو جائیں، تو وہ ایک اسلامی ریاست و اسلامی آئین بنا سکتے ہیں اور دین اسلام میں اتنی گنجائش ہے جبکہ دوسرے مذاہب میں وہ گنجائش ہرگز نہیں پائی جاتی ہے، اسی لئے مائیکل ہارٹ نے 100 عظیم آدمیوں میں حضرت محمد مصطفٰی (ص) کو نمبر ایک پر رکھا تھا، کیونکہ رسول خدا (ص) نے ایک اسلامی آئین اور ایک اسلامی ریاست بنائی، جس میں انہوں نے تمام بنیادی آسپیکٹس یعنی سیاسی، سماجی، اصلاحی، اقتصادی اور روحانی آسپیکٹس کو ایک مکمل شکل دی، جو جامعیت کسی بھی دوسرے مذہب میں دیکھنے کو ہرگز نہیں ملتی ہے۔

اسلام ٹائمز: دور حاضر میں مسلم امت کی زبوں حالی میں سوشل میڈیا کے منفی رول کو آپ کن الفاظ میں بیان کرنا چاہیں گے۔؟
غلام علی گلزار:
دیکھئے، آج امت مسلمہ انتہائی نازک دور سے گذر رہی ہے، لیکن بعض تنگ ظرف خطیبوں اور منچلے نوجوانوں کی طرف سے سوشل میڈیا پر غیر ذمہ دارانہ بیانات کا مظاہرہ ہوتا ہے، جس سے مسلمانوں کے درمیان تعصب اور نفرت بڑھتی ہے اور غلط فہمی میں اضافہ ہوتا ہے۔ اب ایسے ماحول میں اہل علم اور صاحبان خطابت کو ایک دوسرے کے نزدیک آکر باہمی اختلاف اور موقف کی اصلیت کو جان لینے کے لئے تبادلہ نظر کرنا چاہیئے، عوام کو بھڑکانے سے کسی کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ ملوکانہ اور ملحدانہ سامراج نے ہمیشہ مسلمانوں کے درمیان غلط باتیں منسوب کرکے پروپیگنڈا کیا ہے، مصدقہ اور اصل ذرائع سے حقیقت تلاش کرنی چاہئے۔ بعض پروفیشنل خطیب اور واعظ، ایجنسیوں کے ہاتھوں استعمال ہوتے ہیں، ان سے ہوشیار رہنا چاہیے۔ سوشل میڈیا کی ہر بات کو حرف آخر نہیں سمجھنا چاہیے۔

اسلام ٹائمز: سوشل میڈیا پر ہی مسلمان ایک دوسرے کیخلاف کفر اور شرک کے فتوے دے رہے ہیں، اس پر آپکی تشویش جاننا چاہینگے۔؟
غلام علی گلزار:
دیکھئے کوئی عالم، مجتہد چاہے وہ کسی بڑے مدرسہ سے علم حاصل کرچکا ہو، بنیادی عقائد دین کے پابند معروف مکاتب فکر کے کسی مسلمان کو ’’کافر‘‘ قرار نہیں دے سکتا ہے۔ سوشل میڈیا کو نفرت پھیلانے کا ذریعہ نہیں ہونا چاہیئے بلکہ محبت اور وحدت کا درس دینے کے لئے استعمال ہونا چاہیئے۔ اہل علم کی عزت و زینت اسی میں ہے کہ وہ حسن اخلاق سے نصیحت و تبلیغ کریں۔ شدت پسند لہجہ اور دھونس دباؤ سے پرہیز کریں، ایسا کرنے سے ان کے متعلق جاہلانہ تصور پیدا ہوگا۔ جو شخص اصول و موقف سے واقفیت نہ رکھتا ہو، اسے آنکھ بند کرکے لب کشائی زیب نہیں دیتی۔ اہل اسلام کو کسی کے مفاد میں مزدور بن کر استعمال نہیں ہونا چاہیے۔

اسلام ٹائمز: موجودہ تشویشناک صورتحال سے نجات کیلئے کیا لائحہ عمل اپنانا ہوگا۔؟
غلام علی گلزار:
برادرانہ رابطہ سے ایک دوسرے کے نزدیک آکر اور مصدقہ ذرائع سے جانکاری کی کوشش کرکے اختلافات کی فضا ختم ہوسکتی ہے۔ مصالحانہ انداز الگ ہوتا ہے اور منافقانہ انداز الگ ہوتا ہے۔ آج دنیا میں مسلمان پریشان ہیں، ایسے میں غیرت دین اور درد امت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ تمام مسلمانوں کے عقیدہ و عمل کی بنیاد قرآن اور سنت رسول (ص) ہے، اس کے حصول کی لگن میں وسائل پر تفرقہ پیدا نہیں کرنا چاہئے، سب کو آخرت میں جواب دینا ہے۔

اسلام ٹائمز: مسئلہ کشمیر کے التوا میں رہنے کے مضر اثرات اور اس مسئلہ کے حل کے حوالے سے بھارت و پاکستان کو کیا حکمت عملی اپنانی ہوگی۔؟
غلام علی گلزار:
وقت کی ضرورت ہے کہ کشمیر میں ہر دین و مذہب کے ماننے والوں کے درمیان گفت و شنید کا باب کھولا جائے۔ مخالف نظریہ کا جواب گولی سے دینے کی روایت بند ہونی چاہئے۔ ہمیں سب کی بات سننی ہوگی اور مل جل کر کسی منصفانہ راہ حل کی جانب بڑھنا چاہئے۔ کشمیری اس مسئلے کے اصل فریق ہیں، پاکستان طبیعی طور پر فریق بن گیا تھا اور بھارت زبردستی فریق بن بیٹھا ہے۔ نئے تقاضوں کے مطابق نئے انداز سے مسئلہ کشمیر ہر سوچنے کی ضرورت ہے۔ تقسیم برصغیر سے لیکر اب تک ڈیڑھ لاکھ انسانوں کا خون بہایا گیا ہے اور بھارت کا یہ ظلم تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔ اب وقت آچکا ہے کہ کشمیریوں کی آواز سنی جائے اور عالمی طاقتیں اس مسئلے کے حل کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔

اسلام ٹائمز: پاکستان و بھارت کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے آپکی رائے جاننا چاہینگے۔؟
غلام علی گلزار:
میرے خیال میں مذاکراتی مشق ایک ڈرامہ ہے اور یہ ڈرامہ تب تک ختم نہیں ہوسکتا، جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوگا، مسئلہ کشمیر ایک تاریخی حقیقت ہے، میرے خیال میں مسئلہ کشمیر دو یا تین مراحل میں یا مختصر مدت میں حل نہیں ہوگا، کشمیر کے لئے ایک بہترین حل یہ ہوسکتا ہے کہ کشمیر آزاد مملکت رہے اور کشمیر کو اندرونی خود مختاری حاصل ہو اور پاکستان کے ساتھ کرنسی میں یا Defence میں اور خارجی معاملات میں اُس کا الحاق ہو، لیکن کشمیر کا اپنا جغرافیہ و سالیمت ہے، اس کا اپنا کلچر ہے، جب یہ سارے Constituents کشمیر کے مل جائیں تو یہ ایک مملکت بن سکتی ہے اور آخری بات یہ ہے کہ پاکستان کو مضبوط ہونا چاہیئے، پاکستان کا وجود بھارتی مسلمانوں کے لئے بھی ضروری ہے اور کشمیر کے لئے بھی، لیکن پاکستان کو ختم کرنے سے کشمیر کا مسئلہ ختم نہیں ہوگا، بہتر یہ ہے کہ پاکستان مضبوط ہو اس سے جنوبی ایشیاء میں امن قائم ہوگا۔
خبر کا کوڈ : 724632
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب