0
Thursday 17 May 2018 00:12
رضا ربانی کے بعد صادق سنجرانی کو سینیٹ کی مضبوطی کیلئے کام کرنا ہوگا

محمود خان اچکزئی منظور پشتین کے ذریعے سیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں، سینیٹر کہدہ بابر

سی پیک کے نام پر تمام فنڈز پنجاب میں خرچ کئے جا رہے ہیں
محمود خان اچکزئی منظور پشتین کے ذریعے سیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں، سینیٹر کہدہ بابر
کہدہ بابر صوبہ بلوچستان سے منتخب ہونیوالے نومنتخب سینیٹر ہیں۔ وہ بلوچستان کے علاقے گوادر میں پیدا ہوئے۔ اس سے قبل وہ صوبائی اسمبلی کی نشست کیلئے انتخابات میں حصہ لے چکے ہیں، لیکن کامیاب نہیں ہوئے۔ سینیٹر کہدہ بابر کو بلوچستان عوامی پارٹی کی تشکیل میں نمایاں حیثیت حاصل ہے۔ سینیٹ انتخابات اور بلوچستان کی سیاسی صورتحال سے متعلق اسلام ٹائمز نے سینیٹر کہدہ بابر سے مختصر گفتگو کی ہے، جو قارئین کرام کی خدمت میں پیش ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: سینیٹ انتخابات میں بہت سے اراکین نے اپنی وفاداریاں تبدیل کیں۔ اس تناظر میں کیا الیکشن کیلئے سیکریٹ بیلٹ کا نظام درست ہے۔؟
سینیٹر کہدہ بابر:
پچھلے انتخابات میں بھی سینیٹ انتخابات کے موقع پر چار ووٹ منسوخ کئے گئے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ چار لوگ کسی کو ووٹ دینا نہیں چاہتے تھے۔ اب آپ یہ کہیں کہ انہوں نے اپنی وفاداریاں تبدیل کیں یا پارٹی سے غداری کی، تو میں اس بات کو درست نہیں سمجھتا۔ سیکریٹ ووٹنگ کا مقصد ہی یہی ہے کہ ہر کوئی اپنی مرضی کے مطابق اپنا ووٹ کاسٹ کرے، چاہے وہ اسکی پارٹی کی مرضی کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ سیکریٹ بیلٹ کا مقصد ہی یہی ہے کہ کوئی بھی رکن کسی قسم کے خوف کے بغیر اپنا ووٹ کاسٹ کرے۔

اسلام ٹائمز: رضا ربانی صاحب کی بہترین کارکردگی کے باوجود چیئرمین سینیٹ کیلئے انہیں کیوں دوبارہ منتخب نہیں کیا گیا۔؟ گو کہ صادق سنجرانی صاحب کا تعلق ایک پسماندہ صوبے سے ہے، لیکن اس ادارے کو چلانے کیلئے ایک تجربہ دار شخصیت کی ضرورت ہوتی ہے۔؟
سینیٹر کہدہ بابر:
رضا ربانی صاحب نے جس مقام پر سینیٹ کو پہنچایا، اب ہماری ذمہ داری ہے کہ ان کے مشن کو آگے لے کر جائیں۔ آپ نے خود رضا ربانی صاحب کی تقریر سنی ہوگی، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ سینیٹ ہاؤس آف فیڈریشن ہے، جس میں تمام صوبوں کی نمائندگی برابری کی بنیاد پر ہے۔ لہذا آج سینیٹ ایک آئینی اور سب سے طاقتور ادارے کے طور پر ابھرا ہے اور ہمیں اسے مزید مضبوط بنانا ہوگا۔ چیلنجز کا سامنا تو ہمیں بہت زیادہ ہوگا، اس میں کوئی دو رائے نہیں ہیں۔ رضا ربانی صاحب خود ایک پرانے آدمی تھے اور تمام سینیٹرز ان کو جانتے تھے، جبکہ صادق سنجرانی صاحب کے معاملے میں ایسا نہیں ہے۔ لیکن صادق سنجرانی صاحب کی کارکردگی کو ابھی تک دیکھنا باقی ہے۔ ہم کسی سے متعلق پہلے اپنی آراء قائم نہیں کرسکتے، بلکہ وقت بتائے گا کہ صادق سنجرانی کس حد تک کامیاب ہو پائیں گے۔

اسلام ٹائمز: محمود خان اچکزئی صاحب منظور پشتین کی بھرپور حمایت کر رہے ہیں۔ کیا انہیں معلوم نہیں کہ پی ٹی ایم کی شکل میں غیر ملکی عناصر اپنے مفادات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔؟
سینیٹر کہدہ بابر:
ایک چیز پشتون قومی سیاست ہے، جس کی اجازت پاکستان میں تھی، ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ اس کے بانی باچا خان صاحب تھے، لیکن بدقسمتی دیکھیئے کہ جس قوم کی تحریک باچا خان صاحب سے شروع ہوئی تھی، آج وہ منظور پشتین جیسے افراد پر آ رکی ہے۔ یہ پاکستان کی پوری پشتون قوم کے لئے ایک لمحہ فکریہ ہے۔ پشتونخوامیپ جیسی جماعتیں اس تحریک کے ذریعے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرنا چاہتی تھیں، لیکن اس دوران وہ پوری پاکستانی قوم کے سامنے عیاں ہوچکے ہیں۔ فاٹا کے حوالے سے ہمارے جو معاملات ہیں، ہم اسے خود حل کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں اور ہمیں باہر سے کسی کی مدد یا رائے کی ضرورت نہیں۔

اسلام ٹائمز: فاٹا کی اسی فیصد عوام کے پی کے میں‌ شامل ہونا چاہتی ہے، لیکن صرف محمود خان اچکزئی اس کام کیخلاف ہیں۔ اس حوالے سے آپ کیا کہنا چاہیں گے۔؟
سینیٹر کہدہ بابر:
محمود خان اچکزئی کے پاس بلوچستان کے سوا دو اضلاع کی نمائندگی موجود ہے اور اس کی بنیاد پر وہ پورے پاکستان کی پشتون قوم کے فیصلے نہیں کرسکتے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اسمبلی کی مدت ختم ہونے سے پہلے فاٹا کے عوام کو ایک خوشخبری ضرور ملے گی۔

اسلام ٹائمز: گوادر کے حوالے سے کیا کہنا چاہینگے۔؟ کیا مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے وعدوں کیمطابق ترقیاتی منصوبوں پر کام کئے۔؟
سینیٹر کہدہ بابر:
بدقسمتی سے ہمارے حکمرانوں کو بلوچستان کے خزانے تو نظر آتے ہیں، لیکن بلوچستانی عوام کے حقوق انہیں نظر نہیں‌ آتے۔ پاکستان بھر میں‌ آج سی پیک کی باتیں کی جا رہی ہیں، لیکن آج تک گوادر میں پینے کا صاف پانی بھی میسر نہیں۔ کیا بلوچستان کے وسائل پر وہاں کے عوام کا کوئی حق نہیں۔؟ مجھے صوبہ پنجاب سے کوئی دشمنی نہیں، وہاں رہنے والے لوگ بھی میرے پاکستانی بھائی ہیں، لیکن کیا سی پیک کے نام پر صرف پنجاب میں‌ اربوں ڈالر خرچ ہونا تھے۔؟ صوبہ بلوچستان کے لئے اب تک کتنے فنڈز خرچ کئے گئے، یہ ہم سب کو معلوم ہے۔

اسلام ٹائمز: گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی خدمات اس حوالے سے کیا رہی ہے۔؟
سینیٹر کہدہ بابر:
گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو 2004ء میں بنایا گیا تھا اور اس کے لئے آئندہ دس سالوں کے لئے 25 ارب روپے کے فنڈز مختص کئے گئے تھے، لیکن بدقسمتی سے اس فنڈز میں سے پچاس فیصد بھی ابھی تک ہمیں نہیں ملا۔ ابھی بھی چودہ ارب روپے ہمیں نہیں ملے۔

اسلام ٹائمز: حالیہ سینیٹ انتخابات میں بلوچستان سے آپکا گروپ چھ سینیٹر منتخب کروانے میں کامیاب رہا، لیکن آپ نے کسی اور سیاسی جماعت میں شمولیت کی بجائے آزاد رہنے کو ترجیح کیوں دی۔؟
سینیٹر کہدہ بابر:
حالیہ سینیٹ انتخابات میں ہماری کامیابی بلوچستان کے غیور اراکین اسمبلی کی وجہ سے ممکن ہوئی۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ زرداری صاحب نے ہمارے گروپ کو کافی سپورٹ کیا، لیکن ہماری ترجیحات میں اس مرتبہ وفاق کی بجائے خود پر انحصار کرنے کی سوچ تھی۔ بلوچستان میں اس سے قبل وفاق کی سیاسی جماعتیں اپنی سیاست کرتی آئی ہیں، لیکن بدقسمتی سے صوبے کو اس کے خاطر خواہ نتائج نہیں ملے۔ اسی وجہ سے ہم نے فیصلہ کیا کہ کسی بھی دوسری جماعت میں ہم شامل نہیں ہونگے۔

اسلام ٹائمز: بلوچستان عوامی پارٹی کی تشکیل کے پیچھے مقتدر قوتوں کے ہونیکا الزام لگایا جاتا ہے، اس بات میں کتنی صداقت ہے۔؟
سینیٹر کہدہ بابر:
بلوچستان عوامی پارٹی اس صوبے کی تاریخ میں بہت اہمیت رکھتی ہے۔ اس گروپ میں بلوچ، پشتون، ہزارہ سمیت دیگر تمام افراد شامل ہیں، جو بلوچستان کی ترقی پر یقین رکھتے ہیں۔ بلوچستان میں ایک پتہ بھی اگر ہلے تو اس کا الزام فوج پر لگایا جاتا ہے۔ میں آپ کے توسط سے پوری پاکستانی قوم کو بتانا چاہتا ہوں کہ اب بلوچستان کے حقیقی نمائندے اپنے صوبے کے حقوق لینے کے لئے میدان میں اترے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ پوری پاکستانی قوم اس مشن میں ہمارا ساتھ دے گی۔
خبر کا کوڈ : 725243
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے