1
0
Friday 4 Nov 2011 01:04

کرم نیا امن معاہدہ علاقے میں امن کی بجائے حقانی نیٹ ورک کو اپر کرم میں پناہ دینا ہے

کرم نیا امن معاہدہ علاقے میں امن کی بجائے حقانی نیٹ ورک کو اپر کرم میں پناہ دینا ہے
اسلام ٹائمز۔ یوتھ آف پاراچنار کی طرف سے جاری ہونے والے مفصل بیان میں وہ حقائق دئیے گئے ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت امن کے قیام میں مخلص نہیں۔ یوتھ آف پاراچنار تعلیم یافتہ اور باشعور جوانوں کا پلیٹ فارم ہونے کی وجہ سے حکومت و جرگہ کی طرف سے کرم ایجنسی میں امن کوششوں کی ہمیشہ سے حمایت کرتی چلی آ رہی ہے اور آئندہ بھی کرتی رہے گی لیکن امن معاہدے کی آڑ میں کسی نئے کھیل اور سالہا سال سے ظلم و جبر کی چکی میں پسنے والے پاراچنار کے طوری بنگش قبائل کو مزید مسائل و مشکلات کا شکار نہیں ہونے دے گی۔ 
امن کے قیام اور معاہدے کی آڑ میں پاراچنار شہر کے اندر قدم قدم پر آرمی کے چیک پوسٹیں قائم کرکے سینکڑوں سکیورٹی فورسز کی تعیناتی عوام کے انسانی حقوق کی پامالی کے ساتھ ساتھ اس بات کا قوی امکان ہے کہ ایک بار پھر حقانی نیٹ ورک کو شمالی وزیرستان سے اپر کرم میں محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنا ہے، جس کی ہم اجازت نہیں دے سکتے کیونکہ ہم نے گزشتہ تیس سالوں میں طالبان کے ہاتھوں کئی زخم اٹھائے ہیں، جس کی واضح مثال یہ ہے کہ اسی طرح ستمبر 1996ء میں امن کے قیام کے بہانے اس وقت کے وزیر داخلہ نصیراللہ بابر کے حکم پر پاراچنار شہر میں سینکڑوں کی تعداد میں سکیورٹی فورسز تعینات کرکے علاقے میں طالبان لائے گئے اور پھر ان طالبان نے کافر کافر کے فتوے لگا کر کرم ایجنسی میں طوری بنگش قبائل کا قتل عام کیا اور پھر دو ہفتوں کے اندر اندر پاراچنار سے متصل افغانستان کے چار صوبوں بشمول افغان دارالحکومت کابل میں طالبان حکومت قائم کرنے کا اعلان کیا گیا۔ چونکہ گزشتہ تیس سالوں میں امریکی سی آئی کے شروع کردہ نام نہاد جہاد اور مجاہدین سے لے کر طالبان کے فتنے تک ہر دور میں پاراچنار کو استعمال کیا گیا اسلئے ہم مزید قربانی کا بکرا نہیں بن سکتے۔
مری معاہدے اور پاراچنار نئے امن پلان کے مطابق پوری کرم ایجنسی بشمول ٹل و دوآبہ میں لوئر کرم چھپری چیک پوسٹ سے لے کر اپر کرم تک ٹل پاراچنار روڈ کو محفوظ کرنے کے لئے چیک پوسٹوں کی بات کی گئی تھی لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ لوئر کرم کہ جہاں طالبان نے بارہا امن معاہدے کی خلاف ورزی کرکے نہتے مسافروں کو قتل، ذبح اور اغواء کیا ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوئی اور نہ ہی وہاں آرمی کی مطلوبہ چیک پوسٹ بنائی گئی ہیں جبکہ اپر کرم میں پاراچنار شہر کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کیا گیا ہے حالانکہ جب سے پاراچنار کے عوام نے وزیرستان و دیگر علاقوں سے آنے والے طالبان اور ان کے مقامی ہمدردوں کو 1400 جانوں کے نذرانے اور 5000 سے زیادہ زخمیوں کی قربانیوں کی وجہ سے شہر میں گذشتہ تین سالوں سے مثالی امن قائم تھا حتی کہ سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں کے قیام سے پہلے آرمی و ایف سی بغیر ہتھیار کے گھوم پھر سکتی تھی۔  تین سال کے اندر جب شہر کی سکیورٹی طوری اور بنگش رضا کاروں کی ہاتھ میں تھی نہ ہی کوئی خودکش حملہ ہوا جو پورے ملک کے لئے قابل تقلید ہیں۔ان حقائق اور مثالی امن کے باوجود پاراچنار میں اتنے بڑے پیمانے پر سکیورٹی فورسز اور آرمی کی تعیناتی سرکاری سطح پر حقانی نیٹ ورک کو آباد کرانے کے علاوہ اور کیا معنی رکھتی ہے خدانخواستہ اب اگر پاراچنار شہر میں کوئی خودکش حملہ یا دہشتگردی ہوئی تو اس کی ذمہ دار حکومت پر ہو گی۔
طالبان دہشتگرد گڈ طالبان ہوں یا بیڈ پاراچنار کے طوری بنگش قبائل کے قاتل ہیں اور ہم ان طالبان دہشتگردوں کو گذشتہ تیس سالوں سے جب یہ طالبانِ امریکی سی آئی اے کے جہادی تھے اس وقت سے جانتے ہیں اور ان تمام طالبان گروہوں کے لیڈروں کے نشر ہونے والے ویڈیوز کے مطابق طوری بنگش قبائل کافر ہیں اسلئے ہم اپنے جنت نظیر وادی پاراچنار کو طالبان کے ہاتھوں ایک بار پھر آگ و خون میں نہیں دھکیل سکتے۔ آخر میں ہم صدر، وزیراعظم آرمی چیف، کور کمانڈر اور گورنر سے مطالبہ کرتے ہیں کہ محب وطن طوری بنگش قبائل پر ظلم و جبر اور سوتیلی ماں جیسے سلوک کا خاتمہ کرکے ہمارے صبر کا مزید امتحان نہ لیا جائے۔ ایک طرف امن معاہدے کا سرکاری سطح پر راگ راپا جا رہا ہے اور دوسرے طرف پرسوں پاراچنار سے تعلق رکھنے والے معروف فزیشن ڈاکٹر سید جمال حسین کا اغوا دوغلی پالیس کا واضح ثبوت ہے۔ اگر پاراچنار سے تعلق رکھنے والے معروف فزیشن ڈاکٹر سید جمال حسین کو جلد از جلد باحفاظت بازیاب نہ کرایا گیا تو پھر باشعور و منظم یوتھ آف پاراچنار اس دفعہ اسلام آباد پارلیمنٹ ہاؤس کی بجائے روالپنڈی جی ایچ کیو کے سامنے احتجاجئ دھرنا دینے پر مجبور ہو گی اسلئے حکومت پاراچنار کے عوام کو بحثیت پاکستانی شہری کے تمام مسائل اور جائز حقوق دینے میں لیت و لیل سے کام نہ لیں۔

خبر کا کوڈ : 111571
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

United Arab Emirates
youth of parachinar zandabad qadam badhawo hum tomhry sat hain
منتخب