0
Saturday 12 May 2018 21:49
تشیع کے اسلامی علوم کے پیدائش اور ترقی میں کردار کانفرنس

آج جہان اسلام کی بنیادی ضرورت وحدت اور علمی ترقی ہے، آیت اللہ خامنہ ای

آج جہان اسلام کی بنیادی ضرورت وحدت اور علمی ترقی ہے، آیت اللہ خامنہ ای
اسلام ٹائمز۔ دفتر حفظ و نشر آثار آیت اللہ العظمی خامنہ ای کی رپورٹ کے مطابق آج صبح بروز ہفتہ تشیع کے اسلامی علوم کے پیدائش اور ترقی میں کردار کانفرنس کے شرکاء نے رہبر انقلاب اسلامی سے ملاقات کی۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے کانفرنس کے شرکاء کے ساتھ گفتگو میں ملی وحدت اور یکجہتی اور اسی طرح علمی ترقی کی جانب سنجیدہ کوششوں کو جہان اسلام کی بنیادی ضرورت قرار دیا اور کہا کہ آج جہان اسلام میں بیداری آچکی ہے۔ مغربی طاقتوں کی طرف سے اس بات کا انکار کرنے کی بھرپور کوششوں کے باوجود یہ بیداری لوگوں کے اسلام اور روشن مستقبل کی جانب زیادہ متوجہ ہونے کا سبب بنی ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے اس کانفرنس کو منعقد کرنے کیلئے کوشش کرنے والے تمام افراد اور خصوصا آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مزید کہا کہ آج کے دور میں ہر ایسا کام جو مسلم فرقوں اور مذاہب کو ایک دوسرے کو پہچاننے میں مدد کریں نیک کام ہے۔ یہ کانفرنس بھی اتحاد اسلامی اور اس ہدف کی جانب ایک قدم ہے۔
 
رہبر انقلاب اسلامی نے دشمنوں کی مسلمانوں کو ایک دوسرے کے مقابلے میں صف آرا کرنے کی دیرینہ کوششوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ایسے ماحول میں ہر وہ کام جو مسلمانوں کو ایک دوسرے کے نقاط قوت کی پہچان کرائے امت اسلامی کی وحدت اور یکجہتی میں مدد کرے گا۔ آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے تاریخ میں علوم اسلامی کے عظمت اور ترقی کیلئے تشیع کے کردار کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ تشیع کی اس عظیم اور بے مثال خدمت کو امت اسلامی کیلئے بیان کرنے کی ضرورت ہے، یہ عظیم کام امت اسلامی کیلئے باعث افتخار اور وحدت و اتحاد کا سبب ہے۔
 
آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے امت اسلامی کے استکبار کی غلامی میں قرار پانے کی اصلی وجہ کو علمی پسماندگی قرار دیا اور کہا کہ مغربی ممالک نے کئی صدیوں کی علمی پسماندگی کے بعد جہان اسلام کی علمی ترقی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی مالی، سیاسی، علمی، فوجی اور تبلیغی صلاحیتوں میں اضافہ کیا اور بالاخر استعمار کی صورت میں ظاہر ہو کر اسلامی ممالک کو اس موجودہ حالت میں تبدیل کردیا ہے۔ آپ نے مغربی ممالک کی اسکتباری کوششوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی ممالک موجودہ صورتحال کو علمی ترقی کے ذریعے تبدیل کرسکتے ہیں اور جہان اسلام ایک دفعہ پھر اپنے عروج کی طرف بڑہتے ہوئے ترقی کے بلند مرتبہ پر پہنچ سکتے ہیں۔
 
خبر کا کوڈ : 724185
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے