0
Wednesday 16 May 2018 16:48
امت کے مسائل کا حل اتحاد و وحدت میں ہے، لیاقت بلوچ

اسرائیلی بربریت امریکی اقدام کا شاخصانہ ہے، علامہ ساجد نقوی

اسرائیلی بربریت امریکی اقدام کا شاخصانہ ہے، علامہ ساجد نقوی
اسلام ٹائمز۔ فلسطینیوں کے خون کے ساتھ کھیلی جانی والی ہولی پر پوری انسانیت اور ہم سب کے دل مجروح ہیں۔ اسرائیلی بربریت امریکی اقدام کا شاخصانہ ہے، امریکہ کا بیت المقدس میں اپنے سفارت خانے کو قائم کرنا اسرائیل کو شہ دینے کے مترادف ہے کہ ایک ہی ریاست ہے، دو ریاستی حل کے تاثر کی نفی کی گئی ہے۔ ان خیالات کا اظہار ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے سینیئر نائب صدر علامہ سید ساجد علی نقوی نے مقبوضہ فلسطین مین اسرائیلی مظالم کے خلاف کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے کہا کہ ٹرمپ کے اس اقدام سے دنیا کے متفقہ موقف میں کھلا تضاد پیدا ہوچکا ہے۔ یوم یکجہتی فلسطین کا اعلان نہایت قابل تحسین ہے، تاہم ہمیں اس سے بڑھ کر ٹھوس عملی اقدامات کرنے چاہیں۔ فلسطینیوں کا تسلسل سے قتل عام ہو رہا ہے، او آئی سی اس کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔ اسے عملی اقدام کرنا چاہیے۔ کونسل کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل ایک ناسور کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ فلسطینی سرزمین پر عالمی استعماری قوتوں نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے ساتھ زیر کرنے کے لئے جو اقدامات کئے تھے، اب وہ چیزیں آشکار ہوچکی ہیں۔ فلسطین اور بیت المقدس کے ساتھ پوری دنیا کے مسلمانوں کی ایک عقیدت و محبت موجود ہے، بانیان پاکستان نے قیام پاکستان نے وقت بھی فلسطین کی حمایت کی اور پوری پاکستانی قوم آج بھی اپنے قائدین کے موقف پر قائم ہے۔ انھوں نے کہا کہ ٹرمپ نے صہیونیوں کو خوش کرنے کے لئے جو فیصلہ کیا ہے، اس کے خلاف فلسطینی سراپا احتجاج ہیں۔ تمام مسلمان فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے باہر نکلیں اور یوم یکجہتی فلسطین پر بھرپور انداز سے اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں۔ آج امت مسلمہ کو اتحاد کی ضرورت ہے، تاکہ امت کے مسائل حل ہوسکیں۔

ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ سید ثاقب اکبر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین کی موجودہ صورتحال پوری تحریک میں ایک نیا موڑ ہے، ٹرمپ کی جارحانہ پالیسیاں فلسطین کے لئے، پاکستان کے لئے اور پوری امت کیلئے تشویش ناک ہیں۔ ٹرمپ نے گذشتہ برس ایک ریاستی حل کی بات کی تھی، یعنی اس نے فلسطینی ریاست کا سرے سے ہی انکار کر دیا۔ قائد اعظم کا شروع سے موقف رہا ہے کہ ہم اسرائیلی ریاست کے وجود کو کسی طور بھی تسلیم نہیں کرسکتے۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ حکومت پاکستان نے یوم یکجہتی فلسطین منانے کا فیصلہ کیا ہے، جو نہایت خوش آئند ہے۔ جماعت اسلامی آزاد جموں و کشمیر کے امیر عبد الرشید ترابی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ نے ایک ریاستی حل کی بات کرکے امریکی موقف اور عالمی اتفاق رائے کی مخالفت کی ہے۔ اسرائیل نے جس طرح حالیہ دنوں میں فلسطینیوں پر آگ اور خون کی بارش کی ہے، اس کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں، ہم اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ ہیں۔ دنیا بھر کے مسلمان فلسطینیوں کے ساتھ ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ فلسطین میں ہونے والے مظالم میں مسلم حکمران برابر کے ذمہ دار ہیں، جو امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہیں۔

کونسل کے اجلاس میں حکومت پاکستان کی جانب سے 18 مئی کے یوم یکجہتی فلسطین کے فیصلے کو سراہا گیا اور اعلان کیا گیا کہ کونسل میں شامل سب جماعتیں اس روز یوم یکجہتی فلسطین منائیں گی۔ اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ او آئی سی فوجی اتحاد بنائے اور اسرائیل کے خلاف اقدام کرے۔ اجلاس میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ مسلمان ممالک جن کے اسرائیل سے تعلقات ہیں، فی الفور ان تعلقات کو ختم کریں۔ اجلاس میں اتحاد علمائے پاکستان کے نائب صدر مولانا عبد الجلیل نقشبندی، تحریک احیائے خلافت کے راہنماء قاضی ظفر الحق، تحریک اسلامی کے سیکرٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی، تنظیم اسلامی کے راہنما ڈاکٹر امتیاز تنظیم اسلامی، جمعیت علمائے اسلام کے راہنماء مفتی امیر زیب، جماعت اہل حدیث کے راہنما علامہ خالد سیف اللہ، تحریک جوانان پاکستان کے راہنماء مولانا عمران سندھو، تنظیم العارفین کے راہنما آصف تنویر ایڈووکیٹ، اسلامی تحریک کے راہنما سکندر گیلانی ایڈووکیٹ، البصیرہ کے محققین مفتی امجد عباس، شہباز عباسی، جماعت اسلامی کے میڈیا کوارڈینیٹر شاھد شمسی، سینیئر صحافی صفدر دانش، کونسل کے کوارڈینیٹر حافظ شاھد، مولانا نجف ایڈووکیٹ اور دیگر قائدین نے شرکت کی۔
خبر کا کوڈ : 725198
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے