0
Wednesday 27 Aug 2014 21:45

آزادی، انقلاب مارچ اور شاہراہ دستور کی صورتحال

آزادی، انقلاب مارچ اور شاہراہ دستور کی صورتحال
اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے مظاہرین اور کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے عملے کے درمیان پایا جانے والا عدم اعتماد گندگی پھیلانے کا سبب بن رہا ہے، کیونکہ اس شہری ادارے کے صفائی کرنے والے عملے کو دھرنے کے مقام سے کچرا جمع کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شارع دستور جیسی انتہائی صاف ستھری جگہ اب بدصورت نظر آنے لگی ہے۔ خاص طور پر سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ کے سامنے دھرنوں کے مقامات، کچرے اور فضلے کے ڈھیر سے اٹھنے والی بو کے باعث یہاں آنا کافی ناخوشگوار تجربہ ثابت ہوتا ہے۔ سی ڈی اے سینی ٹیشن ڈائریکٹوریٹ سے تعلق رکھنے والے ایک عہدیدار کے مطابق ہمارا عملہ پندرہ اگست کے بعد آبپارہ مارکیٹ کے قریب دھرنوں کے مقامات پر مظاہرین کے پھیلائے جانے والے کچرے کو صاف کرتا رہا تھا۔
صفائی کا یہ سلسلہ مظاہرین کے بیس اگست کو ریڈ زون منتقل ہونے کے بعد بھی جاری رہا، تاہم چوبیس اگست کے بعد سے عملے کو کچرا جمع کرانے سے روک دیا گیا کیونکہ سینئر حکام نے صفائی کے عملے کو دھرنے کے مقامات کی صفائی کا ٹاسک نہیں دیا۔

جبکہ سی ڈی اے ایک سینئر عہدیدار نے تسلیم کیا کہ صفائی کا عملہ گذشتہ چند روز سے دھرنے کے مقامات پر کام نہیں کررہا تاہم یہ اتھارٹی کے حکم پر نہیں ہوا بلکہ انہیں مظاہرین کا خوف تھا۔ اس نے کہا" ورکرز نے ان مقامات پر اپنا کام خود روکا ہے، مظاہرین انہیں ہراساں کرتے تھے اور ان کی موجودگی پر اپنے شکوک و شبہات کا اظہار کرتے تھے"۔ عہدیدار نے کہا کہ پی اے ٹی قیادت نے دعویٰ کیا تھا کہ سی ڈی اے کی جانب سے مظاہرین کو مضر صحت پانی فراہم کیا جا رہا ہے، جس کے بعد ادارے نے انہیں پانی کی سپلائی روک دی تھی۔ عہدیدار نے مزید کہا کہ پیر کو جب صفائی کا عملہ اس علاقے میں ڈینگی کی روک تھام کے لیے فیومیگیشن کے لیے پہنچا تو مظاہرین کو لگا کہ کوئی خطرناک کیمیکل ان پر اسپرے کیا جا رہا ہے اور وہ مشتعل ہو گئے، جس کے بعد سے عملے نے اس علاقے میں کام روک دیا ہے۔

ماہرین ماحولیات کے مطابق کچرے اور فضلے وغیرہ کی کھلے آسمان تلے موجودگی امراض اور بیکٹریا کے فروغ کا سبب بنتا ہے۔ پاکستان انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کے سابق ڈائریکٹر جنرل آصف شجاع نے بتایا کہ یہ کچرا ہوائی آلودگی اور اسلام آباد کے دیگر علاقوں میں متاثرہ ہوا کے پھیلاﺅ کا سبب بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ برسات کی بارشوں کے باعث یہ کچرا زمین کا حصہ بن کر دھرنے کے ختم ہونے کے بعد مہینوں تک علاقے کے ماحول کو خراب کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔

سی ڈی اے کے ترجمان محمد عاصم کوششوں کے باوجود اس بارے میں بات کرنے کے لیے دستیاب نہیں ہوسکے۔
خبر کا کوڈ : 406973
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش