اسلام ٹائمز 29 Jun 2022 گھنٹہ 15:09 https://www.islamtimes.org/ur/news/1001768/پیٹرولیم-مصنوعات-پر-50-روپے-فی-لیٹر-لیوی-عائد-کرنے-کی-منظوری -------------------------------------------------- ٹائٹل : پیٹرولیم مصنوعات پر 50 روپے فی لیٹر لیوی عائد کرنے کی منظوری -------------------------------------------------- وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ اس وقت لیوی صفر ہے۔ ابھی 50 روپے لیوی لگانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ٹیکس کی شرح کے حوالے سے منظور کی گئی ترمیم کے مطابق ماہانہ 10 لاکھ روپے سے زائد کی ماہانہ تںخواہ لینے والوں پر 29 لاکھ روپے سالانہ جبکہ 10 لاکھ روپے سے اضافی رقم پر 35 فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا۔ متن : اسلام ٹائمز۔ قومی اسمبلی نے پیٹرولیم مصنوعات پر 50 روپے فی لیٹر لیوی عائد کرنے کی منظوری دے دی۔ اسپیکر راجہ پرویز اشرف کی زیرصدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں فنانس بل 2022ء کی شقوں کی مرحلہ وار منظوری کا عمل شروع ہوا۔ وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث نے پیٹرولیم مصنوعات پر 50 روپے فی لیٹر لیوی عائد کرنے کی ترمیم پیش کی۔ ایوان نے آئندہ مالی سال کے دوران پیٹرولیم مصنوعات 50 روپے فی لیٹر پٹرولیم لیوی عائد کرنے کی ترمیم منظور کرلی۔ عائشہ غوث کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے کہنے پر فنانس بل میں تبدیلی نہیں کی گئی۔ اسی فیصد ترامیم براہ راست ٹیکسوں سے متعلق کی گئی ہیں۔ ہمارا مقصد امیر پر ٹیکس لگانا اور غریب کو ریلیف دینا ہے۔ وزیرمملکت کا مزید کہنا تھا کہ آئی ایم ایف سے جو گذشتہ حکومت معاہدہ کر کے گئی اس پر ہی عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ ہم ایسے ٹیکس لائے ہیں جو صاحب ثروت لوگوں پر لگیں۔ ہم صرف اپنی کمٹمنٹس کو آنر کر رہے ہیں۔ وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ اس وقت لیوی صفر ہے۔ ابھی 50 روپے لیوی لگانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ٹیکس کی شرح کے حوالے سے منظور کی گئی ترمیم کے مطابق ماہانہ 10 لاکھ روپے سے زائد کی ماہانہ تںخواہ لینے والوں پر 29 لاکھ روپے سالانہ جبکہ 10 لاکھ روپے سے اضافی رقم پر 35 فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا۔ ماہانہ پانچ سے 10 لاکھ روپے تنخواہ والوں پر 10 لاکھ روپے سالانہ اور پانچ لاکھ روپے سے اضافی رقم پر 32.5 فیصد کی شرح سے ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔ ماہانہ تین سے پانچ لاکھ روپے تںخواہ لینے والوں پر چار لاکھ 5 ہزار روپے سالانہ جبکہ تین لاکھ روپے سے اضافی رقم پر 25 فیصد ماہانہ ٹیکس عائد ہوگا۔ ماہانہ دو سے تین لاکھ تنخواہ والوں پر ایک لاکھ 65 ہزار سالانہ جبکہ 2 لاکھ سے اضافی رقم پر 20 فیصد ماہانہ ٹیکس عائد ہوگا۔ ماہانہ ایک سے دو لاکھ تنخواہ والوں پر 15 ہزار روپے فکس ٹیکس سالانہ جبکہ ایک لاکھ روپے سے اضافی رقم پر 12.5 فیصد کی شرح سے ماہانہ ٹیکس عائد ہو گا۔ تاجروں سے بجلی کے بلوں کے ذریعے سیلز ٹیکس وصول کرنے سے متعلق شق بھی منظور کرلی گئی۔