اسلام ٹائمز 29 Aug 2019 گھنٹہ 8:26 https://www.islamtimes.org/ur/article/813289/شاہین-تھری-سے-اسپائس2000-تک -------------------------------------------------- ٹائٹل : شاہین تھری سے اسپائس2000 تک -------------------------------------------------- اسپائس دو ہزار بم کے بارے خبریں میڈیا میں سامنے آنے کے بعد پاکستان کے ایک سابق جنرل غلام مصطفیٰ نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کا شاہین تھری بارہ منٹ سے بھی کم وقت میں اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ شاہیں تھری اور اسپائس دو ہزار کی خبروں کو ساتھ ساتھ رکھ کر پڑھیں تو عالمی تعلقات کے حوالے سے کچھ نئی گھتیاں کھلتی نظر آتی ہیں۔ متن : اداریہ ہندوستان کے ذرائع ابلاغ نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل نے بھارت کو جدید اسپائس 2000 بم فراہم کیے ہیں اور ان بموں کی فراہمی اسرائیل اور ہندوستان کے درمیان نیتن یاہو کروڑ ڈالر کے دفاعی معاہدے کا حصہ ہے۔ خبری ذرائع کے مطابق اسرائیل اور ہندوستان کے درمیان سو سے زائد اسپائس بموں کی خریداری کا معاہدہ رواں برس جون میں طے پایا تھا۔ یہ بم اسرائیل کی تیار کردہ جی پی ایس سے چلتا ہے اور بعض ہندوستانی ذرائع کے مطابق ہندوستانی فضائیہ اسے کشمیریوں کے خلاف استعمال کرے گی۔ معروف مغربی تجزیہ نگار رابرٹ فسک کے مطابق تل ابیب میں قائم اسرائیلی وزارت دفاع اور نئی دہلی میں موجود ہندوستانی وزارت دفاع مین بظاہر دو ہزار پانچ سو میل کا فاصلہ ہے، لیکن دونوں اداروں کی پالیسیاں ایک جیسی ہیں۔ 2017ء میں ہندوستان اسرائیل کا سب سے بڑا خریدار تھا اور اس نے اسرائیلی ائیر ڈیفنس، ریڈار سسٹم اور فضا سے زمین پر حملہ کرنے والے میزائل سمیت اسلحہ کے عوض ترپن کروڑ یورو ادا کیے تھے۔ ان تمام میزائلوں کی ٹیسٹنگ اسرائیلی فوج کی جانب سے فلسطین اور شام میں کی جا چکی ہے۔ اسرائیل ہند تعلقات کسی سے پوشیدہ نہیں اور ہندوستان کی موجودہ حکمران جماعت اور وزیراعظم نریندر مودی کے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے بھی انتہائی قریبی تعلقات ہیں۔ اسپائس دو ہزار بم کے بارے خبریں میڈیا میں سامنے آنے کے بعد پاکستان کے ایک سابق جنرل غلام مصطفیٰ نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کا شاہین تھری بارہ منٹ سے بھی کم وقت میں اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ شاہیں تھری اور اسپائس دو ہزار کی خبروں کو ساتھ ساتھ رکھ کر پڑھیں تو عالمی تعلقات کے حوالے سے کچھ نئی گھتیاں کھلتی نظر آتی ہیں۔ اسرائیل کی غاصب صہیونی حکومت مسلمانوں کو جڑ سے ختم کرنے پر یقین رکھتی ہے، لہذا پاکستان کا ایٹم بم، ایران کی مضبوط فوج اور دفاعی صنعت اسرائیل کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح چھبتی ہے۔ دوسری طرف ہندوستان کی موجودہ ہندو توا حکومت بھی مسلمانوں کو غلام بنانے پر تلی ہوئی ہے، ایسے میں ہندوستان اور اسرائیل کا مفاد ایک ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے ان کا ایک صفحے پر ہونا فطری امر ہے۔ متحدہ عرب امارات اور بحرین کی طرف سے ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی کو امن ایوارڈ دینا اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ اسرائیل امریکہ کے تعاون اور حمایت سے خطے میں اسلامی مزاحمت کے خلاف نئی گیم شروع کرچکا ہے اس میں ہندوستان کے کردار کو ہرگز نطرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کے حساس حلقوں نے ایک فوجی جرنیل سے یہ بیان دلوا کر کہ پاکستان کا شاہین تھری میزائل بارہ منٹ سے بھی کم وقت میں تل ابیب پہنچ سکتا ہے، حقیقیت میں اسرائیل اور اس کے حامیوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ اگر اسرائیل نے پاکستان کے خلاف ہندوستان کا جنگی میدان میں کسی بھی قسم کا ساتھ دیا تو پاکستان کے پاس بھی شاہین تھری میزائل موجود ہے، جو بارہ منٹ سے بھی کم وقت میں تل ابیب کو خاک و خون میں تبدیل کرسکتا ہے۔