اسلام ٹائمز 22 Sep 2021 گھنٹہ 4:19 https://www.islamtimes.org/ur/news/955084/اسرائیل-کی-سلامتی-کیلئے-امریکی-وابستگی-شک-شبے-سے-بالاتر-ہے-جو-بائیڈن -------------------------------------------------- ایک آزاد یہودی ریاست کیلئے ہماری حمایت بالکل واضح ہے ٹائٹل : اسرائیل کی سلامتی کیلئے امریکی وابستگی شک و شبے سے بالاتر ہے، جو بائیڈن اپنے اتحادیوں کو دہشتگردی سے محفوظ رکھنے کیلئے کام کرتے رہیں گے -------------------------------------------------- اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے پہلے خطاب میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ دو ریاستی حل اسرائیل کے مستقبل کو جمہوری یہودی ریاست کے طور پر یقینی بنانے کا ایک بہترین طریقہ ہے، تاکہ وہ ایک قابل عمل، خود مختار اور جمہوری فلسطینی ریاست کے ساتھ امن کے ساتھ رہ سکیں۔ جو بائیڈن نے کہا کہ ہم اسوقت اس ہدف سے بہت دور ہیں، لیکن ہمیں مستقبل میں پیشرفت کے امکانات سے دستبردار نہیں ہونا چاہیئے۔ متن : اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تنازع کا واحد اور بہترین حل خودمختار اور جمہوری فلسطینی کا قیام ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے پہلے خطاب میں بائیڈن نے کہا کہ ہمیں مشرق وسطیٰ کے تمام لوگوں کے لیے زیادہ سے زیادہ امن اور سلامتی کا مستقبل تلاش کرنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی سلامتی کے لیے امریکی وابستگی شک و شبے سے بالاتر ہے اور ایک آزاد یہودی ریاست کے لیے ہماری حمایت بالکل واضح ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ دو ریاستی حل اسرائیل کے مستقبل کو جمہوری یہودی ریاست کے طور پر یقینی بنانے کا ایک بہترین طریقہ ہے، تاکہ وہ ایک قابل عمل، خود مختار اور جمہوری فلسطینی ریاست کے ساتھ امن کے ساتھ رہ سکیں۔ جو بائیڈن نے کہا کہ ہم اس وقت اس ہدف سے بہت دور ہیں، لیکن ہمیں مستقبل میں پیشرفت کے امکانات سے دستبردار نہیں ہونا چاہیئے۔ امریکی صدر نے اتحادیوں سے تعاون پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کو ایک فیصلہ کن وقت کا سامنا ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ان کی یہ یقین دہانی امریکا کے افغانستان سے انخلا پر اتحادی ممالک کے ساتھ کشیدگی اور سب میرین معاہدے پر فرانس کے ساتھ ایک اہم سفارتی تنازع کے درمیان سامنے آئی۔ جو بائیڈن نے امریکا کو عالمی قیادت کے کردار میں واپس لانے کے لیے مہم کا آغاز کیا ہے، جس کی انہوں نے اپنے خطاب میں دوبارہ تصدیق کی۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے یقین ہے کہ ہمیں مل کر کام کرنا چاہیئے جیسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔ امریکا کے شہر نیو یارک میں اقوام متحدہ کی 76ویں جنرل اسمبلی کا اجلاس ماحولیاتی بحران اور وبائی بیماری کے پس منظر میں ہو رہا ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے ان محاذوں پر تعاون کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ ہماری اپنی کامیابی دوسروں کی کامیابی کے ساتھ منسلک ہے۔ امریکا اور چین کے درمیان جاری کشیدگی کے بارے میں جو بائیڈن نے زور دیا کہ امریکا نئی سرد جنگ یا تقسیم شدہ دنیا کا خواہاں نہیں ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ امریکا بھرپور طریقے سے اپنے اور اپنے اتحادیوں کے مفادات کا دفاع کرے گا۔ انہوں نے افغانستان سے انخلا پر بھی زور دیا، جس پر اندرون اور بیرون ملک اتحادیوں نے ان پر تنقید کی ہے، ان کا کہنا تھا کہ فوجی قوت ہمارا آخری حربہ ہونا چاہیئے۔ دیگر ذرائع کے مطابق امریکی صدر جوزف بائیڈن نے کہا ہے کہ امریکہ اپنے اتحادیوں کو دہشت گردی کے خطرے سے محفوظ رکھنے کے لیے کام کرتا رہے گا۔ امریکی صدر جوزف بائیڈن نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بطور صدر جنرل اسمبلی سے پہلا خطاب میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔ میری انتطامیہ پوری دنیا کے امن و استحکام اور مشترکہ محفوظ مستقبل کے لیے مستعد ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں طویل جنگ ختم کرکے ہم نے سفارتی راستہ اختیار کیا۔ انڈو پیسفک میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر چیلنجز کا مقابلہ کرنا امریکا کی ترجیح ہے۔ امریکا خود کو اور اپنے اتحادیوں کو دہشت گردی کے خطرے سے محفوظ رکھنے کے لیے کام کرتا رہے گا۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ کورونا وبا پہلے ہی بہت کچھ ہم سے چھین چکی ہے اور اب بھی دنیا میں تباہی پھیلا رہی ہے۔ ہم 45 لاکھ افراد کی موت کا غم منا رہے ہیں۔ ماحولیات سے متعلق بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میری انتظامیہ کانگریس کے ساتھ مل کر کاربن کے اخراج کو کم سے کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، ہم برقی گاڑیوں کی پیداوار بڑھانے پر کام کر رہے ہیں۔ ترقی پذیر ممالک کے لیے موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے امداد میں دُگنا اضافہ کیا ہے۔ جوزف بائیڈن کا کہنا تھا کہ ہم ایک اور سرد جنگ نہیں چاہتے۔ ہم تمام مسائل پرامن مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں۔ ہم ایران کو ایٹمی ہتھیاروں سے باز رکھنے کے لیے سفارتی میدان میں کوشش کر رہے ہیں۔ ہم دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے پہلے سے زیادہ تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں کرپشن کسی بھی ملک کے لیے قومی سلامتی کا مسئلہ ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں کرپشن کو روکنے اور انفراسٹرکچر کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ کسی بھی سوسائٹی کی ترقی کے لیے بہتر انفرسٹرکچر بنیادی ضرورت ہے۔