اسلام ٹائمز 20 Nov 2022 گھنٹہ 22:54 https://www.islamtimes.org/ur/news/1025807/بلوچستان-کو-وفاق-کیساتھ-صوبائی-حکومتوں-نے-بھی-نظرانداز-کیا-مولانا-عبدالحق-ہاشمی -------------------------------------------------- ٹائٹل : بلوچستان کو وفاق کیساتھ صوبائی حکومتوں نے بھی نظرانداز کیا، مولانا عبدالحق ہاشمی -------------------------------------------------- اپنے بیان میں مولانا عبدالحق ہاشمی نے کہا کہ ظلم، زیادتیوں، ناانصافی اور جبر کیوجہ سے بلوچستان کی عوام میں ردعمل پیدا ہو رہا ہے، احساس محرومی بڑھ رہی ہے۔ متن : اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی بلوچستان مولانا عبدالحق ہاشمی نے کہا ہے کہ صوبہ بھر کے اضلاع میں عوام روزگار تعلیم و صحت کی سہولیات کو ترس رہے ہیں۔ بلوچستان کو وفاق کے ساتھ صوبائی حکومتوں نے بھی نظرانداز کیا ہے۔ ہر سطح پر بدعنوانی سرائیت کر گئی ہے۔ بدعنوان رشوت، چوری و بھتہ کو حق سمجھ کر کر رہے ہیں۔ ہر سطح پر بدعنوانی کی وجہ سے ترقی کا راستہ رک گیا ہے۔ ترقیاتی کام نہ ہونے کے برابر ہیں۔ حکمران سلگتے عوامی مسائل حل کرنے پر توجہ دیں۔ اپنے بیان میں امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ بلوچستان کے عوام تاجروں، زمینداروں کو بجلی گیس نہیں مل رہی۔ معیاری ہسپتال یا بہترین تعلیمی ادارہ نہیں۔ اہل بلوچستان کے ساتھ یہ سلوک گزشتہ ستر سالوں سے ہو رہا ہے۔ یہی رویے، یہی ظلم انہی زیادتیوں، ناانصافی اور جبر کی وجہ سے عوام میں ردعمل پیدا ہو رہا ہے۔ احساس محرومی بڑھ رہی ہے۔ حکومت و منتخب نمائندے غافل، ناکام، اقربا پروری بدعنوانی میں ملوث ہیں۔ زراعت، بارڈر ٹریڈ، فش ریز سمیت ہر شعبے کو تباہ کیا گیا ہے۔ بدقسمتی سے ہمسائیہ ممالک سے بھی قانونی تجارت نہیں کرنے دیا جا رہا۔ بارڈرز پر بھٹہ و غنڈہ ٹیکس کی تو حوصلہ افزائی ہو رہی ہے، لیکن قانونی طریقے سے کام و سرگرمی میں رکاوٹ ڈالی جا رہی ہے، جو لمحہ فکریہ ہے۔ بارڈرز و چیک پوسٹوں پر بھتہ خوری، حکومتی اور اداروں کی ملی بھگت سے شروع کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ہر ظلم و جبر لاقانونیت کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھاتی رہے گی۔ بدعنوانی و کمیشن ختم کئے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ حکمرانوں کی غلط روش، منتخب نمائندوں کی کرپشن و بھتہ خوری میں ملوث ہونے، حکومت کی جانب سے وعدوں کی خلاف ورزی کی وجہ سے ہر طرف عوام ملازمین سمیت ہر طبقہ احتجاج پر ہے۔ حکمران بلوچستان کے عوام کو قانونی آئینی حقوق دیں ساحل و بارڈرز پر روزگار و کاروبار کو تحفظ دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی عوام بھتہ اور غنڈہ ٹیکس و لٹیروں کو رشوت دینے کے بجائے قانون کے مطابق ٹیکس دینے کیلئے تیار ہیں، لیکن بڑے بدعنوان عناصر خواہ وہ منتخب نمائندے ہوں یا اسٹبلشمنٹ وہ ڈر رہے ہیں کہ ان کے کروڑوں کی کرپشن کے خلاف ہم میدان میں نکلے ہیں۔ ان کی روزانہ کی کروڑوں کی بھتہ خوری و کرپشن کو خطرہ ہیں۔ وہ نہیں چاہتے ہیں کہ چھوٹے کاروباری طبقے تاجر اور مچھیروں کو ترقی ملیں اور وہ آسانی سے قانون کے مطابق کاروبار کریں۔