اسلام ٹائمز 6 May 2014 گھنٹہ 16:27 https://www.islamtimes.org/ur/news/379732/شام-اور-ایران-کے-حوالے-سے-روسی-سفارت-کاری-مثبت-ہے-مشاہد-حسین-سید -------------------------------------------------- ٹائٹل : شام اور ایران کے حوالے سے روسی سفارت کاری مثبت ہے، مشاہد حسین سید -------------------------------------------------- اسلام ٹائمز: چیئرمین سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے دفاع کا روسی سفیر سے پارلیمنٹ ہاؤس میں ملاقات کے دوران کہنا تھا کہ روس اور پاکستان کے مابین مفادات کا ٹکراؤ نظر نہیں آتا، کریمیا میں فوجی مداخلت پر تحفظات ہیں، تین لاکھ تاتاری مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔ متن : اسلام ٹائمز۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے چیئرمین سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ پاکستان اور روس کے مابین باہمی تعلقات خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنانے اور پاکستان کی اقتصادی ترقی کیلئے نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار پارلیمنٹ ہاؤس میں روس کے نئے متعین کردہ سفیر الیکسی دادوف سے ملاقات میں کیا۔ دوستانہ ماحول میں ہونے والی ملاقات میں سینیٹر مشاہد نے روسی صدر پوٹن کے شام میں جاری بحران اور ایران کے حوالے سے مثبت کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ روسی سفارت کاری کا خطے میں کسی نئی مسلط کردہ جنگ کو روکنے میں کلیدی کردار ہے۔ انہوں نے کریمیا میں روسی مداخلت پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور عالمی قوانین پر کاربند ہے، جن کے تحت بزور طاقت تسلیم شدہ سرحدوں میں تبدیلی کی ممانعت ہے۔ روسی سفیر نے تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا کہ روسی حکومت پاکستان سے دفاعی، اقتصادی اور ثقافتی روابط مضبوط تر بنانے کی خواہاں ہے اور اس سلسلے میں رواں سال پاک روس مشترکہ وزارتی کمیشن کا اجلاس بھی زیرِ غور ہے، جبکہ پاکستانی وزیر برائے دفاع اور پیٹرولیم کا دورہِ ماسکو بھی عنقریب متوقع ہے۔ سینیٹر مشاہد نے پاک روس کے مابین قریبی تعلقات کو فروغ دینے کیلئے کیے جانے والے اقدامات کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین مفادات کا ٹکراؤ نظر نہیں آتا۔ انہوں نے کریمیا میں بسنے والے تین لاکھ تاتار مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کی تلقین کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا کہ سٹالن دور میں انہیں جبری جلاوطنی سمیت دیگر مصائب کا سامنا کرنا پڑا۔ سینیٹر مشاہد نے روسی سفیر کو پاکستان کو ڈیجیٹل دنیا میں محفوظ بنانے کیلئے سائبر سکیورٹی ٹاسک فورس کے قیام، سائبر سکیورٹی کونسل بل سمیت سینیٹ ڈیفنس کمیٹی کے تحت مختلف اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔