اسلام ٹائمز 22 Jan 2023 گھنٹہ 10:03 https://www.islamtimes.org/ur/video/1036959/پاکستان-کے-موجودہ-معاشی-حالات -------------------------------------------------- تجزیہ 30 ٹائٹل : پاکستان کے موجودہ معاشی حالات جنیوا کانفرنس اور عالمی امداد -------------------------------------------------- تجزیہ ایک ایسا پروگرام ہے، جس میں تازہ ترین مسائل کے بارے میں نوجوان نسل اور ماہر تجزیہ نگاروں کی رائے پیش کی جاتی ہے۔ آپکی رائے اور مفید تجاویز کا انتظار رہتا ہے۔ متن : ہفتہ وار پروگرام تجزیہ 30 عنوان: پاکستان کے حالات حاضرہ جنیوا کانفرنس کے تناظر میں    مہمانِ گرامی: ڈاکٹر فرید پراچہ (نائب امیر جماعتِ اسلامی پاکستان) مسرور خان (سیاسی و سماجی دانشور) میزبان:سید انجم رضا   اہم نکات و سوالات  جینوا کانفرنس کے اہداف حاصل ہوئے کہ نہیں؟       کیا یہ قرض جو امداد کی صورت میں مل رہا ہے، یہ ہماری اقتصادی حالت بہتر کرسکتا ہے؟ پاکستان آئی ایم ایف کے شکنجے اور ڈالر کی قید سے کیسے آزاد ہوسکتا ہے؟     موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث گذشتہ سال کی شدید مون سون بارشوں اور سیلاب نے پاکستان کی پہلے سے مشکلات میں گھری معیشت کو شدید دھچکا پہنچایا، جبکہ تقریباً 80 لاکھ افراد بے گھر ہوئے اور کم از کم 1,700 ہلاک ہوئے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ مکمل تعمیر نو کی کوششوں پر 16 ارب ڈالرز سے زیادہ کی لاگت کا تخمینہ لگایا گیا ہے، تاہم پاکستان کے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ ملک کو آئندہ تین سالوں میں تعمیر نو کے مقصد کے لیے آٹھ ارب ڈالر کی ضرورت ہو گی۔  ان کا مزید کہنا تھا: ’واقعات بہت تیزی سے رونما ہو رہے ہیں، دو ماہ کے عرصے میں ہمارے قدموں کے نیچے زمین ختم ہو گئی تھی، آٹھ ہزار کلومیٹر سے زیادہ سڑکیں بہہ گئیں، 2.6 ملین بچوں کے لیے تعلیم کا سلسلہ رک گیا، جس میں بیشتر تعداد لڑکیوں کی ہے۔   گزشتہ ہفتے جینیوا کانفرنس میں سیلاب سے متاثرہ پاکستان کی اپیل پر عالمی بینکوں اور ملکوں نے 9.57 ارب ڈالر امداد کا اعلان کیا ہے۔ ج ینیوا کانفرنس میں یورپی یونین نے 93 ملین ڈالر، جرمنی نے 88 ملین ڈالر، چین 100 ملین ڈالر، جاپان 77 ملین ڈالر اور ایشائی ترقیاتی بینک نے 1.5 ارب ڈالر کا اعلان کیا۔ اسی طرح یو ایس ایڈ 100 ملین ڈالر، فرانس 345 ملین ڈالر دیں گے۔     ڈاکٹر فرید پراچہ (نائب امیر جماعتِ اسلامی پاکستان) قرض کی صورت میں ملنے والی یہ امداد جو تین سال کے عرصے میں ملے گی، شاید ہماری معیشت کو کوئی تقویت ملے، اور یہ امداد شرائط کے ساتھ ملی ہے جن میں شرائط اور مقاصد یہ ہیں کہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے ہونے والی بحالی پہ خرچ کی جائے ہمارے موجودہ معاشی و اقتصادی مسائل کے حل کے لئے تو آئی ایم ایف کے شکنجے میں ہی جانا پڑے گا،آئی ایم ایف یا عالمی طاقتیں انہیں پاکستان کے عوام کے ساتھ کوئی دلچسپی نہیں ہے، اس لئے کہ پاکستانی حکمرانوں کو عوام کے ساتھ کوئی دلچسپی نہیں، اور یہ جو ایک تیس ارب ڈالر سے زائد کے قرضے ہین جن کے بوجھ تلے یہ ملک دبا ہوا ہے ، یہ سب اشرافیہ کے کام آتے ہیں اس امداد سے بھی عام شہری کو ریلیف ملنے کا کوئی امکان نہیں ہے، بلکہ مہنگائی بڑھ چکی ہے قرضے ہمارے ملک کی صورت حال بہتر نہیں کرسکتے ، یہ قرضے سُنہری پھندے ہیں، جن میں ہمیں جکڑا گیا ہے، سود جسے قرآن میں اللہ کے ساتھ کھلی جنگ قرار دیا ہے، ہم ان قرضوں کے تلے سودی معیشت کے قیدی ہیں، دنیا میں ٹیکس امیروں سے لئے جاتے ہیں کہ غریبوں کی حالت بہتر ہو، ہمارا ملک انوکھا ہے کہ یہاں غریبوں سے ٹیکس لے کر امیروں کو پالا جاتا ہے، سودی قرضہ نہ لینے کا عہد کرکے ہی معیشت بہتر ہوسکتی ہے، حالت تو یہ ہے ہر پیدا ہونے والا بچہ دولاکھ روپے کا مقروض ہے ہم اگر طے کرلیں کے غلامانہ صورت حال سے نکلنا ہے توم یقین کرلیں کہ معیشت کو ترقی دینے والے قدرتی و دیگر وسائل اللہ نے ہمیں عطا کئے ہوئے ہیں،  مسائل اس لئے ہیں کہ دیانت دار قیادت نہیں، بدعنوانیاں ہیں، کرپشن ہے ، اسلامی نظام نہیں ہے، اگر ہم نے اپنی معیشت کو ڈالر سے آزاد کرنا ہے تو جمہوی اسلامی ایران اور چین کے ساتھ معیشت استوار کریں    مسرور خان (سیاسی و سماجی دانشور) ہم نے مقروض ہونے کے باوجود جینوا کانفرنس میں جاکر مزید قر ض لے لیا،معیشت کی بدتر صورت حال کو زراعت سپورٹ دیتی ہے ، ہماری زراعت کی صورت حال بھی بدتر ہوچکی ہے،ہماری تعلیم کی صورتحال بھی بدتر ہوچکی ہے، تعلیم برائے روزگار بن چُکی ہے، کسانوں کی صوت حال ا بتر ہوچکی ہے، صنعتیں بندہوچکی ہیں، بیروزگاری بڑھ چُکی ہے، سردیاں ختم ہوتے ہی اگلا سیلاب ہمارے سر پہ ہے آئندہ تین سال بہت سخت نظر آرہے ہیں، ہمیں کہیں سے بھی ریسکیو ملے وہ ہمارے لئے فائدہ مند نہیں ہوگا جب تک ہم اپنے پیروں پہ خود کھڑا نہیں ہوتے، جس کے لئے ہمیں سچی قیادت کی ضرورت ہے، ہم اگر سیاست کو عبادت سمجھتے ہیں تو مولا علی ؑ کے فرمان کے مطابق سیاست کو تاجروں کے حوالے مت کرو کیونکہ وہ فائدے اور نقصان کے علاوہ کچھ نہیں سوچیں گے، ہمارے ہاں زرعی اصلاحات کبھی بھی نہ صحیح طرح نہ ہوئیں۔ جمہوریت تو ہمارے ہاں آئی، مگر سرمایہ دارانہ نظام کو مضبوط کرتی ہے،