اسلام ٹائمز 8 Sep 2019 گھنٹہ 13:33 https://www.islamtimes.org/ur/news/815205/امام-حسین-نے-تہذیب-اسلامی-کیلئے-عزیمت-کا-ایک-تاریخی-راستہ-متعین-کیا-میاں-محمد-اسلم -------------------------------------------------- ہمیں کربلا سے سیکھنا ہے کہ کیسے تہذیب اسلامی کو فرعونی تہذیب بننے سے بچایا جائے، پروفیسر فتح محمد ملک ٹائٹل : امام حسینؓ نے تہذیب اسلامی کیلئے عزیمت کا ایک تاریخی راستہ متعین کیا، میاں محمد اسلم آج فلسطینی اور کشمیری حسینی کردار کے حامل ہیں، ہم سب انکے ساتھ کھڑے ہیں، علامہ عارف واحدی -------------------------------------------------- تقریب کے مہمان خصوصی جماعت اسلامی کے نائب امیر میاں محمد اسلم نے کہا کہ مولانا مودودی سے کسی نے پوچھا کہ امام حسین نے یزید کی بیعت کیوں نہ کی تو مولانا نے فرمایا کہ سوال کو درست کریں، اگر حسین نے بیعت نہیں کی تھی تو باقی لوگوں نے کیوں کی تھی؟ جس کی زندگی رسول اکرم ؐ کی گود میں گزری ہو، وہ بھلا کیسے یزید کی بیعت کرسکتا ہے۔؟ متن : اسلام ٹائمز۔ ہم کربلا سے سبق سیکھ سکتے ہیں کہ کیسے تہذیب اسلامی کو فرعونی تہذیب بننے سے بچایا جائے، آج تہذیب اسلامی کو سب سے بڑا خطرہ مقبوضہ کشمیر اور فلسطین میں ہے۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر فتح محمد ملک سابق ریکٹر اسلامی یونیورسٹی نے البصیرہ اور ادارہ فکر جدید کے زیر اہتمام منعقدہ سیمینار "کربلا سرچشمہ تہذیب اسلامی" میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت عالم اسلامی اس تہذیب کو بچانے کے لیے کیا کر رہا ہے۔ ہمیں دیکھنا ہے کہ عالم اسلام میں کہاں کہاں یزید بیٹھے ہیں، ہمیں اسلام کو بچانا ہے۔ ہمیں سانحہ کربلا کو آج کے تناظر میں دیکھنا ہوگا۔ آج عالم اسلام یزیدان عصر کے قبضے میں ہے اور کشمیر و فلسطین ان یزیدان عصر سے لڑ رہا ہے، ہمیں اپنے کردار کا تعین کرنا ہے۔ ہمیں تہذیب اسلامی پر پڑنے والی مشکل گھڑی کو شہیدان کربلا کے اقدامات کی روشنی میں نبرد آزما ہونا ہے۔ ہم نے مودی اور یہودی سے عالم اسلام کو آزاد کروانا ہے۔ تقریب کے مہمان خصوصی جماعت اسلامی کے نائب امیر میاں محمد اسلم نے کہا کہ مولانا مودودی سے کسی نے پوچھا کہ امام حسین نے یزید کی بیعت کیوں نہ کی تو مولانا نے فرمایا کہ سوال کو درست کریں، اگر حسین نے بیعت نہیں کی تھی تو باقی لوگوں نے کیوں کی تھی؟ جس کی زندگی رسول اکرم ؐ کی گود میں گزری ہو، وہ بھلا کیسے یزید کی بیعت کرسکتا ہے؟ امام حسین نے نہ صرف ایک تاریخی فیصلہ لیا بلکہ تہذیب اسلامی کے لیے عزیمت کا ایک راستہ طے کر دیا۔ یزید خلافت کے نظام کے خلاف آیا تھا، اس نے بیت المال کو اپنا مال سمجھ لیا تھا۔ خلافت و ملوکیت اسی موضوع پر تحریر کی گئی ہے۔ اگر آج پاکستان کے ہوتے ہوئے کشمیر پر مودی مسلط ہے تو یہ پاکستان کی کمزوری ہے، آج بہتر سال گزر گئے ہیں، کوئی کشمیریوں کے لیے آواز بلند کرنے والا نہیں ہے۔ یہ اسلامی حکومت نہیں ہے، یزیدیت کی حکومت ہے۔ اسلامی تحریک پاکستان کے جنرل سیکرٹری علامہ عارف حسین واحدی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا امام حسین نے تہذیب اسلامی کے تحفظ کے لیے جدوجہد کی، جبکہ ان کا مخالف گروہ اس تہذیب کو مٹانے کے لیے سرگرم عمل تھا۔ امام حسین ؑ نے فتح و شکست کے معیارات کو بدل دیا، امام نے بتایا کہ بڑے ہدف کے لیے جان، مال، اولاد کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ یہاں سے ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ تہذیب اسلامی کس قدر گراں بہا سرمایہ ہے۔ دنیا میں جہاں بھی ظلم کے خلاف جدوجہد ہوئی، وہاں حسین ابن علی ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ کربلا کی خواتین بھی ہمارے لیے رول ماڈل ہیں، جنہوں نے شہادتوں کے بعد بھی اسلام کی ترویج اور تبلیغ کے لیے کوئی موقع ضائع نہ کیا اور نہ ہی کمزوری دکھائی۔ آج فلسطینی اور کشمیری حسینی کردار ادا کر رہے ہیں، ہم سب اپنے فلسطینی اور کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہیں۔ البصیرہ کے سربراہ اور پروگرام کے میزبان سید ثاقب اکبر نے تقریب میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کلمہ استرجاء وہ کلمہ ہے، جو امام حسین ؑ نے مدینہ سے کربلا کے سفر کے دوران پڑھا، جب آپ کے بیٹے نے امام سے سوال کیا کہ اس کلمے کے پڑھنے کی کیا وجہ ہے تو امام نے کہا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ کوئی صدا دے رہا ہے کہ یہ قافلہ موت کی جانب جا رہا ہے۔ اس وقت امام کے بیٹے نے پوچھا کہ بابا کیا ہم حق پر نہیں ہیں، تو امام نے جواب دیا کہ ہیں، تو بیٹے نے کہا کہ پھر اس سے فرق نہیں پڑتا کہ ہم موت پر جا پڑیں یا موت ہم پر آن پڑے۔ کلمہ استرجاء پوری زندگی کا ہدف و مقصد ہے، جس کا مقصد یہ ہے کہ ہماری مکمل زندگی خدا کے لیے ہی ہے۔ تقریب میں ان شرکاء کے علاوہ نور الہدیٰ ٹرسٹ کے سربراہ علامہ امتیاز رضوی، جماعت اہل حدیث کے مرکزی راہنما پروفیسر خالد سیف اللہ، جامعۃ الرضا کے استاد علامہ نعیم الحسن نقوی، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے استاد علامہ طاہر اسلام عسکری، کشمیری راہنما خواجہ شجاع عباس، اصلاحی تحریک کے راہنما آصف تنویر ایڈووکیٹ، مجلس وحدت مسلمین کے شعبہ امور خارجہ کے رکن علامہ ضیغم عباس، مجلس وحدت مسلمین کے شعبہ تبلیغات کے رکن علامہ علی شیر انصاری، معروف شاعر اختر عثمان، تحریک منہاج القرآن کے رکن شہباز عباسی، جامعۃ المصطفی کے استاد مولانا فرحت حسین، ادارہ فکر جدید کے رکن رانا تنویر عالمگیر، رشاد بخاری، بلوچستان پروگریسو فورم کے سربراہ میر نجف علی بلوچ، البصیرہ شعبہ خواتین کی ڈائریکٹر سیدہ ہما مرتضیٰ، تحریک منہاج القرآن ویمن ونگ کی رہنما راضیہ نقیب، مجلس وحدت یوتھ راولپنڈی کی راہنما سیدہ قندیل کاظمی، سید ہادی ایڈووکیٹ نیز سول سوسائٹی کے اراکین کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ کانفرنس کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر ندیم عباس نے انجام دیئے۔