اسلام ٹائمز 6 Apr 2011 گھنٹہ 15:38 https://www.islamtimes.org/ur/news/63550/نئے-آرمی-چیف-جنرل-بنی-گینٹز-کی-قیادت-میں-اسرائیل-بڑی-جنگ-تیاری-کے-لیے-فوجی-مشقیں -------------------------------------------------- ٹائٹل : نئے آرمی چیف جنرل بنی گینٹز کی قیادت میں اسرائیل کی بڑی جنگ کی تیاری کے لیے فوجی مشقیں -------------------------------------------------- اسلام ٹائمز:رپورٹ کے مطابق صہیونی فوج کو دی جانے والی نئی تربیت میں ایران، شام، حزب اللہ اور حماس کے راکٹ اور میزائل حملوں سے دفاع کے حوالے سے خصوصی تربیت فراہم کی گئی۔ اس کے علاوہ فوج کو دی گئی تربیت میں شمالی پٹی میں حزب اللہ کے خطرے کے انسداد کے لیے بھی مشقیں کرائی گئیں اور خودکش بمباروں کی روک تھام بھی نئی فوجی مشقوں کا حصہ تھی متن : مقبوضہ بیت المقدس:اسلام ٹائمز۔اسرائیل کے نئے آرمی چیف جنرل بنی گینٹز کی قیادت میں فوج نے پہلی مرتبہ وسیع پیمانے کی جنگ کا مقابلہ کرنے کے لیے فوجی مشقیں کی ہیں۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی فوج کے قریب سمجھے جانے والے اخبار"یدیعوت احرونوت" نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ آرمی چیف جنرل گینٹز کی قیادت میں ہونے والی فوجی مشقیں اختتام پذیر ہو گئی ہیں۔ ان مشقوں کو خفیہ رکھا گیا تاہم اس دوران فوج کو بیک وقت شمالی محاذ پر لڑنے اور داخلی استحکام کے لیے تربیت فراہم کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق صہیونی فوج کو دی جانے والی نئی تربیت میں ایران، شام، حزب اللہ اور حماس کے راکٹ اور میزائل حملوں سے دفاع کے حوالے سے خصوصی تربیت فراہم کی گئی۔ اس کے علاوہ فوج کو دی گئی تربیت میں شمالی پٹی میں حزب اللہ کے خطرے کے انسداد کے لیے بھی مشقیں کرائی گئیں۔ اس کے علاوہ خود کش بمباروں کی روک تھام بھی نئی فوجی مشقوں کا حصہ تھی۔ دوسری جانب اسرائیلی ٹی وی 10 نے اپنی رپورٹ میں فوجی مشقوں کو اب تک کی سخت ترین مشقیں قرار دیا ہے۔ ٹی وی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ مشقیں ایک وسیع تر جنگ کے تناظر میں کی گئی ہیں، جس میں فوج کو ایک جانب بیرونی حملوں کی روک تھام کی تربیت دی گئی اور دوسری جانب اندرونی دفاع کے لیے بھی مشقیں کرائی گئیں۔ اس اعتبار سے یہ مشقیں فوجی جوانوں کے لئے سخت سمجھی جاتی ہیں۔ فوجی مشقوں کے اختتام کے بعد ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیلی آرمی چیف نے کہا کہ اسرائیل کے جغرافیائی حالات ہمیں دفاع کے لیے مشکل ترین مراحل طے کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ ہم فوج کو تربیت دے رہے ہیں تاکہ وہ کسی بھی سخت سے سخت معرکے لیے بھی عملی طور پر تیار ہو جائے۔