اسلام ٹائمز 3 Feb 2020 گھنٹہ 22:05 https://www.islamtimes.org/ur/news/842403/مسلم-ممالک-اس-سازشی-منصوبے-کی-مذمت-کریں-اور-اسے-عملی-جامہ-نہ-پہنائیں-فلسطین -------------------------------------------------- "صدی کی ڈیل" پر او آئی سی کا ہنگامی اجلاس ٹائٹل : مسلم ممالک اس سازشی منصوبے کی مذمت کریں اور اسے عملی جامہ نہ پہنائیں، فلسطین ریاض اور ابوظہبی کا اسرائیلی امن منصوبے کی مذمت سے اجتناب -------------------------------------------------- "صدی کی ڈیل" نامی امریکی اسرائیلی منصوبے پر غور کرنے کیلئے اسلامی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس ایسی حالت میں منعقد ہوا ہے جب اسلامی تعاون تنظیم کے میزبان سعودی عرب سمیت متحدہ عرب امارات اور بحرین اس سازش کے اصلی حمایتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ سعوی عرب اور متحدہ عرب امارات کیطرف سے اس سازشی منصوبے کی مذمت بھی نہیں کی گئی۔ متن : اسلام ٹائمز۔ اسلامی تعاون تنظیم (OIC) نے امریکی-اسرائیلی سازش "صدی کی ڈیل" پر آج سوموار کے روز سعودی عرب کے مغربی شہر جدہ میں ہنگامی اجلاس بلایا جس میں شرکت کیلئے اسلامی جمہوریہ ایران کے وفد کو سعودی عرب کیطرف سے ویزا جاری نہ کئے جانے کے باعث ایران کی کرسی خالی رہی تاہم ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کیطرف سے سعودی عرب کے اس فیصلے پر شدید احتجاج کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ اسلامی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس امریکہ و اسرائیل کیطرف سے پیش کی جانیوالی "صدی کی ڈیل" نامی سازش پر غور کرنے کیلئے 2 روز قبل منعقد کئے گئے "عرب لیگ" کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد بلایا گیا ہے جس میں "صدی کی ڈیل" کو مسترد کر دیا گیا تھا۔ اسلامی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل یوسف بن احمد الثیمین نے اپنے بیان میں کہا کہ اسلامی تعاون تنظیم سال 1967ء کی سرحدوں اور "قدس" شہر کے بطور دارالحکومت پر مشتمل فلسطینی حکومت کی تشکیل کی حمایت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلۂ فلسطین کا حل اسلامی تعاون تنظیم کی اولویت ہے اور ہم بین الاقوامی قراردادوں اور عرب امن اقدام (Arab Peace Innitiative) کے ذریعے وسیع تر امن کے قیام پر تاکید کرتے ہیں۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فلسطینی وزیر خارجہ ریاض المالکی نے کہا کہ "صدی کی ڈیل" کا منصوبہ ٹرمپ حکومت اور اسرائیل کے درمیان طے پایا ہے جبکہ فلسطین اس منصوبے میں فریق نہیں بنا تھا۔ انہوں نے اجلاس میں حاضر تمام مسلمان ملکوں کے نمائندوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس امریکی اسرائیلی سازش کی مذمت کرتے ہوئے اس سازش کو عملی جامہ پہنانے سے اجتناب کریں۔ فسلطینی وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ بین الاقوامی قوانین اور اصولوں پر مبنی ایک سنجیدہ سیاسی سلسلے کی حمایت کرتے ہیں لیکن کسی قسم کے اقتصادی حل و سرمایہ گذاری کے بغیر پیش کئے گئے منصوبے کا کوئی فائدہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کیطرف سے پیش کردہ یہ منصوبہ مکمل طور پر اسرائیل کے فائدے میں ہے جس کے ذریعے فلسطینی حکومت کے دارالحکومت "قدس" شریف پر کئے گئے ناجائز قبضے کو بھی قانونی حیثیت دیدی گئی ہے جبکہ اس سازش کے تحت سکیورٹی کے بہانے سے فلسطین کو اسکے حق حاکمیت سے بھی محروم کر دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ اسلامی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس "صدی کی ڈیل" نامی امریکی-اسرائیلی منصوبے پر غور کرنے کیلئے ایک ایسی حالت میں بلایا گیا ہے کہ جب اسلامی تعاون تنظیم کے میزبان سعودی عرب سمیت متحدہ عرب امارات اور بحرین اس صیہونی-امریکی سازش کے اصلی حمایتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اس اجلاس میں سعوی عرب اور متحدہ عرب امارات کے نمائندوں کیطرف سے "صدی کی ڈیل" نامی امریکی-اسرائیلی منصوبے کی مذمت بھی نہیں کی گئی تاہم سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان بن عبداللہ نے اپنی تقریر کے دوران فلسطینی قوم کیساتھ یکجہتی اور مسئلۂ فلسطین کے عادلانہ حل کا مطالبہ کیا۔