اسلام ٹائمز 27 May 2019 گھنٹہ 3:00 https://www.islamtimes.org/ur/article/796649/امیرالمو-منین-علی-علیہ-السلام-نگاہ-تربیتی -------------------------------------------------- ٹائٹل : امیرالمؤمنین علی علیہ السلام از نگاہ تربیتی -------------------------------------------------- اسلام ٹائمز: افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہم نے امام علیؑ کو بطور کامیاب انسان متعارف نہیں کروایا۔ ہم نے فقط امامؑ کے فضائل بیان کئے یا اِنکی مظلومیت کو سامنے رکھتے ہوئے اِن پر گریہ کیا۔ اِس بات سے انکار نہیں کہ امامؑ کے فضائل بیان ہونے چاہیئں اور آپ کے مصائب پر گریہ ہونا چاہیئے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اِس جانب متوجہ ہوں کہ امامؑ کی زندگی کا یہ پہلو فراموش شدہ ہے۔ ہم نے غفلت برتی ہے اور امام علیہ السلام کی کامیابی کو رول ماڈل کے طور پیش نہیں کرسکے۔ متن : تحریر: عزادار حسین پی ایچ ڈی سکالر، جامع علوم انسانی قم حضرت امام علی علیہ السلام کی زندگی کا ایک ایک لمحہ ہمارے لیے درس اور نمونے کا درجہ رکھتا ہے۔ زبانیں امام علیہ السلام کے فضائل بیان کرنے سے عاجز ہیں اور آپ علیہ السلام کی شخصیت کو لفظوں میں بیان کرنا بھی شاید ممکن نہ ہو۔ نگاہ تربیتی ایسا عنوان نہیں ہے کہ امام علیہ السلام کی ساری زندگی کا احاطہ کرسکے۔ یہاں فقط امام علیہ السلام کے ایک جملے سے ہم راہنمائی لیتے ہیں۔ انیس ماہ رمضان، جب امام علیہ السلام کو ضرب لگتی ہے تو امام فرماتے ہیں کہ "خدا کی قسم، میں کامیاب ہوگیا۔" ہم کوشش کرتے ہیں کہ اس جملے کو سامنے رکھتے ہوئے چند عرائض پیش کریں۔ تعلیم و تربیت میں ایک اہم مرحلہ یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو ایک رول ماڈل سے آشنا کروائیں۔ اس طرح ہم بچوں کے لیے کمال کی جانب سفر کو آسان کر دیتے ہیں۔ آج عموماً دنیا میں جب کامیاب لوگوں کو رول ماڈل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، تو کن لوگوں کے نام لیے جاتے ہیں؟ مائکروسافٹ کے بانی، ایپل بنانے والا شخص، مثلاً بل گیٹس، مارک زکربرگ یا اس طرح کی دوسری شخصات۔ ہم انہیں کامیاب افراد کے طور پر متعارف کراتے ہیں۔ اگر آپ توجہ کریں تو پتہ چلے گا کہ ان افراد کے پاس فقط دو چیزیں ہیں۔ ایک یہ کہ انہوں نے کوئی ایجاد کی یا محنت سے کوئی ایمپائر کھڑی کر دی اور دوسرا اس سے انہوں نے بہت زیادہ دولت کمائی۔ ان کے علاوہ ہم اُن افراد کا ذکر بھی کرتے ہیں، جنہوں نے انسانیت کے لئے کوئی خدمت انجام دی ہو۔ مثلاً ایدھی جیسے افراد کو بھی ہم رول ماڈل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہم نے امام علیؑ کو بطور کامیاب انسان متعارف نہیں کروایا۔ ہم نے فقط امامؑ کے فضائل بیان کئے یا اِن کی مظلومیت کو سامنے رکھتے ہوئے اِن پر گریہ کیا۔ اِس بات سے انکار نہیں کہ امامؑ کے فضائل بیان ہونے چاہیں اور آپ کے مصائب پر گریہ ہونا چاہیئے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اِس جانب متوجہ ہوں کہ امامؑ کی زندگی کا یہ پہلو فراموش شدہ ہے۔ ہم نے غفلت برتی ہے اور امام علیہ السلام کی کامیابی کو رول ماڈل کے طور پیش نہیں کرسکے۔ ہم نے امام علیؑ کو آج تک کس طرح پیش کیا ہے؟ ایک طرف ہم نے اُنہیں امام معصوم کی صورت میں پیش کیا ہے اور ساتھ میں یہ پیغام بھی لیا ہے کہ ہم کبھی بھی امام جیسے نہیں بن سکتے اور نہ ہی امام جیسی زندگی گزار سکتے ہیں۔ اسی طرح امامؑ کے فضائل اور مصائب کو بھی بیان کیا ہے کہ جن سے ہم کوئی درس نہیں لے سکتے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ امام علیہ السلام کے اس جملے کو پورا سال تکرار کیا جائے۔ آپ کی شخصیت کے اس پہلو پر بات کی جائے کہ آپ کامیاب انسان ہیں اور یہ کامیابی کیسے ہے۔ ہمیں کیوں امام علیؑ جیسا کامیاب انسان بننا چاہیئے! اور کیا یہ کامیابی اگر آج دہرائی جائے، تو فرد اور اجتماع کہاں پہنچے گا۔