اسلام ٹائمز 20 Jul 2019 گھنٹہ 22:55 https://www.islamtimes.org/ur/interview/806062/سعودی-عرب-100-سال-بھی-جنگ-لڑ-لے-یمنیوں-کو-شکست-نہیں-دے-سکتا-صاحبزادہ-حامد-رضا -------------------------------------------------- پاکستان کو امریکا کے مقابلے میں اعلانیہ ایران کا ساتھ دینا چاہیئے ٹائٹل : سعودی عرب 100 سال بھی جنگ لڑ لے یمنیوں کو شکست نہیں دے سکتا، صاحبزادہ حامد رضا -------------------------------------------------- اپنے خصوصی انٹرویو میں سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ وقت آگیا ہے کہ ہم ایران کا 65ء والا احسان چکا دیں، اگر امریکا ایران پر جنگ مسلط کرے تو ہمیں اپنے برادر ملک کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیئے، خطے میں مزید کوئی جنگ نہیں چاہتے، احتساب سب کا ہوتا ہوا نظر آنا چاہیئے، یمنیوں کو شکست نہیں دی جاسکتی، یمنی ایمان کی طاقت سے لبریز ہیں۔ سعودی عرب اسلحہ اور پیسہ ہونے کے باوجود اہل یمن کو شکست نہیں دے سکا، ایک دن آل سعود کو یہ ادراک ہوجائیگا۔ متن : صاحبزادہ حامد رضا سنی اتحاد کونسل پاکستان کے چیئرمین ہیں، وہ سنی اتحاد کونسل کے بانی چیئرمین صاحبزادہ فضل کریم کے فرزند ہیں، صاحبزادہ فضل کریم کی وفات کے بعد انہیں قائم مقام چیئرمین منتخب کیا گیا، تاہم بعد ازاں مجلس شوریٰ کے فیصلے کے بعد انہیں باقاعدہ چیئرمین سنی اتحاد کونسل بنا دیا گیا۔ تاحال سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین کے منصب پر فائز ہیں۔ اپنے والد کی نسشت پر قومی اسمبلی کا الیکشن بھی لڑ چکے ہیں، لیکن کامیاب نہ ہوسکے۔ اتحاد بین المسلمین کے داعی ہیں، امریکی سازشوں کے خلاف عوامی بیداری کیلئے آواز اٹھاتے رہتے ہیں۔ عالم اسلام کے مسائل پر ہمیشہ غم زدہ رہتے ہیں، پوری امت کو ایک لڑی میں پرویا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں، شیعہ سنی کی تفریق سے ہٹ کر امت کو مسلمان بن کر رہنے کی تلقین کرتے ہیں۔ اسلام ٹائمز نے ایران امریکا تنازع، یمن پر سعودی یلغار اور ملک کے داخلی ایشو پر تفصیلی انٹرویو کیا ہے، جو پیش خدمت ہے۔ادارہ اسلام ٹائمز: ایران امریکا کشیدگی جاری ہے، ایک مرتبہ پھر کشیدگی بڑھتی دکھائی دے رہی ہے، ایسے میں پاکستان کو کیا کردار ادا کرنا چاہیئے۔؟ صاحبزادہ حامد رضا: میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہمیں امریکا کو بلیک اینڈ وائٹ کلیئر کر دینا چاہیئے کہ ہم کسی جنگ کو اس خطے میں سپورٹ نہیں کریں گے اور اگر جنگ ایران کے اوپر مسلط کی گئی تو برادر اسلامی ملک ہونے کے ناطے ہم ایران کا بھرپور ساتھ دیں گے، میں مطالبہ کرتا ہوں کہ حکومت پاکستان اس بات کا اعلان کرے کہ جنگ کی صورت میں ہم ایران کے ساتھ کھڑے ہونگے، ایران کے ساتھ کھڑے ہونے کی وجوہات ہیں، اول یہ کہ ایران ہمارا پڑوسی اور برادر اسلامی ملک ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ انسان اور قومیں ہمیشہ اس وقت پہچانی جاتی ہیں، جب وہ مشکل وقت ہوتی ہیں، ایسے حالات میں اپنے دوستوں اور دشمنوں کا تعین کرتی ہیں۔ 1965ء کی جنگ کے اندر جب مشکل وقت تھا تو جس طریقے سے ایران نے ہماری مدد کی، اس کی نظیر نہیں ملتی، وہ فیولنگ کے معاملات ہوں یا فنانشل معاملات، ہر محاذ پر ایران نے ساتھ دیا تھا، میں یہ سمجھتا ہوں کہ بحیثیت قوم 1965ء کا احسان ہمارے اوپر ایک قرض کی صورت میں موجود ہے اور اگر ہم زندہ قوم ہونے کا ثبوت دیں اور خدا نخواستہ امریکا کوئی ایسا مس ایڈونچر کرتا ہے تو یہ بہترین وقت ہے کہ ہم وہ احسان چکا دیں اور مشکل وقت میں اپنے محسنوں کے ساتھ کھڑے ہوں۔ اسلام ٹائمز: صدی کی ڈیل پر 26 اور 27 جون کو بحرین میں ایک کانفرنس ہوئی، جسکو فلسطییوں نے مکمل طور پر مسترد کر دیا، البتہ یو اے ای اور سعودی عرب امریکا اور اسرائیل کیساتھ کھڑے ہوئے، اس کانفرنس کے فلسطین اور خطے پر کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔؟ صاحبزادہ حامد رضا: میں اس معاملے میں بڑا کلیئر ہوں کہ اسرائیل اور فلسطین کے مسائل کے اندر ماسوائے ایران یا پاکستان کے کوئی اور ساتھ نہیں، پاکستان بھی سفارتی محاذ پر جبکہ ایران نے تو ہر سطح پر فلسطین کاز کو سپورٹ کیا ہے، پاکستان میں قومی اور حکومتی سطح پر نہ صرف اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا بلکہ ہم نے ہر اس عمل کی مخالفت کی، جو فلسطین کے خلاف تھا، عرب اسرائیل جنگ میں ہماری فوج نے اسرائیل کے خلاف جنگ لڑی اور عربوں کا ساتھ دیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ زیادہ تر اسلامی ممالک منافقانہ پالیسی پر عمل پیرا ہیں، یہ جو صدی کی ڈیل ہے، اصل میں ایک غاصب ریاست کے قبضے کو جواز فراہم کیا جا رہا ہے، اگر جواز فراہم کرنے میں اسلامی ممالک اپنا کندھا پیش کریں گے تو یہ تاریخ کے اندر اس سے بڑا کوئی ظلم نہیں ہوگا، زیادہ تر اسلامی ممالک نے فلسطین ایشو پر فلسطینیوں کا ساتھ نہیں دیا، وہ بیت المقدس کے ایشو پر بھی تقسیم رہے ہیں، ان سب عرب ممالک کے اسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں، لیکن اس کے باوجود فلسطینی تحریک زندہ ہے، ہمارا ایمان ہے کہ یہ تحریک قیامت تک زندہ رہے گی، مسلمان ملکوں کی دوغلی پالیسیاں ہوں یا صدی کی ڈیل، فلسطینیوں کی تحریک زندہ رہے گی، یہ رب العزت کا وعدہ ہے کہ وہ مظلوموں کے ساتھ ہے، ایک دن آئے گا، جب فلسطینی آزاد ہوں گے۔ اسلام ٹائمز: یمن جنگ کو چار سال بیت گئے، سعودی عرب اور اسکے اتحادی ابھی تک پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں، کیا طاقت سے کسی قوم کو شکست دی جاسکتی ہے۔؟ صاحبزادہ حامد رضا: میں یہ سمجھتا ہوں کہ سعودی عرب کی اس سے زیادہ بے عزتی کیا ہوسکتی ہے کہ دنیا کا اسٹیٹ آف آرٹ اسلحہ ان کے پاس موجود ہے، پیسہ ان کے پاس ہے، دنیا کی سپر پاور ان کے ساتھ کھڑی ہے، 41 اسلامی ممالک کا اتحاد ان کے ساتھ ہے، اسکے باوجود یمن کی معصوم عوام جن کے پاس نہ پیسہ ہے، نہ اسلحۃ ہے، سوائے ایمان کی دولت کے، مگر یہ ان کو شکست نہیں دے سکے، قرآن مجید میں اللہ پاک کا وعدہ ہے کہ ایمان سے بڑھ کر کوئی بڑی دولت نہیں، میں یہ سمجھتا ہوں کہ سعودی عرب اگلے سو سال بھی لگا رہے تو وہ اس ایمان کو شکست نہیں دے سکتا، جو یمنی لوگوں کے اندر ہے، اس کا ادراک دیر یا جلد آپ (سعودی عرب) کو ہو جائیگا، سعودی عرب نے یمن کو جو تباہ کرنا تھا کر دیا، ملک کو برباد کر دیا، اس کی اقتصادی حالت بدتر ہوگئی ہے، اب وہاں کوئی حکومت نہیں، اس سے بڑھ کر آپ یمنیوں کے ساتھ کیا کرسکتے ہیں۔؟ میری سعودی عرب سے مراد بادشاہت ہے، یہ کبھی ایمان کو شکست نہیں دے سکتے۔ اسلام ٹائمز: آپکے سیاسی حریف رانا ثناء اللہ کو منشیات کے کیس میں گرفتار کیا گیا ہے، کیا آپکو لگتا ہے کہ یہ منشیات فروش بھی تھا۔؟ صاحبزادہ حامد رضا: میں ایک بات عرض کرتا ہوں، وہ کہتے ہیں نہ کہ دشمن مرے تے خوشی نہ کریئے، سجنا وی مر جانڑا اے، میرے لئے زیادہ خوشی کا مقام ہوتا اگر رانا ثناء اللہ کو ماڈل ٹاون کیس کے اندر یا کالعدم جماعتوں کے ساتھ روابط پر جیل میں ڈالتے، سپاہ صحابہ سے تعلقات اور تعاون کرنے پر جیل میں ڈالتے، کیونکہ میرا تعلق بھی اسی شہر سے ہے، اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ فیصل آباد کے جتنے بھی بڑے منشیات فروش ہیں، ان کو رانا ثناء اللہ کی سرپرستی حاصل رہی ہے، میں دوستی اور دشمنی میں بلند اخلاقیات کا قائل ہوں، میری اپنی ذاتی رائے ہے کہ اس کی گاڑی میں منشیات رکھی گئی ہے، باقی تفتیش اور تحقیقات میں سب سامنے آجائیگا۔ میں مخالفت میں ظرف کا قائل ہوں، اس لیے ایسا الزام عائد نہیں کروں گا، جس میں وہ ملوث نہ ہو، ہاں اس کے کالعدم جماعتوں سے تعلقات آشکار ہیں، ماڈل ٹاون میں ہاتھ واضح ہے۔ اسلام ٹائمز: ماڈل ٹاون کیس کا کوئی منطقی انجام دیکھ رہے ہیں۔؟ صاحبزادہ حامد رضا: میں یہ سمجھتا ہوں کہ ماڈل ٹاون کیس کا کبھی کوئی رزلٹ نہیں نکلے گا، تاریخ کے اندر یہ بدترین فائل بند ہو چکی ہے، کیونکہ پاکستان کے اندر ہر جگہ پر افراد سے لے کر اداروں تک کے مفادات ہوتے ہیں، میں یہ سمجھتا ہوں کہ سانحہ ماڈل ٹاون کے شہداء جس انصاف کے طلبگار ہیں، خدا ہی انکو انصاف دے سکتا ہے، پاکستان کا نظام انصاف اور پاکستان میں انصاف دینے والے لوگ ماڈل ٹاون کے ورثاء کو انصاف نہیں دے سکتے۔ اسلام ٹائمز: احتساب کے معاملے پر اپوزیشن کا کہنا ہے کہ صرف انہیں ہی ٹارگٹ پر رکھا گیا ہے، باقیوں پر ہاتھ نہیں ڈالا جا رہا، آپ کیا کہتے ہیں۔؟ صاحبزادہ حامد رضا: ایک بات عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اگر احتساب ہونا ہے تو فیصل واوڈا کا بھی ہونا چاہیئے، جہانگیر ترین صاحب کا بھی ہونا چاہیئے، پرویز خٹک کا بھی احتساب ہونا چاہیئے، میں اپوزیشن کے جواز کو درست قرار نہیں دے رہا، لیکن احتساب ہوتا ہوا نظر آنا چاہیئے، باقی زرداری اور نواز شریف نے ایک دوسرے کے خلاف کیسز بنائے اور ایک دوسرے کے خلاف بنائے گئے کیسز میں ہی جیل میں ہیں۔