اسلام ٹائمز 2 Feb 2023 گھنٹہ 21:32 https://www.islamtimes.org/ur/article/1039218/آج-کا-دور-خمینی -------------------------------------------------- ٹائٹل : آج کا دور خمینی کا دور -------------------------------------------------- اسلام ٹائمز: سی آئی اے کے سابق سربراہ جیمز ویلزلی کے مطابق "اسلام ایک طاقتور قطب ہے اور خمینی اور خامنہ ای کے پرچم تلے پوری دنیا کو چیلنج کیا جا رہا ہے" اور بحر اوقیانوس کے سربراہی اجلاس میں برزینسکی کے مطابق "تاریخ ایک عظیم موڑ پر پہنچ چکی ہے۔ وہ مقام جہاں خمینی اور خامنہ ای کے رہنماء خطوط ہیں۔" (دوسری طرف حضرت خامنہ ای نے تاریخ کے عظیم موڑ کے بارے میں آگاہ کیا تھا) آج ہم نیتن یاہو کو چیخیں مارتے ہوئے دیکھتے ہیں، وہ کہہ رہا ہے: "میں مشرق وسطیٰ میں جہاں بھی دیکھتا ہوں، میں خمینی اور خامنہ ای کو خیمے لگائے دیکھتا ہوں" اور ایلون ٹوفلر افسوس کرتے ہوئے رہبر انقلاب کی اس بات کی تصدیق کر رہا ہے کہ ’’اس دور کو خمینی کا زمانہ کہنا چاہیئے۔‘‘ متن : تحریر: حسین شریعتمداری   1۔ وہ کہتے تھے کہ علی (ع) سخت تھے اور وہ صحیح کہتے تھے! علی سخت تھے۔ لیکن یہ صرف آدھا سچ تھا اور اس سکے کا ایک اور رخ بھی تھا، جو کہ نہیں بتایا گیا۔ علی (ع) کس پر سخت تھے؟! اس یتیم بچے سے جسے وہ اپنی پیٹھ پر بٹھا کر ہاتھوں اور گھٹنوں کے بل چلتے، تاکہ اس کے دل سے یتیمی کا دکھ مٹ جائے۔ جب علی (ع) نے سنا کہ چوروں نے ایک غیر مسلم لڑکی کے پاؤں سے پازیب چوری کر لی ہے تو وہ اپنا چہرہ تنور کی جلتی ہوئی آگ کے قریب لاتے اور کہتے "اگر کوئی اس غم سے مر جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔" رات کو وہ روٹی اور کھجور کا تھیلا اٹھائے اندھیری گلیوں میں جاتے اور لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ غریبوں میں غذا تقسیم کرتے، تاکہ کوئی غریب رات کو بھوکہ نہ سوئے۔ 2۔ علی (ع) اپنا چہرہ چھپا کر رکھتے، تاکہ پہچانے نہ جائیں، تاکہ فقیر کے ماتھے پر شرمندگی کا پسینہ نہ آ‏‏ئے، وہ اپنے ہاتھ سے چہرے مبارک کو ڈھانپ لیتے۔۔۔۔ علی کے اشارے پر ہوا بھی آہستہ چلتی، تاکہ ایک بچے کی نیند میں خلل نہ پڑے اور۔۔۔۔ کتاب "صوت العدل الانسانیہ" کے عیسائی مصنف جارج جردق لکھتے ہیں: "یہ سب کچھ جو علی (ع) کی فضیلت اور انسان دوستی سے مجھے حاصل ہوا ہے، وہ ناپ تول اور تعداد سے باہر ہے۔ جو ہم تک پہنچا، بہت سی مقداروں میں سے صرف ایک چھوٹا سا حصہ گویا علی (ع) کی صفات کے لامحدود سمندر کا ایک قطرہ ہے۔ اس رائے کی وضاحت کرتے ہوئے جردق نے ایک تلخ حقیقت کی طرف اشارہ کیا اور کہا: "علی کی بہت سی خوبیاں ان کے دشمنوں نے بغض کی بنا پر اور ان کے دوستوں نے تقیہ کی بنا پر فراموش کر دی ہیں۔"   3۔ ظاہری خلافت کے ابتدائی ایام میں کچھ امیر اور خواص راتوں کو آپ کے پاس گئے اور مال کو مساوی طور پر تقسیم کرنے پر شکوہ کیا؟! آپ پہلے والوں کی طرح شرفاء اور خواص کو زیادہ حصہ کیوں نہیں دیتے؟! اور حضرت علی (ع) نے فرمایا تھا: "کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں ان لوگوں پر ظلم کرکے فتح حاصل کروںو جن پر میں حکومت کرتا ہوں؟ خدا کی قسم میں یہ ظلم کبھی نہیں کروں گا۔ اگر یہ جائیداد میری ہوتی، تب بھی میں اسے لوگوں میں برابر تقسیم کر دیتا، یہ مال تو خدا کی ملکیت ہے۔" علی (ع) سخت تھے، لیکن لوگوں کے ساتھ نہیں، حکومت کے ان اہلکاروں کے ساتھ، جن کی ذمہ داری وہ خدا کے بندوں کی خدمت سمجھتے تھے اور انہیں حکم دیتے تھے کہ یہ لوگ یا تو تمہارے دینی بھائی ہیں، یا مخلوق میں تمہارے برابر ہیں۔ دوسری طرف وہ آلودہ جائیدادوں، ناجائز دولت کے مالکوں، غنڈوں اور اس قسم کے تمام لوگوں کے ساتھ سخت تھے۔ یہ وہی متاثرین اور اسراف زدہ لوگوں تھے، جو ہمارے مظلوم آقا کی سختی سے خوفزدہ تھے اور علی (ع) کے انصاف کے بارے میں اپنی بے چینی کو لوگوں کی فکر سمجھتے تھے۔ 4۔ یہاں صفین کا میدان ہے۔ صفر 37 ہجری کا 9واں دن۔ کل رات ایک سخت جنگ لڑی گئی اور غروب آفتاب کے چند منٹ بعد تک، اگرچہ 93 سالہ عمار، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور علی کے وفادار دوست تھے، شہید ہوگئے، لیکن معاویہ کی فوجوں کو زبردست شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ آج کے حملے کے خوف سے وہ پوری رات سو نہیں سکے۔ علی (ع) کے ساتھی انہیں اس حد تک لے گئے کہ ان کی دہشت کی آواز کتوں کے چیخنے کے مترادف تھی اور اسی وجہ سے انہوں نے اس رات کو "لیلۃ الحریر" یعنی کتوں کے چیخنے کی رات کا نام دیا۔ تاہم، آج جنگ ایک گھنٹہ پہلے شروع ہوچکی تھی اور علی (ع) کی فوج کے کمانڈر مالک اشتر نے شام کی فوج کو تتر بتر کر دیا اور معاویہ کے خیمے کے قریب جا پہنچے، جو آج کے وائٹ ہاؤس کی طرح ہے۔ لیکن معاویہ کی فوجوں نے عمرو عاص کی چال سے قرآن کو نیزوں پر بلند کر دیا اور علی (ع) نے اس چال کے بعد مالک کو  واپس بلایا، جس نے کچھ کم عقل لوگوں میں شکوک پیدا کر دیئے تھے۔ مالک پریشان ہے۔۔۔۔ اسلام کا مستقبل خوفناک ہے۔۔۔ لیکن اس نے اپنے امام کی اطاعت کو ہر چیز پر مقدم رکھا۔   5۔ چند سال پہلے کیہان میں ایک آرٹیکل میں ہم نے ذکر کیا تھا کہ "امیر مومنین (ع) کے سامنے دشمنی اور عداوت کے لیے تین دھڑے موجود تھے۔ پہلے ناکثین، جیسے طلحہ اور زبیر، جن میں سے کچھ علی کو چاہتے تھے، لیکن علی کی عدالت کو پسند نہیں کرتے تھے۔ دوسرا گروہ مارکین، خوارج، جو علی (ع) کے بغیر انصاف کی تلاش میں تھے۔ تیسرا گروہ قاسطین کا تھا، جیسے معاویہ اور اس کا گروہ۔ جو نہ علی (ع)  اور نہ انصاف چاہتے تھے۔ اگرچہ ان تینوں دھڑوں نے ہمارے آقا علی (ع) کے خلاف جنگ کا  جھنڈا بلند کیا، صرف اس وجہ سے کہ علی (ع) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خالص اسلام کی نمائندگی کرتے تھے اور "علوی انصاف" پر اصرار کرتے تھے، جو "پیغمبرانہ انصاف" کا حقیقی ترجمہ تھا۔ 6۔ ایک نصیحت آمیز اور سبق آموز نکتہ یہ ہے کہ تاریخ کی غیر واضح اور غیر مبہم گواہی کے مطابق، ناکثین اور مارکین نے نہ صرف حضرت امیر (ع) کے دور میں بلکہ تمام ادوار میں قاسطین کی خدمت کی ہے اور قاسطین نے مارکین اور ناکثین کو استعمال کیا ہے۔ ناکثین میں سے طلحہ اور زبیر فتنہ جمل میں معاویہ کی طرف سے علی (ع) کے خلاف صف آراء ہوئے، کربلا میں شمر وہ شخص تھا، جس نے امام حسین (ع) کے خلاف سب سے زیادہ ظلم کیا، خوارج میں سے تھا! ابن ملجم مرادی  قاتل علی (ع) بھی خارجی تھا۔۔ دور کیوں جائیں؟ ایران میں 88 کے فتنہ کے دوران، فتنہ کے سرغنہ اور اس واقعے کے بہت سے دوسرے اہم عوامل نے کافروں اور منافقوں کا ساتھ دیا اور امام (رہ) کی توہین سے بھی باز نہ آئے اور نہ اس فعل کی مذمت کی اور آخر کار قاسطین کے ساتھ مل گئے، جو آج جو کے دور میں امریکہ، اسرائیل اور انگلینڈ کی منحوس مثلث ہے؟! اس گروہ نے ابتداء میں فتنہ کے دوران حط امام کا پیرو ہونے کا کا دعویٰ کرتے ہوئے کھلم کھلا امام خمینی کی توہین کی، امام حسین (ع) کے مقدسات کو آگ تک لگائی اور اسطرح امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے خالص اسلام پر وار کیا، اس جنگ میں منافق، بہائی، مارکسی، شاہی سب شامل تھے۔ 7۔ مالک غمگین ہے، وہ علی کو اپنی طاقت کے عروج پر مظلوم دیکھتا ہے۔ وہ اپنی آنکھوں سے بہتے آنسو پونچھتا ہے۔ وہ آہستہ آہستہ عمار کے پاس جاتا ہے۔ "کاش ہم علی (ع) کو ایک ایسے دور میں لے جائیں، جہاں لوگ ان کی تعریف کریں اور ان کے طریقے اور رسم و رواج کو ترجیح دیں۔" عمار نے مالک کو تسلی دی۔ "وہ دن آنے والے ہیں، جو تم چاہتے ہو۔ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایسے لوگوں کا ذکر سنا ہے، جو اپنے آباء کے صلب میں اور اپنی ماؤں کے رحموں میں ہیں اور جب وہ وقت آئے گا، جس کی تم نے تمنا کی تھی تو وہ لوگ آجائیں گے، جو لبیک کہتے ہوئے "میں" اور "ہم" سے بے پرواہ صرف اور صرف اپنے مولا کی اطاعت کا دم بھرتے ہوئے آگے بڑھیں گے، ان کا دل محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے خالص اسلام سے مربوط ہے۔ وہ علی (ع) کو اپنا امام، استاد اور رہنما مانتے ہیں۔ وہ تسلط کے نظام کی تاریکی کو توڑتے ہوئے ایک نیا منصوبہ سامنے لائیں گے۔ رسول خدا (ص) نے جس کا وعدہ کیا تھا، وہ آئے گا اور جن مجرمین نے علی (ع) کی زندگی کے خاتمے کو اس دنیا میں اسلام کا خاتمہ سمجھا تھا وہ خوف سے بلک اٹھیں گے۔ علی کے یہ مرید دشمن کا مقابلہ کریں گے۔ اپنے تمام دشمنوں کو الکفر ملهًْ واحده‌» کا نمونہ کہہ کر ہر طرف سے ان پر چڑھ دوڑتے ہیں۔ ایک بار پھر جمل، صفین اور نہروان کا منظر ہوگا، لیکن اس بار جمل کی طرح ناکثین سامنے ٹک نہیں سکین گے اور صفین کی طرح وہ فریب کے نیزے سے زخمی نہیں ہونگے، اور نہ نہروان جیسی صورت حال ہوگی۔ شیطان انسانوں اور جنوں کی اپنی فوجوں کو پکارے گا: تم کیوں بیٹھے ہو؟! اسلام ایک بار پھر تاریخ کی باڑ توڑ کر 1400 سال بعد میدان میں آگیا ہے۔   8۔ "خمینی کے  دور کا آغاز یقیناً اسی طرح ہوا۔ جس دور کی مالک نے تمنا کی تھی اور عمار نے بشارت دی تھی اور حضرت روح اللہ نے اس زمانے کے لوگوں کے بارے  میں فرمایا: "میں جرات کے ساتھ دعویٰ کرتا ہوں کہ ملت ایران اور اس کے کروڑوں لوگ رسول خدا (ص) کے دور کی قوم حجاز اور امیر المومنین (ع) کے دور کے اہل کوفہ سے بہتر ہیں۔" یہ نکتہ مصر کے مشہور ادیب اور صحافی "محمد حسنین ہیکل" سے بھی نقل ہوا ہے۔ وہ امام خمینی (رہ) سے اپنی پہلی ملاقات کے بارے میں لکھتے ہیں، جو کہ اسلامی انقلاب کی فتح کے بعد تہران میں ہوئی تھی۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک صحابی کو اس طرح دیکھا کہ جیسے وہ وقت کی 1400 سالہ سرنگ سے گزر کر موجودہ دور میں پہنچ گئے ہیں، تاکہ علی (ع) کے فوجیوں کو اکٹھا کریں، جو ان کی شہادت کے بعد بکھر گئے تھے۔ بھولے ہوئے اسلام کو دوبارہ قائم کریں، عدل علی (ع) کو حکومت کی کرسی پر بٹھا دیں۔ میں خمینی کے چہرے میں یہ صلاحیت صاف دیکھ رہا ہوں۔"   9۔ میں نہیں جانتا کہ یہ کس نے کہا؟ میں نے اسے کہیں پڑھا اور سنا۔ یہ ایک دانشمندانہ جملہ ہے "اگر ہمیں امیر المومنین (ع) کی سیرت و زندگی پر پرکھا جائے اور ملامت کی جائے، تو یہ ہمارے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ ہمیں لبرل ازم پر پرکھیں اور ہماری حوصلہ افزائی کریں۔ امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے جانشین نے یہ انداز اختیار کیا ہے کہ وہ 44 سال تک دنیا کی تمام چھوٹی اور بڑی طاقتوں کی کینہ توزیوں اور سازشوں کے سامنے کھڑے ہیں اور خواجہ شیراز، کے الفاظ کا مصداق بنے ہوئے ہیں یعنی ہم ’’عدم کی حد‘‘ سے ’’ عالم وجود‘‘ تک آئے ہیں۔ 10۔ اب اس طرف اور دنیا کے دوسرے رخ پر ایک نظر ڈالیں۔ ہم  کیا دیکھتے ہیں۔ سی آئی اے کے سابق سربراہ جیمز ویلزلی کے مطابق "اسلام ایک طاقتور قطب ہے اور خمینی اور خامنہ ای کے پرچم تلے پوری دنیا کو چیلنج کیا جا رہا ہے" اور بحر اوقیانوس کے سربراہی اجلاس میں برزینسکی کے مطابق "تاریخ ایک عظیم موڑ پر پہنچ چکی ہے۔ وہ مقام جہاں خمینی اور خامنہ ای کے رہنماء خطوط ہیں۔" (دوسری طرف حضرت خامنہ ای نے تاریخ کے عظیم موڑ کے بارے میں آگاہ کیا تھا) آج ہم نیتن یاہو کو چیخیں مارتے ہوئے دیکھتے ہیں، وہ کہہ رہا ہے: "میں مشرق وسطیٰ میں جہاں بھی دیکھتا ہوں، میں خمینی اور خامنہ ای کو خیمے لگائے دیکھتا ہوں" اور ایلون ٹوفلر افسوس کرتے ہوئے رہبر انقلاب کی اس بات کی تصدیق کر رہا ہے کہ ’’اس دور کو خمینی کا زمانہ کہنا چاہیئے۔‘‘