اسلام ٹائمز 12 Jan 2022 گھنٹہ 20:32 https://www.islamtimes.org/ur/news/973229/بھارت-اور-چین-کے-درمیان-فوجی-کمانڈر-سطح-کی-بات-چیت-14ویں-دور-کا-آغاز -------------------------------------------------- ٹائٹل : بھارت اور چین کے درمیان فوجی کمانڈر سطح کی بات چیت کے 14ویں دور کا آغاز -------------------------------------------------- بھارت نے نام تبدیل کرنے کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اروناچل پردیش ہمیشہ سے ہندوستان کا اٹوٹ انگ رہا ہے اور رہے گا۔ متن : اسلام ٹائمز۔ بھارت اور چین کے درمیان سینیئر سپریم ملٹری کمانڈر سطح (ایس ایچ ایم سی ایل ) کی بات چیت کا 14واں دور بدھ کو چین کے چُشول مولڈو میں شروع ہوا۔ یہ اطلاع بھارت کی سیکورٹی ذرائع نے دی ہے۔ بھارت کی جانب سے اس کی نمائندگی لیہہ میں مقیم فائر اینڈ فیوری کور کے نئے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل انندا سین گپتا کر رہے ہیں، جبکہ چین کی نمائندگی جنوبی سنکیانگ ملٹری ڈسٹرکٹ کے کمانڈر میجر جنرل یانگ لن کر رہے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل انندا سین گپتا نے لیفٹیننٹ جنرل پی جی کے مینن سے ایلیٹ کور کی کمان سنبھال لی ہے۔ کارگل جنگ کے بعد یکم ستمبر 1999ء کو تشکیل دی گئی 14ویں کور نے سیاچین گلیشیئر سمیت دنیا کے کچھ سب سے بلند ترین جنگی علاقوں پر سخت نگرانی رکھتے ہوئے پاکستان کے ساتھ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) اور چین کے ساتھ لائن آف ایکچوول کنٹرول (ایل اے سی) دونوں سے حفاظت کو یقینی بنایا۔   بھارتی ذرائع کے مطابق بھارت ہمیشہ سے تنازعات والے علاقوں میں توازن برقرار رکھنے کے لئے تعمیری بات چیت کا خواہاں رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشرقی لداخ میں تصادم کے باقی ماندہ مقامات سے دونوں ممالک کی فوجوں کو واپس بلانے کے عمل پر تبادلہ خیال کیا جائے گا، جہاں چینی فریق اب تک مذاکرات میں پیچھے ہٹنے سے انکاری ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان یہ بات چیت ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب چین نے حال ہی میں اروناچل پردیش کے 15 مقامات کے ناموں کا ’اسٹینڈرائز‘ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ بھارت نے نام تبدیل کرنے کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اروناچل پردیش ہمیشہ سے ہندوستان کا اٹوٹ انگ رہا ہے اور رہے گا۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وینبِن نے کہا کہ اس وقت چین بھارت سرحد پر صورتحال مستحکم ہے۔ دونوں ممالک سفارتی اور فوجی ذرائع سے بات چیت اور رابطے کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ دونوں فریق مل کر بات چیت کے ذریعے حل تلاش کریں گے۔ خیال رہے اس سے قبل کور کمانڈر سطح کی آخری میٹنگ 10 اکتوبر کو چشول مولڈو بارڈر پر بغیر کسی پیشرفت کے ختم ہوگئی تھی۔