اسلام ٹائمز 5 Jun 2021 گھنٹہ 18:33 https://www.islamtimes.org/ur/news/936446/انیسویں-صدی-کی-سوچ-کیساتھ-21ویں-کے-تقاضے-پورے-نہیں-کر-سکتے-ڈاکٹر-قیس-اسلم -------------------------------------------------- ٹائٹل : انیسویں صدی کی سوچ کیساتھ 21ویں صدی کے تقاضے پورے نہیں کر سکتے، ڈاکٹر قیس اسلم طلبہ تنظیموں کا تعلیمی شعبے کو کرپشن سے پاک کرنے کیلئے نیب میں خصوصی ڈیسک قائم کرنے کا مطالبہ -------------------------------------------------- ایم ایس ایم کے زیراہتمام "ایجوکیشن بجٹ سیمینار" سے خطاب میں مقررین کا کہنا تھا کہ اڑھائی کروڑ بچے سکول نہیں جاتے یہ کل بھی سنتے تھے، آج بھی سن رہے ہیں مگر یہ بچے سکولوں میں کیسے آئیں گے کوئی منصوبہ بندی نظر نہیں آ رہی۔ تمام طلبہ تنظیموں نے متفقہ طور پر مطالبہ کیا کہ تعلیمی بجٹ جی ڈی پی کے 5 فیصد کے برابر لایا جائے۔ متن : اسلام ٹائمز۔ مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ کے زیر اہتمام منعقدہ ”ایجوکیشن بجٹ سیمینار“ سے خطاب کرتے ہوئے معروف اکانومسٹ ڈاکٹر قیس اسلم نے کہا کہ 19 ویں صدی کی سوچ کیساتھ ہم 21 ویں صدی کے تقاضے پورے نہیں کر سکتے۔ ریاست جو تعلیم دے رہی ہے وہ عصری ضروریات سے ہم آہنگ نہیں، ہمارا نظام تعلیم تخلیق اور تحقیق کے جوہر سے عاری ہے۔ ایجوکیشن بجٹ سیمینار سے ناظم اعلیٰ منہاج القرآن انٹرنیشنل خرم نواز گنڈاپور، معروف اینکر پرسن اجمل جامی، سینئر صحافی و اینکر پرسن اسد اللہ خان، مرکزی سیکرٹری اطلاعات نور اللہ صدیقی، ایم ایس ایم کے مرکزی صدر چودھری عرفان یوسف، مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صدر سہیل چیمہ، اہلحدیث سٹوڈنٹس فیڈریشن کے مرکزی رہنما ڈاکٹر مبشر جاوید، دانش وڑائچ، انجمن طلبہ اسلام، زاہد مہدی امامیہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن، عمار کشمیری نائب صدر جمعیت طلبہ محاذ نے خطاب کیا۔ خرم نواز گنڈاپور نے کہا کہ دکھی دل سے کہنا پڑ رہا ہے کہ تعلیم کے معاملے میں حکومتوں کے بیانات اور عملی اقدامات میں فرق ہوتا ہے۔ تعلیم پہلی ترجیح ہوتی تو پاکستان کی 50 فیصد آبادی ناخواندہ نہ ہوتی۔ اجمل جامی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی شعبہ کو درپیش مسائل سوشل میڈیا پر اٹھائے جائیں۔ سینئر اینکر پرسن اسد اللہ نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ لفظ اپنی تاثیر کھو چکے میڈیا کی موثریت ختم ہو گئی اب سوشل میڈیا کا راج ہے۔ نوجوان اپنے مسائل کے حل کیلئے سوشل میڈیا کا موثر استعمال کریں۔ چودھری عرفان یوسف نے کہا کہ اڑھائی کروڑ بچے سکول نہیں جاتے یہ کل بھی سنتے تھے، آج بھی سن رہے ہیں مگر یہ بچے سکولوں میں کیسے آئیں گے کوئی منصوبہ بندی نظر نہیں آ رہی۔ تمام طلبہ تنظیموں نے متفقہ طور پر مطالبہ کیا کہ تعلیمی بجٹ جی ڈی پی کے 5 فیصد کے برابر لایا جائے، اساتذہ کی ٹریننگ اور ان کے مسائل حل کئے جائیں، یکساں نصاب تعلیم بلاتاخیر رائج کیا جائے، بذریعہ قانون سازی اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ منتخب نمائندوں کے بچے سرکاری سکولوں میں پڑھیں گے۔ تمام طلبہ تنظیموں نے مطالبات کی  متفقہ منظوری دی۔ تعلیمی شعبے کو کرپشن سے پاک کرنے کیلئے نیب میں خصوصی ڈیسک قائم کیا جائے۔