اسلام ٹائمز 19 Dec 2020 گھنٹہ 23:38 https://www.islamtimes.org/ur/news/904847/2020-سیاستدان-پارلیمنٹ-کم-اور-عدالتوں-کے-چکر-زیادہ-لگاتے-رہے -------------------------------------------------- ٹائٹل : 2020، سیاستدان پارلیمنٹ کم اور عدالتوں کے چکر زیادہ لگاتے رہے -------------------------------------------------- اپوزیشن لیڈر سمیت کئی سیاستدانوں نے گرفتاریوں سے بچنے کیلئے عدالتوں کا رخ کیا۔ ہائیکورٹ اور احتساب عدالت کی راہ داریوں میں سال بھر سیاستدانوں کے نام کی آوازیں گونجتی رہیں۔ متن : اسلام ٹائمز۔ 2020 کا سورج بھی متعدد سیاستدانوں کیلئے نیک شگون ثابت نہ ہوا، سیاستدان پارلیمنٹ کم اور عدالتوں کے چکر زیادہ لگاتے رہے۔ اپوزیشن لیڈر سمیت کئی سیاستدانوں نے گرفتاریوں سے بچنے کیلئے عدالتوں کا رخ کیا۔ ہائیکورٹ اور احتساب عدالت کی راہ داریوں میں سال بھر سیاستدانوں کے نام کی آوازیں گونجتی رہیں۔ کرپشن، آمدن سے زائد اثاثہ جات سمیت دیگر کیسز کے دلدل پھنسے سیاستدانوں نے ضمانتوں کیلئے عدالتوں کا رخ کیا۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے منی لانڈرنگ ریفرنس میں ضمانت کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی لیکن ضمانت نہ ملنے پر ہائیکورٹ سے ہی گرفتار ہوگئے۔ مریم نواز نے اپنا نام ای سی ایل سے نکلوانے کے لیے ہائیکورٹ سے رجوع کیا لیکن تاحال اس کیس پر فیصلہ نہیں ہو سکا۔ صوبائی اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز بھی منی لاندڑنگ کیس میں ضمانت نہ ملنے پر اسیری کاٹ رہے ہیں جبکہ آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں رانا ثناء اللہ لاہور ہائیکورٹ سے عبوری ضمانت پر ہیں۔ نیب کی تابڑ توڑ گرفتاریوں کے بعد اپوزیشن جماعت کے رہنما احتساب عدالت کی راہداریوں میں نظر آئے۔ شہباز شریف گرفتار ہوئے تو احتساب عدالت میں پیشیاں شروع ہو گئیں۔ نیب اس سال بھی چوہدری برادران، علیم خان اور سبطین خان کے خلاف تفتیش مکمل کر کہ ریفرنس دائرنہ کر سکا۔ سال 2020 میں احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کو گیپکو اسکینڈل میں بری کیا۔ انسداد دہشتگردی عدالت نے جرم ثابت ہونے پر جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کو مختلف مقدمات میں سزائیں سنائیں جبکہ لاہور کے مختلف تھانوں میں مقدمات درج ہونے پر لیگی رہنما ضمانتوں کے لیے عدالتوں پیش ہوئے اور ابھی بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔