اسلام ٹائمز 18 Nov 2022 گھنٹہ 20:48 https://www.islamtimes.org/ur/news/1025330/تاخیر-سے-نہیں-بلکہ-زیرو-ٹالرنس-کی-پالیسی-دہشتگردی-کا-خاتمہ-ہوگا-نریندر-مودی -------------------------------------------------- ٹائٹل : تاخیر سے نہیں بلکہ زیرو ٹالرنس کی پالیسی سے دہشتگردی کا خاتمہ ہوگا، نریندر مودی -------------------------------------------------- دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے ضروری ہیکہ اس کی رقوم کی فراہمی کے ذرائع کا پتہ لگایا جائے اور ان پر روک لگائی جائے، اسکے لئے انہوں نے عالمی برادری سے متحد ہو کر کوششیں کرنے کا مطالبہ کیا۔ متن : اسلام ٹائمز۔ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے دہشتگردی کو انسانیت کے لئے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا اور بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ چوری کا رویہ چھوڑ کر اس کے خلاف صفر برداشت کی پالیسی اپنائے تاکہ اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکا جا سکے۔ آج یہاں نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کے زیر اہتمام ’دہشتگردی کے لئے کوئی پیسہ نہیں‘ کے موضوع پر تیسری بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ بھارت کو کئی دہائیوں سے اس مسئلے کا سامنا ہے لیکن اس نے پختہ عہد کیا ہے کہ جب تک دہشتگردی کا خاتمہ نہیں ہو جاتا، تب تک وہ آرام سے نہیں بیٹھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں اس کانفرنس کے انعقاد کی اپنی اہمیت ہے کیونکہ بھارت کو اس وقت سے دہشتگردی کا سامنا ہے جب بیشتر ممالک نے اسے نظرانداز کیا تھا۔ دہشتگردی کو پوری انسانیت کے لئے خطرہ بتاتے ہوئے مودی نے کہا کہ اس کا غریب عوام اور مقامی معیشت پر دور رس اثر پڑتا ہے اور لوگوں کی روزی روٹی تباہ ہوتی ہے۔ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے ضروری ہے کہ اس کی رقوم کی فراہمی کے ذرائع کا پتہ لگایا جائے اور ان پر روک لگائی جائے، اس کے لئے انہوں نے عالمی برادری سے متحد ہو کر کوششیں کرنے کا مطالبہ کیا۔ مودی نے کہا کہ کچھ ممالک اچھی اور بری دہشتگردی کی بات کر کے دہشتگردی کی بالواسطہ حمایت کرتے ہیں جو کہ سراسر ناانصافی ہے۔ انہوں نے پاکستان کا نام لیے بغیر کہا کہ بعض ممالک خارجہ پالیسی کا حصہ بن کر دہشتگردی کی حمایت کرتے ہیں اور ان تنظیموں کو نظریاتی اور سیاسی حمایت دیتے ہیں۔ بین الاقوامی برادری کو بالواسطہ اور بلاواسطہ اور دہشتگردی کی حمایت کرنے والے ممالک اور تنظیموں کو الگ تھلگ کرنے کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ دہشتگردی سے اگر مگر لیکن مخمصے کی پالیسی سے نہیں نمٹا جا سکتا اور اس کے لئے زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنانا بہت ضروری ہے۔