اسلام ٹائمز 27 Aug 2019 گھنٹہ 17:10 https://www.islamtimes.org/ur/interview/812930/پاکستان-عرب-عجم-کی-امداد-کے-بغیر-کشمیر-آزاد-کروا-سکتا-ہے-سینیٹر-ولید-اقبال -------------------------------------------------- سب پاکستانی تمام بھارتی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں ٹائٹل : پاکستان عرب و عجم کی امداد کے بغیر کشمیر آزاد کروا سکتا ہے، سینیٹر ولید اقبال -------------------------------------------------- پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر کا اسلام ٹائمز کیساتھ انٹرویو میں کہنا تھا کہ چین اور ایران کی مثال بھی ہے، جنہوں نے تجارتی تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کشمیریوں کی حمایت اور بھارت کی مخالفت کی ہے، حالانکہ ایران اسوقت عرب ممالک کی نسبت زیادہ مجبور اور بھارتی تعاون چاہتا ہے، لیکن یہ انکا اصولی موقف ہے، جس پہ کشمیری بھی انکے شکر گذار ہیں اور پاکستانی عوام، افواج اور حکومت نے بھی انکا شکریہ ادا کیا ہے۔ یہ ضروری ہے کہ پاکستان عالمی برادری اور عالم اسلام کو اپنے موقف سے آگاہ کرنے کیلئے ہر پاکستانی کو متحرک کرے، سوشل میڈیا سمیت جدید دنیا کو تمام وسائل بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔ متن : مصور پاکستان علامہ اقبال کے پوتے ولید اقبال نے ابتدائی تعلیم ایچی سن کالج لاہور سے حاصل کی، 1988ء میں امریکہ سے معاشیات میں گریجوایشن کیا، 1994ء میں یونیورسٹی آف پنجاب لاہور سے ایل ایل بی مکمل کیا اور 1997ء میں ھاورڈ اسکول سے قانون میں ماسٹر مکمل کیا۔ انہوں نے کیمرج سے فلسفے میں بھی ماسٹر کی ڈگری حاصل کی ہے۔ 1997ء سے 2005ء تک انٹرنیشنل لاء فرمSullivan & Cromwell and Freshfields Bruckhaus Deringer میں کام کرتے رہے۔ وہ نجکاری، انضمام کار، کارپوریٹ اینڈ پروجیکٹ فنانس، مالیاتی ادارے، سرمایہ کاری کی مینجمنٹ، اشتراک کار، توانائی، پیٹرولیم، اثاثہ جاتی مالیات، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ٹیلی کیمونیکیشن، سافٹ ویئر ڈیولیپمنٹ اور کارپوریٹ ری اسٹرکچرنگ میں متخصص ہیں۔ 2005ء سے لاہور یونیورسٹی آف میجمنٹ سائنسز کے سلیمان داؤد بزنس اسکول میں بزنس لاء کے استاد ہیں۔ وہ سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن، لاہور اسٹاک ایکسچینج اور پیٹرولیم کے عالمی مذاکرات کاروں کی ایسوسی ایشن کے ممبر ہیں۔ انہوں نے 2013ء میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کی نشست پر الیکشن میں حصہ لیا، دسمبر 2018ء میں پنجاب سے سینیٹ آف پاکستان کے رکن منتخب ہوئے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماء کیساتھ اسلام ٹائمز کا انٹرویو قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔(ادارہ) اسلام ٹائمز: بھارت کی ہٹ دھرمی میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے، پاکستان کی کوششوں سے کوئی نمایاں تبدیلی کیوں نہیں آرہی، کیا پس پردہ کوئی ڈیل ہونے جا رہی ہے۔؟ ولید اقبال: یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان جنگ نہیں چاہتا، وزیراعظم نے یہ بات بار بار دہرائی ہے، ہر فورم پہ اس کی پیشکش ہے، پاکستان افغانستان میں بھی جنگ کے خاتمے کیلئے بنیادی کردار ادا کر رہا ہے، اس کے باوجود روز پاکستانی افواج کیخلاف حملے ہو رہے ہیں، کشمیریوں کیلئے عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا ہے، ہم اسے برداشت نہیں کرسکتے، بھارت کا کوئی سورما یہ سمجھے کہ جنگ کے دباؤ کیوجہ سے پاکستان کو کشمیر پہ سودا بازی کیلئے تیار کر لیا جائیگا، کوئی حکومت کشمیر پہ سودا بازی کر لے گی، تو وہ یہ بھول رہے ہیں کہ کشمیر ہمارے لہو اور ہماری رگوں میں موجود ہے، ہمارا لہو کشمیر کیلئے بہہ سکتا ہے، ہمارے خون کا ایک ایک قطرہ کشمیر کیلئے حاضر ہے، ہم نے کشمیر کیلئے تین جنگیں لڑی ہیں، ضرورت پڑی تو چوتھی جنگ بھی لڑینگے۔ اس کے لیے نہ ہمیں اپنے حال کی فکر ہے اور نہ مستقبل کی پرواہ ہے، یہ ہماری زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ ہمارا پورا دفاعی نظام بھارت کو سامنے رکھ کر بنایا گیا ہے، پاکستان پوری دنیا میں کشمیر پالیسی کی وجہ سے دباؤ کا سامنا کر رہا ہے، یہ تو نہیں ہوسکتا کہ کوئی بھی اس پہ ہمیں مجبور کر لے کہ ہم کشمیر کو بھول جائین، جس قانون میں بھارت نے تبدیلی کی ہے، اس سے کشمیر کی حیثیت متاثر ہو رہی ہے، پاکستان اپنے موقف پہ قائم ہے کہ کشمیر بھارت کا حصہ نہیں ہے، کشمیر پہ بھارت کا جو غاصبانہ قبضہ تھا، اسے جائز قرار دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، بھارت کو پتہ ہونا چاہیئے کہ وہ آگ سے کھیل رہے ہیں، یہ آگ اگر پھیلتی ہے تو پوری دنیا اس کی لپیٹ میں آسکتی ہے۔ مسئلہ کشمیر پر کوئی ڈیل نہیں ہوسکتی، نہ ہی یہ سوچا جا سکتا ہے۔ اسلام ٹائمز: عرب برادری سمیت دنیا معاملے کو دوطرفہ قرار دیکر مذاکرات کی بات کر رہی ہے، ایسے میں اکیلا پاکستان کیسے کشمیریوں کو بھارتی بربریت سے نجات دلائیگا۔؟ ولید اقبال: اس میں شک نہیں کہ بھارت کی عیاری اور سینہ زوری کیوجہ سے بیشتر دنیا پاکستانی موقف سے کوسوں دور ہے، لیکن اس سے ہمارے عزم و ارادے میں کمزوری نہیں آنی چاہیئے، یہ پاکستان کا کڑا امتحان ہے کہ ہم کیسے کشمیری بھائیوں کو اس عذاب سے آزاد کروائیں، پاکستان کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ پاکستانی قوم اور فوج اس موقف سے پیچھے نہیں ہٹے گی، نہ ہم نے پہلے کبھی اس پر کمپرومائز کیا ہے، نہ اب کرینگے، جنگ سمت ہر آپشن کو استعمال کرینگے، ہمیں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہم اپنے ملک اور حکومت کو مجبور نہ سمجھیں اور نہ ہی دوسروں پر انحصار کرکے فتح حاصل کی جا سکتی ہے، جس طرح پاکستان کیلئے ممکن نہیں ہوتا کہ کسی دوسرے حلیف ملک کی مدد کیلئے یا کسی اور خطے میں فوری طور پر مداخلت کرسکے، یا اپنی معیشت اور سیاست کو داؤ پر لگا دے، اسی طرح ہمیں دوست ممالک، بالخصوص مسلم ممالک کا اپنا مفاد اور تجارتی تعلقات ہیں، ہمیں مایوس ہونے کی بجائے اپنے سفارتی تعلقات کو مضبوط بنا کر انہیں اپنی حمایت پہ قائل کرنا چاہیئے، جس طرح پاکستان کے عوام تمام مسلمانوں کیلئے اپنے دلوں میں ہمدردی کے جذبات رکھتے ہیں، اسی طرح مسلم ممالک میں بسنے والے عوام بھی کشمیریوں بھائیوں کے دکھ درد کو محسوس کرتے ہیں۔ اسلام ٹائمز: کیا عرب ممالک کی خاموشی اور بھارتی وزیراعظم کو ایوارڈز دیکر کشمیریوں کے زخموں پر نمک پاشی قابل مذمت نہیں۔؟ ولید اقبال: یہ حقائق ہیں، ان سے ہر پاکستانی کو دکھ ہوا ہے، بھارت نے ایک ناگہانی صورتحال پیدا کی ہے، بھارت ایک ایسا ملک ہے، جو اپنے بانی وزیراعظم کے معاہدوں، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور پاکستان کیساتھ جو معاہدے ہوئے، ان سے منحرف ہوچکا ہے، براہ راست ہم بھارت کے مقابلے میں ہیں، جو کچھ انہوں نے جس انداز میں کیا ہے، اس کے لیے پورے طور پر ہم بھی تیار نہیں تھے، مسلم ممالک بھی تیار نہیں تھے، جو حقیقت ہے کہ ہمیں تنہائی کے احساس سے باہر نکلتے ہوئے اپنے محاذ پہ خود لڑنا ہے، یہی واحد راستہ ہے، جو کامیابی سے ہمکنار کرسکتا ہے، اس کی ہمارے سامنے مثال موجود ہے، قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں برصغیر کے مسلمانوں نے آزادی حاصل کی، جس کیلئے کسی بیرونی امداد اور سہارے پر بھروسہ نہیں کیا گیا۔ اب تو پاکستان ایک طاقت ہے، دنیا میں اپنا مقام رکھتا ہے، قوت اور فورس کا مالک ہے، دنیا کی مجبوری ہے کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات استوار رکھے، اب بھی وقت ہے، جن ممالک نے کڑے وقت میں پہلے پاکستان کی مدد کی ہے، ان سے بات کی جائے، صورتحال سے آگاہ کیا جائے، نہ مسئلہ کشمیر فوری طور پر حل ہوگا، نہ ہمارے دوست ممالک ایک دم ہمارے ساتھ آکھڑے ہونگے، اگر ہم ثابت قدمی سے اپنی کوشش جاری رکھیں تو بھارتی عزائم کا ناکام بنایا جا سکتا ہے۔ اسلام ٹائمز: کیا عرب ممالک پاکستان کی کمزور اکانومی کیوجہ سے پاکستان کو کوئی اہمیت نہیں دیتے یا انہیں احساس ہی نہیں ہے کہ بھارت کے مقابلے پاکستان کی کتنا اہم ہے۔؟ ولید اقبال: یہ بات افسوس کا باعث ہے کہ برصغیر کی تاریخ دوبارہ لکھی جا رہی ہے اور کشمیری اسے اپنے خون سے لکھ رہے ہیں، لیکن عالم اسلام اس میں اپنا کردار ادا نہیں کر رہا، ہمیں حوصلہ برقرار رکھنا چاہیئے، اپنے دوستوں کی تعداد بڑھانی چاہیئے، پہلے جن ممالک نے فارن ایکسچینج اور اکانومی کو بحران سے نکالنے میں مدد فراہم کی ہے، اسے فراموش نہیں کرنا چاہیئے، مثبت انداز میں معاملے کو لیکر آگے چلنا چاہیئے، میں اس حق میں نہیں ہوں کہ ہم عوام کو یہ تاثر دیں کہ جو ملک بھی بھارت سے کسی قسم کا تعلق رکھے گا، ہم ان سے قطع تعلقی کر لیں گے، ہمیں ضرورت ہے کہ چاہے جتنا بھی وقت لگے، اپنے حلیفوں اور حمایت کرنیوالوں کی تعداد میں اضافہ کریں۔ بھارتی بربریت سے مسلسل اور لمحہ بہ لمحہ دوست ممالک کو آگاہ کریں، انہیں جھنجھوڑیں، احساس دلایں۔ کشمیری مظلوم کی آواز ان تک پہنچائیں، پوری امت مسلمہ کو مسئلہ کشمیر پہ اکٹھا کریں، اگر ہم اسے ایک ہدف بنا لیں تو بھارت کے چنگل سے کشمیر کو آزادی دلانا مشکل نہیں ہوگا۔ لیکن یہ بات پوری دنیا کو باور کروانا ہوگی کہ اگر کشمیر پہ جنگ ہوگی تو اس کی حدت اور حرارت نہ صرف امریکہ اور یورپ محسوس کرینگے بلکہ ریاض اور تہران کو بھی احساس ہوگا، اسے روکنا مشکل ہوگا، خارجہ پالیسی کو صرف اسی انداز میں چلایا جا سکتا ہے، جس میں طاقت ہو، فقط جذبات کافی نہیں، خطے کا ایسا مستقبل دکھانے کی ضرورت ہے، جس سے اپنے تجارتی اور وقتی مفادات کی خاطر بھارت کیساتھ کھڑے ہونیوالے مسلم اور غیر مسلم ممالک سوچنے پر مجبور ہو جائیں کہ یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے، انہیں ایسی غلطی نہیں کرنی چاہیئے، جس سے بھارت کو کشمیر میں پاؤں جمانے کا موقع ملے۔ اس میں خوش آئند یہ ہے کہ اب پورا کشمیر ایک صفحے پہ ہے، پاکستان بھی ایک پیج پہ ہے، مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے روایتی حلیف بھی نظریہ پاکستان اور دو قومی نظریئے کو اپنا مقصد قرار دے چکے ہیں، جس سے پاکستان کو اپنی جنگ میں آسانی بھی ہے اور کامیابی بھی یقینی ہے۔ آج پورا کشمیر اور پورا پاکستان ہم آواز ہے، یہ کسیے ممکن ہے کہ ہم ثابت قدمی سے آگے بڑھیں اور پاکستان کو پس پشت ڈال کر مسلم ممالک کشمیر کے محاذ پہ بھارت کا ساتھ دیں، ہم انہیں قائل بھی کرسکتے اور مجبور بھی، اس میں دیر لگ سکتی ہے، یہ ناممکن نہیں۔ چین اور ایران کی مثال بھی ہے، جنہوں نے تجارتی تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کشمیریوں کی حمایت اور بھارت کی مخالفت کی ہے، حالانکہ ایران اس وقت عرب ممالک کی نسبت زیادہ مجبور اور بھارتی تعاون چاہتا ہے، لیکن یہ ان کا اصولی موقف ہے، جس پہ کشمیری بھی ان کے شکر گذار ہیں اور پاکستانی عوام، افواج اور حکومت نے بھی انکا شکریہ ادا کیا ہے۔ یہ ضروری ہے کہ پاکستان عالمی برادری اور عالم اسلام کو اپنے موقف سے آگاہ کرنے کیلئے ہر پاکستانی کو متحرک کرے، سوشل میڈیا سمیت جدید دنیا کو تمام وسائل بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔ اسلام ٹائمز: عالمی دباؤ، سفارتی تنہائی اور معیشت کی ابتر صورتحال میں صرف سوشل میڈیا کے ذریعے اور پاکستان اکیلے کیسے جنگ لڑ سکتا ہے۔؟ ولید اقبال: پہلی بات تو یہ ہے کہ صرف جنگ ہی آپشن نہیں ہوتا، دوسرا ہے سفارتی محاذ، جہاں یہ کہا جا رہا ہے کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف سمیت مختلف جگہوں پہ چیلنجز کو فیس کر رہا ہے، یہ ہماری کمزوری نہیں، اسکا میدان بڑا وسیع ہے، اندرونی طور پر بھی ہمیں کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے، اقوام متحدہ، او آئی سی کے علاوہ یورپی یونین سمیت علاقائی فورمز بھی ہیں، جہاں پر ہمیں متحرک رہنا چاہیئے، دوطرفہ طور پر بھی بھارت کو قانونی لحاظ سے مات دی جا سکتی ہے، انسانی حقوق کی پائمالی کوئی معمولی چیز نہیں، یہ بھارت کیخلاف استعمال ہونا چاہیئے، جہاں بھی سولین آبادی کیخلاف فوج استعمال ہوتی ہے، وہ عالمی سطح پر کیس بنتا ہے، ہمیں خاموش نہیں بیھٹنا چاہیئے، اگر بھارت کشمیریوں کی نسل کشی شروع کرتا ہے، یا نہتے لوگوں کیخلاف فضائیہ کو استعمال کرتا ہے تو ہمارے پاس ملٹری آپشن بھی ہے، اسکے بھی دوسرے پہلو ہیں۔ اسلام ٹائمز: کیا دنیا نہیں جانتی کہ کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے اور پاکستان اور کشمیری بھی اسکے فریق ہیں۔؟ ولید اقبال: دنیا جانتی ہے لیکن اپنی نگاہ سے دیکھتی ہے، جیسے دنیا میں کئی تنازعات ہیں، لیکن ہم انہیں اپنی حدود و قیود میں رہ کر دیکھتے ہیں، پھر اگر کشمیر متنازعہ علاقہ ہے تو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ اس کا ایک فریق بھارت ہے، جیسے پاکستان اور کشمیری ہیں، ہم کہاں تک جا سکتے ہیں، ایسا بھی ممکن نہیں کہ ایسی صورتحال پیدا ہو جائے، جس سے تمام کشمیری آبادی خطرے میں پڑ جائے، یہاں پاکستانی عوام کو فیصلہ کرنا ضروری ہے، مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر کے علاوہ پاکستانی عوام کا باہر نکلنا زیادہ ضروری ہے، اسی سے بھارت پر سفارتی دباؤ ڈالا جا سکتا ہے، مقبوضہ کشمیر میں تو بھارتی فیصلے نے عمر عبداللہ جیسے لوگوں کو میر واعظ اور علی گیلانی کیساتھ جا کھڑا کیا ہے۔ پاکستان میں بھی اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت ہے، تمام سیاسی جماعتیں بھی نکلیں، اسلام آباد کی بجائے کشمیر کی جانب ملین مارچ کریں، اس طرح ہی عالمی سطح پر سفارتی بحران پیدا کیا جا سکتا ہے، جس سے یہ پتہ چلے گا کہ مسئلہ صرف ہندوستان کے کسی علاقے کا نہیں لوگوں کا بھی ہے، صرف چار خط تو حکومت نے لکھ دیئے ہیں، ستر سال کی تاریخ دنیا کو سمجھانے کیلئے پوری قوم کو ذمہ داری نبھانا پڑیگی۔ دنیا کو احساس دلانے کی ضرورت ہے کہ ہم کشمیری لوگوں کے مال و جان کے تحفظ کیلئے نکلے ہیں، یہ ہماری کاز ہے، یہ کوئی صرف ریاستی مفاد والی بات نہیں ہے، ایک انسانی المیہ ہے، بھارت اس میں ظلم و جور کا مرتکب ہو رہا ہے۔ اسلام ٹائمز: کیا صرف سفارتی دباؤ سے ہٹ دھرم اور قابض بھارتی افواج کشمیر سے کو چھوڑ کر چلی جائیں گی۔؟ ولید اقبال: قانونی جنگ بھی ہے، اصول کے مطابق یہ قانون بدلنے کا حق اگر بھارت کو ہے تو اس میں مقبوضہ کشمیر کی اسمبلی کی رضا مندی پہلی شرط ہے، وہ انہوں نے بند کر دی، مقبوضہ کشمیر کے رہنماؤں کو قید کر دیا، یہ سب انسانی اور عالمی قوانین کے خلاف ہے، یہ ریاستی دہشت گردی ہے، مقبوضہ کشمیر کی عوام اور اسمبلی نے مودی حکومت کو کوئی درخواست نہیں کی، نہ ہی بھارتی پارلیمنٹ میں مطلوبہ ووٹ ملے ہیں، اس قانون کو بدلنے کیلئے۔ پھر یہ بھی دنیا کو بتانے کی ضرورت ہے کہ بھارت کی باقی اقلیتیوں کو بھی یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ جہاں ہمارا دل چاہے گا، قتل و غارت کرینگے، یہ ایک بہت بڑا انسانی المیہ ہے، جسے اجاگر کرنے کے لیے ریاست اور حکومت کے اداروں کیساتھ عوام کا بہت بڑا کردار ہے، جس کیلئے عام لوگوں کو آگے آنا چاہیئے۔ اگر ہم کہتے ہیں کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ حیات ہے تو یہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ لوگ چین سے نہ بیٹھیں، عالمی سطح پر انسانی حقوق کیلئے کام کرنیوالے اداروں تک یہ آواز پہنچانا اور کشمیری بھائیوں کی مدد کرنا میرا اور آپ کا کام ہے، صرف اداروں اور سفارت خانوں کا نہیں۔ یہ کام ہمیں خود کرنا ہوگا۔ عوامی نمائندوں کو بھی اس کے لیے نکلنا ہوگا، پارلیمنٹ سے بھی ایکٹ آنا چاہیئے، صرف قراداد کافی نہیں، بھارت کیلئے سفارتی بحران پیدا کرنے کیلئے کئی اقدامات ضروری ہیں، ورنہ ہمیں افسوس ہوگا، ہمیں پچھتانا پڑیگا۔ پاکستان کوئی چھوٹا ملک نہیں، ہم اپنا دفاع کرسکتے ہیں، ہم ایک طاقت ہیں۔ ساری دنیا ایک طرف تھی ہم نے ایٹمی دھماکہ کیا، ساری دنیا ایک طرف تھی ہم ہندوستانی جہاز گرائے، اس کے بعد کیا ہوا، دنیا سے کہیں سے آواز نہیں آئی، اسی حوصلے سے کام لینا ہوگا۔ اسی طرح زمینی فوج کا آپشن بھی ہے اور فضائیہ تو پہلے ہی ہندوستان کیخلاف کامیاب آپریشن کرچکی ہے، گھبرانے والی کوئی بات نہیں، آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ بحثیت پاکستانی ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ اظہاری یکجہتی کے لیے بھارتی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کریں۔ ہمیں ان کی فلم انڈسٹری کا بھی مکمل بائیکاٹ کرنیکی ضرورت ہے۔ بالی وڈ ہر سال پاکستان سے کروڑوں روپے کماتا ہے۔ سب پاکستانی کشمیری بھائیوں کیساتھ اظہار یکجہتی کیلیے بھارتی فلموں کا بائیکاٹ کریں۔ اسلام ٹائمز: آپ نے بہت زور قومی یکجہتی پر اور عمران خان نے مودی کو ہٹلر سے تشبہیہ دی، بلاول بھٹو نے عمران خان کو نازیوں جیسا قرار دیا ہے، کیا کشمیر کی صورتحال کے باوجود حکومت اپوزیشن کو ساتھ ملانے کیلئے تیار نہیں۔؟ ولید اقبال: کشمیریوں کو ہماری ضرورت ہے، لیکن اپوزیشن کو حکومت چھن جانے اور کرپشن پکڑے جانے کا درد ہے، کشمیر کا کوئی دکھ نہیں۔ اپوزیشن آپس میں بھی تقسیم ہے لیکن کشمیر پہ اکٹھے ہونے کیلئے تیار نہیں، نہ خود وہ آواز اٹھا رہے ہیں، نہ حکومت کا ساتھ دے رہے ہیں، حکومت کیلئے اندرونی طور پر چیلنج بننے کی کوشش کر رہے ہیں، ان کی ذہنیت یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر کی وجہ سے حکومت کو کمزور کیا جا سکتا ہے، ان سے کسی قسم کی توقع احمقانہ سوچ ہوگی، جو زبان بلاول استعمال کر رہے ہیں، اس سے مودی کو پاکستان کا بیانیہ رد کرنیکی ضرروت نہیں پڑے گی، جس بھارتی بے اصولی کا سامنا کشمیریوں کو ہے، حکومت کو اپوزیشن کے ایسے رویے کا سامنا ہے۔ انہوں نے پلوامہ کے بعد بھی قومی بیانیے کے خلاف بیان دیئے تھے، پھر یہ لوگ پی ٹی ایم کو بھی اسپورٹ کرتے ہیں۔ دوسری طرف مولانا فضل الرحمان ہیں۔ جنہیں کشمیر سے متعلق حقائق ہی نہیں معلوم، لیکن آج انہوں نے قوم کے سامنے آکر کشمیر کو ہی حکومت کیخلاف شور شرابے کا جواز بنا لیا ہے، یہ لوگ ہوش میں نہیں ہیں، عوام کشمیر پر ان کی غلط باتوں میں نہیں آئیں گے، صرف کشمیر کمیٹی کی فکر ہے، میرا سوال یہ ہے کہ کشمیریوں کے حق میں مولانا صاحب نے ایک بیان بھی کبھی دیا ہے، انہوں نے ذاتی مفادات کی سیاست کی ہے، یہ لوگ اسوقت کہاں تھے، جب نواز شریف کے گھر آیا تھا مودی، کیا اسوقت وہ مظالم نہیں کر رہا تھا، کیا وہ مسلمانوں کا قاتل نہیں تھا، انہوں نے کوئی اعتراض نہیں کیا، نہ آواز اٹھائی، پھر بھی یہ باتیں بھلائی جا سکتی ہیں، ہم سب پاکستانی ہیں، ہمارے درمیان اختلافات ہیں اور رہیں گے، لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمیں کشمیر پر اکٹھے ہونے کی ضرروت ہے۔