اسلام ٹائمز 20 Jun 2016 گھنٹہ 18:56 https://www.islamtimes.org/ur/news/547331/سندھ-بجٹ-اور-کراچی-کو-صوبہ-بنانے-کے-مطالبے-پر-متحدہ-پیپلز-پارٹی-اراکین-پھر-الجھ-پڑے -------------------------------------------------- ٹائٹل : سندھ بجٹ اور کراچی کو صوبہ بنانے کے مطالبے پر متحدہ اور پیپلز پارٹی کے اراکین پھر الجھ پڑے -------------------------------------------------- اسلام ٹائمز: سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران ایم کیو ایم کے رکن محفوظ یار خان نے کراچی کو الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا، جس پر پیپلز پارٹی کے ارکان نے شدید احتجاج کیا، پی پی رکن امداد پتافی نے کہا کہ سندھ کی تقسیم کسی صورت نہیں ہونے دیں، ایم کیو ایم اپوزیشن میں ہوتی ہے، تو مہاجر اور اقتدار میں متحدہ بن جاتی ہے۔ متن : اسلام ٹائمز۔ بجٹ پر بحث کرتے ہوئے سندھ اسمبلی کا اجلاس ایک مرتبہ پھر مچھلی بازار بنا رہا، جس کے دوران ایم کیو ایم کے رکن محفوظ یار خان کی جانب سے کراچی کو نیا صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا گیا، تو پیپلز پارٹی کے ارکان آپے سے باہر ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق اسپیکر آغا سراج درانی کی سربراہی میں شروع ہونے والے سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران بجٹ پر بحث جاری تھی کہ اس موقع پر کراچی کو بجٹ میں یکسر نظر انداز کئے جانے پر ایم کیو ایم کے رکن محفوظ یار خان نے کراچی کو الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا، جس پر پیپلز پارٹی کے ارکان آپے سے باہر ہوگئے اور انہوں نے شدید احتجاج کیا۔ پیپلز پارٹی کے رکن امداد پتافی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ محفوظ یار خان سب سے بڑا لوٹا ہے، جس نے سندھ کو توڑنے کی بات کی، سندھ کی تقسیم کسی صورت نہیں ہونے دیں، ایم کیو ایم اپوزیشن میں ہوتی ہے، تو مہاجر اور اقتدار میں متحدہ بن جاتی ہے، اردو بولنے والے ہمارے لئے قابل احترام ہیں، احساس محرومی تو گاؤں میں رہنے والوں کو ہوتا ہے۔ پیپلز پارٹی کے رکن امداد پتافی نے کہا کہ مصطفیٰ کمال نے ایم کیو ایم کو را کا ایجنٹ قرار دیا، ہم نے نہیں، مصطفیٰ کمال کا بدلہ ہم سے نہ لیا جائے، اور یہ مصطفیٰ کمال کا بدلہ سندھ سے لینا چاہتے ہیں، ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ امداد پتافی کی تقریر کے دوران ایم کیو ایم ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے اور شیم شیم کے نعرے لگائے۔ اس موقع پر ایم کیو ایم کے رکن وقار شاہ کا کہنا تھا کہ ملیر ندی پر نئے بند کی تعمیر کے نام پر ندی کو کاٹ کر اس کی زمین بیچنے کی سازش کی جا رہی ہے، یہ ہیں سندھ کے بیٹے جو سندھ کی زمین بیچ رہے ہیں، کراچی کی کئی سڑکیں زبوں حالی کا شکار ہیں، آپ بتائیں کیا آپ نے کراچی کو اس کے حقوق دیئے ہیں، اگر حقوق نہیں ملتے تو صوبے بننے میں کوئی قباحت نہیں، ہزارہ، سرائیکی اور کراچی میں بھی صوبہ بنے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ آپ کہتے ہیں 70 فیصد ریوینو سندھ دیتا ہے، مگر وفاق حق نہیں دیتا، پہلے اپنے لوگوں کو حقوق دیں، پھر وفاق سے حقوق لینے کی بات کریں۔ ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا نے ایم کیو ایم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آپ وفاق کے اتحادی ہیں، کبھی سوال کیا کہ بجٹ سے پہلے این ایف سی اجلاس کیوں نہیں ہوا، نیب دانش اسکول اور سستی روٹی اسکیم کیوں نہیں دیکھتی، اگر ہمارے لوگ پکڑے جائیں گے، فنڈز روکے جائیں گے تو بجٹ کیسے چلے گا، بجٹ تو وہ بھی پاس ہو رہا ہے جو وزیراعظم نے اسکائپ پر دیکھا، جو صوبے گیس پیدا کر رہے ہیں، وہاں فیکٹریاں بند پڑی ہیں، صوبوں کو بجلی کیوں نہیں بنانے دی جا رہی ہے۔ اس موقع پر ایم کیو ایم ارکان نے احتجاج کیا تو شہلا رضا نے کہا کہ میں سندھ کا مسئلہ بیان کر رہی ہوں آپ کوّے کا گوشت کھانا بند کریں۔ بجٹ پر بحث کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے رکن سیف الدین خالد نے کہا سندھ اسمبلی میں جس طرح بات کی گئی، ایسے لگا کہ شیطان ایوان میں آگیا ہے، جس پر اسپیکر نے کہا کہ اگر آپ نے شیطان دیکھ لیا، تو اس کی شناخت بھی کرا دیں، جس پر انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ سندھ بھر میں تعلیمی نظام کا بیڑہ غرق کر دیا گیا ہے، جبکہ صوبے میں تعلیم کا شعبہ رقم ہڑپ کرنے کا ذریعہ بن چکا ہے، اور بجٹ میں تعلیم کے شعبے میں 28 فیصد اس لئے رکھا گیا کہ اسے ہڑپ کر لیا جائے، اسکولوں میں ٹیچرز اور اسپتالوں میں ڈاکٹرز نہیں، صوبے میں اسپتالوں کی حالت انتہائی خراب ہے۔