اسلام ٹائمز 20 Nov 2022 گھنٹہ 23:18 https://www.islamtimes.org/ur/article/1025827/ایران-میں-کیا-ہو-رہا-ہے -------------------------------------------------- ٹائٹل : ایران میں کیا ہو رہا ہے؟ -------------------------------------------------- اسلام ٹائمز: یہ ایک ترکیبی اور مسلط کردہ جنگ ہے، جو کسی ایک کمانڈ اور کنٹرول روم سے نہیں لڑی جا رہی اور نہ ہی کسی خاص علاقے میں اسکا آغاز ہوا ہے۔ کسی جگہ یہ قومی اور لسانی جھنڈے کے نیچے شروع کی گئی تو کسی جگہ انسانی حقوق کے نام پر اس آگ کو لگایا گیا ہے، لہذا اس درمیان یہی حکمت عملی سب سے بہتر تھی، جو ایرانی حکومت نے اختیار کی ہے، اس جنگ کا مقابلہ صبر اور وقت کی مدیریت سے ممکن ہے۔ متن : تبصرہ: سید محمد صادق حسینی ترجمہ: ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی ایران میں کیا ہو رہا ہے اور تہران نے اب تک اس کے خلاف فیصلہ کن اقدام کیوں نہیں کیا۔؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ ایک ترکیبی جنگ ہے، جس کے ذریعے دشمن حکومت ایران کو خانہ جنگی میں گھسیٹنا چاہتا ہے۔ دشمن نے اپنے ہدف کے حصول کے لئے یہ روش اختیار کی ہے۔ بین الاقوامی اور خطے کے خفیہ ادارے ایرانی عوام کو نظام حکومت کے خلاف اکسانے کے لئے اکٹھے ہوئے ہیں۔ دشمن نے اس جنگ میں خواتین کے حقوق کے لئے نام نہاد تحریک، گلی کوچوں میں بے گناہوں کی قتل و غارت گری اور اقلیتوں کے حقوق کی نام نہاد تحریک کو بطور ابزار استعمال کیا ہے۔ ان تینوں کو عملی شکل دینے کے لئے ضروری تھا کہ دشمن تمام تر وسائل اور طاقت کے ساتھ میدان میں کودے، تاکہ ایرانی عوام کو دھوکے اور فریب کے ساتھ اپنی حکومت کے مقابلے میں لا کھڑا کیا جائے۔ اس سب کے بعد دشمن کی خواہش تھی کہ ایرانی سکیورٹی فورسز اپنی ہی عوام کے خلاف طاقت کا استعمال کریں، لیکن چونکہ ایرانی حکمران مسلمان، اپنی عوام پر یقین اور ان کے عزم پر بھروسے کرنے والے حکمران ہیں۔ ایرانی انتہائی ذہین اور ماضی کے تجربات سے سیکھے ہوئے کشتہ کار حکمران ہیں۔ دشمن کی اس چال پر ایرانی حکومت کا نکتہ نظر پہلے دن سے ہی بہت شفاف تھا کہ سعودی، امریکی اور اسرائیلی خفیہ اداروں کے کرائے کے قاتلوں سے عوام کو جدا کرنا، کسی بھی عوامی اجتماع پر کبھی بھی گولی نہ چلانا، صرف اور صرف اپنا دفاع کرنا، کبھی بھی میدان میں انتقام کا سہارا نہ لینا، اس کے لئے موت کا خطرہ تک قبول کرنا اور اس کی بنیاد یہ اصول ہے کہ ”ظالم بن کر جینے سے مظلومیت کی موت بہتر ہے۔” یہ ایک ترکیبی اور مسلط کردہ جنگ ہے، جو کسی ایک کمانڈ اور کنٹرول روم سے نہیں لڑی جا رہی اور نہ ہی کسی خاص علاقے میں اس کا آغاز ہوا ہے۔ کسی جگہ یہ قومی اور لسانی جھنڈے کے نیچے شروع کی گئی تو کسی جگہ انسانی حقوق کے نام پر اس آگ کو لگایا گیا ہے۔ لہذا اس درمیان یہی حکمت عملی سب سے بہتر تھی، جو ایرانی حکومت نے اختیار کی ہے، اس جنگ کا مقابلہ صبر اور وقت کی مدیریت سے ممکن ہے۔ ایرانی حکومت کے یہ دونوں اصول کافی تھے کہ جنگ کا رخ واپس دشمن کے کیمپ کی طرف موڑ دیا جائے۔ اس حکمت عملی کے ایران نے نتائج حاصل کرنا شروع کر دیئے ہیں۔ اب عام عوام بلوائیوں اور امن عامہ کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے سرغنوں اور ٹھکانوں کے بارے جان چکی ہے۔ عوام جان چکی ہے کہ ان بلوائیوں کے پیچھے غیر ملکی خفیہ اداروں اور عناصر کا ہاتھ ہے۔ عوام جان چکی ہے کہ یہ لوگ کسی بھی صورت ایرانی عوام کے خیر خواہ نہیں ہیں۔ اسی طرح مسلح بلوائیوں کے سرغنوں کے نیٹ ورک اور ان کی سرگرمیاں مکمل طور پر بے نقاب ہوچکی ہیں۔ بیرونی دشمن منتشر ہوگیا اور اب اس کے پاس کچھ نہیں رہا۔ دشمن بے ہنگم اور غیر منظم حملے کرنے لگا ہے۔ بلوائی پورے ایران میں لوگوں کی نگاہ میں منفور اور ناپسندیدہ بن چکے ہیں اور لوگ پولیس اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ ہمدردی کرنے لگے ہیں۔ ایرانی قیادت کی حکمت و بصیرت اور حکام کی درست روش سے خطرہ فرصت میں تبدیل ہوچکا ہے، جبکہ دشمن کی نقل و حرکت کے تمام منصوبوں اور نقشوں پر قابو پا لیا گیا ہے۔ ابتدائی طور پر جو لوگ مظاہرین کے حوالے سے کچھ نرم گوشہ رکھتے تھے، ان میں سے نوے فیصد لوگ ان کی اصلیت جان کر حکومتی کیمپ میں چلے گئے ہیں۔ وَٱسْتَعِينُواْ بِٱلصَّبْرِ وَٱلصَّلَوٰةِ ۚ وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةٌ إِلَّا عَلَى ٱلْخَٰشِعِينَ (سورہ بقرہ آیت 45) "اور صبر اور نماز سے مدد لو اور یہ بہت سخت ہے، سوائے ان لوگوں کے جو فرمانبردار ہیں۔"