اسلام ٹائمز 27 Jun 2022 گھنٹہ 19:34 https://www.islamtimes.org/ur/article/998160/توانائی-کا-بحران-پاکستان-کیا-کرے -------------------------------------------------- ٹائٹل : توانائی کا بحران، پاکستان کیا کرے؟ -------------------------------------------------- اسلام ٹائمز: توانائی جس میں ہر قسم کا ایندھن شامل ہے، وہ دنیا میں کاروبار، صحت، ٹرانسپورٹ، پیداواری شعبہ، صحت اور تعلیمی اداروں کو رواں رکھنے میں معاون ہوتی ہے۔ جب بھی ایندھن اور توانائی کی قیمت بڑھتی ہے تو دنیا بھر میں معیشتیں بحران کا شکار ہوتی ہیں اور یہ بحران ہم پاکستان میں محسوس بھی کررہے ہیں۔ اس لئے قومی سطح پر توانائی کی بچت نے اہمیت اختیار کرلی ہے اور حکومتوں کے پاس طاقت ہوتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ توانائی کی بچت کے اقدامات کرے لیکن پاکستان میں حکومت ہی توانائی کے بحران کو بڑھانے کی ذمہ دار ہے۔۔ متن : رپورٹ: ایم رضا موجودہ حکومت کی جانب سے ایندھن کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے پر سیاست میں گرما گرمی دیکھی جارہی ہے۔ سابق بینکار اور سابق وزیر خزانہ سینیٹر شوکت ترین نے کہا ہے کہ سابقہ حکومت روس سے سستا ایندھن خرید رہی تھی۔ ان کے مطابق حکومت آئی ایم ایف کے سامنے ڈٹ کر کھڑی رہی اور پیٹرولیم قیمتوں کو نہیں بڑھایا۔ شوکت ترین کے علاوہ عمران خان اور دیگر اپوزیشن رہنما بھی حکومت پر تنقید کے نشتر برسار رہے ہیں۔ دوسری طرف موجودہ وزیرِ خزانہ مفتاح اسمٰعیل کہتے ہیں کہ ایندھن کی قیمت میں اضافہ سابقہ حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کو تحریری یقین دہانیوں کی وجہ سے کرنا پڑا ہے۔ سابق وزیرِاعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اگر پیٹرول کی قیمت نہ بڑھاتے تو روپیہ مزید گرتا اور مزید مہنگائی ہوتی۔ وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم مصدق ملک کا کہنا ہے کہ اگر روس سے 30 فیصد سستا پیٹرول مل سکتا ہے تو پی ایس او ہر 15 دن میں ٹینڈر کرتا ہے اس میں کوئی کیوں پیشکش نہیں کرتا ہے؟ حماد اظہر نے جو خط روسی حکام کو تحریر کیا تھا اس کا جواب روس نے تاحال نہیں دیا ہے۔ اس سیاسی کھیل سے قطع نظر ہم یہ دیکھتے ہیں کہ آخر موجودہ حکومت کو ایندھن کی قیمت میں اس قدر اضافہ کیوں کرنا پڑا ہے۔ کیا واقعی عالمی سطح پر ایندھن مہنگا ہوا ہے یا پھر روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے ایندھن مہنگا کرنا پڑا ہے؟ ایندھن کی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ جاری رہتا ہے۔ آج جو قیمت ہے وہ کل نہیں ہوگی۔ تاریخی طور پر دیکھا جائے تو جون 2012ء میں تیل کی قیمت عالمی منڈی میں 84 ڈالر فی بیرل تھی جو 9 ستمبر 2013ء کو 109 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ اس کے بعد عالمی منڈی میں ایندھن کی قیمت کم ہونا شروع ہوئی اور یہ بتدریج کم ہوتے ہوئے 10 فروری 2016ء کو 27 ڈالر تک آگئی۔ کورونا کے دوران لاک ڈاؤن کی وجہ سے ایندھن کی طلب کم ہوئی تو اپریل 2020ء کو یہ قیمت 11 ڈالر تک دیکھی گئی۔ کورونا لاک ڈاؤن ختم ہونے اور روس یوکرین جنگ کی وجہ سے ایندھن کی قیمت تیزی سے بڑھی اور 8 مارچ 2022ء کو عالمی منڈی میں ایندھن 119 ڈالر 87 سینٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ پاکستان میں سوئی گیس کے کم ہوتے ذخائر کی وجہ سے پاکستان نے قطر سے آر ایل این جی کی خریداری کے طویل مدتی معاہدے کئے جو دنیا میں سب سے سستی آر ایل این جی خریداری کے معاہدے تھے۔ معاہدے کے تحت برینٹ کروڈ کی قیمت کے 13 فیصد کی قیمت طے کی گئی تھی۔ یورپ کا توانائی کے لئے روسی گیس پر 40 فیصد انحصار ہے، مگر روس یوکرین جنگ کی وجہ سے یورپ نے گیس کی خریداری روس سے دیگر ملکوں کو منتقل کرنے کی کوشش کی جس سے عالمی سطح پر گیس کی قیمت سیال ایندھن کے مقابلے میں تیزی سے بڑھی۔ جنوری 2021ء کو آر ایل این جی کی قیمت 8.73 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو جبکہ برینٹ کروڈ کی قیمت 55.1 ڈالر فی بیرل تھی۔ مئی 2022ء کو آر ایل این جی کی قیمت 21.83 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ہوگئی جبکہ برینٹ کروڈ کی قیمت 111.85 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ یعنی 17 ماہ میں برینٹ کروڈ کی قیمت دگنی اور آر ایل این جی کی قیمت ڈھائی گنا بڑھ گئی ہے۔ پاکستان میں اس وقت 6 آئل ریفائنریاں موجود ہیں جن کی کروڈ آئل صاف کرنے کی صلاحیت ایک کروڑ 94 لاکھ ٹن سالانہ ہے۔ مالیاتی اور دیگر مسائل کی وجہ سے ریفائنریز کی پیداواری گنجائش ایک کروڑ 16 لاکھ ٹن استعمال کی گئی۔ ریفائنریز کو صرف کھپت کا 20 فیصد کروڈ آئل مقامی طور پر دستیاب ہوتا ہے جبکہ 80 فیصد کروڈ آئل درآمد کرکے صاف کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں ایندھن کی بچت اور سستے ایندھن سے بجلی بنانے کے لیے 2013ء میں کوئلے پر چلنے والے بجلی گھر بڑے پیمانے پر تعمیر ہونا شروع ہوئے۔ سی پیک کے تحت لگائے جانے والے 70 فیصد پاور پلانٹس بھی کوئلے پر ہی چلتے ہیں مگر عالمی منڈی میں کوئلے کی قیمت میں بھی اچانک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ جولائی 2020ء میں ایک ٹن کوئلہ 84 ڈالر 75 سینٹس تھا جو جون 2021ء میں 122 ڈالر 75 سینٹس کا ہوگیا مگر گزشتہ 11 ماہ میں کوئلے کی قیمت بہت زیادہ تیزی سے بڑھی اور 31 مئی 2022ء کو فی ٹن کوئلہ 427 ڈالر فی ٹن کا ہوگیا تھا۔ اس طرح 11 ماہ میں کوئلے کی قیمت 305 ڈالر یعنی ساڑھے تین گنا بڑھ چکی ہے۔ بجلی کی فی یونٹ قیمت حکومت کی جانب سے فیصلے کے بعد نیپرا نے بجلی کے بنیادی ٹیرف پر 7 روپے 91 پیسے فی یونٹ اضافے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا اور اس کے کچھ روز بعد ہی 5 روپے 31 پیسے مزید بڑھانے کا اعلان کیا۔ نئے نرخوں میں ایندھن کی خریداری کے علاوہ کپیسیٹی چارجز بھی شامل ہیں۔ بجلی کی تیاری میں آنے والی ایندھن کی لاگت کو تو ٹیرف میں شامل کرنا سمجھ میں آتا ہے مگر کپیسیٹی چارجز کو شامل کرنا صارفین کے ساتھ زیادتی کے مترادف ہوگا۔ اگر بجلی گھر لگائے ہیں تو اس کے خریدار بھی بنائیں، ان کو بند رکھ کر عوام سے چارجز وصول کرنا کاروباری اخلاقیات کے خلاف ہے۔ مہنگی ہوتی بجلی اور گاڑیوں کے ایندھن میں بس ایک ہی بات باقی رہ جاتی ہے کہ بچت کی جانب توجہ دی جائے۔ توانائی کی بچت توانائی جس میں ہر قسم کا ایندھن شامل ہے، وہ دنیا میں کاروبار، صحت، ٹرانسپورٹ، پیداواری شعبہ، صحت اور تعلیمی اداروں کو رواں رکھنے میں معاون ہوتی ہے۔ جب بھی ایندھن اور توانائی کی قیمت بڑھتی ہے تو دنیا بھر میں معیشتیں بحران کا شکار ہوتی ہیں اور یہ بحران ہم پاکستان میں محسوس بھی کررہے ہیں۔ اس لئے قومی سطح پر توانائی کی بچت نے اہمیت اختیار کرلی ہے اور حکومتوں کے پاس طاقت ہوتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ توانائی کی بچت کے اقدامات کرے۔ توانائی کی بچت کے حوالے سے حکومت نے اپنے ایندھن کے بوجھ کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ حکومت نے وفاقی اور صوبائی سطح پر ایندھن کے استعمال میں 30 فیصد تک کٹوتی کرنے کا اعلان کیا ہے مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ناکافی ہے کیونکہ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کا 80 فیصد درآمد کرتا ہے۔ جب بھی آپ اپنی موٹر سائیکل، گاڑی یا پھر گھر میں برقی آلات استعمال کرتے ہیں تو اس کے عوض دراصل ہم ڈالر ضائع کررہے ہوتے ہیں، ہمیں توانائی کی بچت کرنا ہوگی اور اس بچت میں حکومتی اور انفرادی سطح پر اقدامات کی ضرورت ہے۔ بجلی کی بچت کے حوالے سے کے الیکٹرک کی چیف مارکیٹنگ آفیسر سعدیہ دادا کا کہنا ہے کہ ایک سال کی قلیل مدت میں ایندھن کی قیمت تیزی سے بڑھی ہے جبکہ کے الیکٹرک کو مقامی گیس دستیاب نہیں ہے۔ آر ایل این جی کی قیمت 1500 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو سے بڑھ کر 4700 روپے ہوگئی ہے اور فرنس آئل کی قیمت 135 فیصد بڑھی ہے۔ کراچی شہر کے لئے آئندہ مہینوں میں بیس ٹیرف کے علاوہ فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کی مد میں 10 سے 12 روپے کا اضافہ ہوسکتا ہے کیونکہ کے الیکٹرک کو وہ مقامی گیس نہیں مل رہی جو درآمدی گیس سے 3 گنا سستی ہے۔ اس لئے صارفین کو چاہیئے کہ وہ بجلی کے استعمال میں کمی کریں۔ سعدیہ دادا مزید کہتی ہیں کہ اگر صارف بجلی کی 20 سے 25 فیصد بچت کرے تو اس کا ماہانہ بل گزشتہ سال کے بجلی کے بل کے قریب قریب رہنے کا امکان ہے۔ اس کے لئے صارفین کو اپنی قومی ذمہ داری سمجھ کر برقی آلات کے استعمال میں احتیاط برتنا ہوگی۔ پاکستان انیشیٹو آن انرجی نے بجلی کی بچت سے متعلق تجویز پیش کی ہے کہ بجلی کے 200 یونٹ اور زائد استعمال کرنے والوں سے فوری سبسڈی ختم کی جائے جس سے گھاٹے میں کمی ہوگی۔ اس کے علاوہ صنعتی اور غیر صنعتی فیڈرز کو الگ کیا جائے اور صنعتی فیڈرز پر بجلی کی فراہمی کو ترجیح دی جائے۔ ایندھن کے ذخائر کی ہر وقت مانیٹرنگ کا طریقہ کار وضع کیا جائے اور توانائی کی بچت کے حوالے سے حکومت ذرائع ابلاغ کے ذریعے آگاہی مہم چلائے۔ مارکیٹ کے اوقات کو صبح 8 بجے سے رات 8 بجے تک محدود کیا جائے جس پر سندھ اور پنجاب میں جزوی عملدرآمد شروع ہوچکا ہے، فوری طور پر کام کے دن 6 سے کم کرکے 4 کئے جائیں۔ ایندھن کے مقامی وسائل پر انحصار پاکستان کا توانائی کے حوالے سے تاریخی جائزہ لیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ 1960ء کی دہائی میں دریافت ہونے والی سوئی گیس اور 1980ء کی دہائی میں بنائے جانے والے ڈیمز کی وجہ سے پاکستان 3 دہائیوں تک توانائی کے شعبے میں خود کفیل رہا۔ 1990ء کی دہائی میں آبادی بڑھنے اور صنعتی اور تجارتی مراکز قائم ہونے کی وجہ سے ملک میں ایندھن کی طلب بڑھ گئی جس کے لئے فوری طور پر مقامی وسائل کو بڑھانے کے بجائے درآمدی ایندھن پر انحصار کو بڑھایا گیا۔ پاکستان میں کوئلے کے بڑے ذخائر موجود ہیں جن کا تخمینہ 186 ارب ٹن لگایا گیا ہے۔ اس میں سے 185 ارب ٹن کوئلہ سندھ میں پایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بلوچستان میں 45 کروڑ 87 لاکھ ٹن، پنجاب میں 23 کروڑ 50 لاکھ ٹن، خیبرپختونخوا میں 12 کروڑ 29 لاکھ ٹن اور کشمیر میں 87 لاکھ ٹن معدنی کوئلے کے ذخائر موجود ہیں۔ پاکستان میں کوئلے کے ذخائر کی وجہ سے صوبہ سندھ سب سے زیادہ اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ طویل عرصے کی سوچ بچار کے بعد سندھ حکومت نے نجی شعبے کے اشتراک سے تھر کے کوئلے کو نکالنا شروع کیا ہے اور اب اس سے بجلی کی پیداوار بھی شروع ہوگئی ہے۔ اینگرو کارپوریشن کے چیف ایگزیکٹو غیاث خان کا کہنا تھا کہ اگر درآمدی کوئلے سے بجلی کا ایک یونٹ 35 روپے میں بنتا ہے کہ تو مقامی کوئلے سے یہی یونٹ 13 روپے میں دستیاب ہوگا یعنی فی یونٹ 22 روپے کی بچت ہوگی۔ اس لئے ضروری ہے کہ مقامی کوئلے کو استعمال میں لانے کے لئے اقدامات کئے جائیں۔ تھر کے کوئلے کو سپلائی چین سے منسلک کیا جانا چاہیئے جس کے لئے پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ کے تحت ایک ریلوے لائن کا منصوبہ زیرِ غور ہے۔ اس سے یہ کوئلہ ناصرف کراچی بلکہ ملک کے دیگر حصوں میں باآسانی پہنچایا جاسکے گا۔ اس ریلوے لائن کے قیام سے تھر کا کوئلہ بجلی بنانے کے علاوہ سیمنٹ اور اسٹیل فیکٹریوں میں بھی استعمال ہوسکے گا۔ تھر کے کوئلے کے ذخائر کو ناصرف براہِ راست ایندھن کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے بلکہ پراسیس کرکے اس کو مختلف ایندھن جیسے کہ کول بیسڈ گیس اور ڈیزل میں بھی تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ اس کے لئے تھر میں پیٹرو کیمیکلز انڈسٹری قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو تیل و گیس کے شعبے میں تیزی سے گرتے ہوئے مقامی ذخائر کا سامنا ہے۔ پاکستان میں سالانہ 9 فیصد ذخائر میں کمی ہورہی ہے جبکہ تیل و گیس کی تلاش کا کام اس تیزی سے نہیں ہورہا ہے۔ پاکستان کے سیسمک ایریا کا رقبہ 8 لاکھ 27 ہزار مربع کلومیٹر ہے جس میں سے اب تک صرف 20 فیصد میں تیل و گیس کی تلاش کا کام ہوا ہے۔ تیل و گیس کے مقامی وسائل کو بڑھانے کے لئے حکومت کو تلاش کے زیادہ سے زیادہ منصوبے شروع کرنا ہوں گے۔ پاکستان کی وزارتِ توانائی کے مطابق ملک میں سیال ایندھن کے معلوم ذخائر کی مقدار 56 کروڑ 80 لاکھ بیرل ہے اور یہ 17 سال تک نکالے جاسکتے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ گیس کے 21.45 ہزار ارب کیوبک فٹ کے معلوم ذخائر ہیں جو 14 سال تک پیداوار دے سکیں گے۔ ملک میں سمندر میں تیل و گیس کی تلاش کے لئے 2 لاکھ 50 ہزار مربع کلومیٹر کا رقبہ دستیاب ہے۔ اب تک سمندر میں صرف 18 کنوؤں کی کھدائی کی کوشش ہوئی ہے جو سب ناکام رہیں، تاہم سروے اس بات کو ظاہر کررہے ہیں کہ پاکستان کی سمندری حدود میں بڑے پیمانے پر گیس اور تیل کے ذخائر موجود ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا میں گیس اور تیل کی تلاش کے لئے ٹائٹ اور شیل کے نام سے 2 نئی ٹیکنالوجیاں بھی متعارف ہوئی ہیں اور امریکا نے انہیں بڑے پیمانے پر استعمال کرکے خود کو گیس کی پیداوار میں خود کفیل کرلیا ہے۔ ٹائٹ گیس کی ٹیکنالوجی بھی پاکستان میں ابھی تک متعارف نہیں کرائی گئی ہے۔ مگر وزارتِ توانائی کے مطابق کمپنیوں نے جو ڈیٹا جمع کیا ہے اس کے مطابق ملک میں ٹائٹ گیس کے 35 سے 40 ہزار ارب کیوبک فٹ ذخائر صرف انڈس بیسن میں موجود ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی ملک میں تیزی سے ایندھن کے مقامی ذخائر کو قابلِ استعمال بناسکتی ہے۔ امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق پاکستان میں 105 ہزار ارب کیوبک فٹ شیل گیس کے ذخائر موجود ہیں۔ اس حوالے سے وزارتِ توانائی نے ایک تحقیقاتی رپورٹ یو ایس ایڈ کے تعاون سے تیار کی ہے جس کے مطابق صرف انڈس بیسن میں 95 ہزار ارب کیوبک فٹ گیس اور 14 ارب بیرل تیل کے ذخائر موجود ہیں۔ ملک میں تیل و گیس کے ذخائر کی قلت نہیں ہے، مسئلہ صرف یہ ہے کہ تیل و گیس کی تلاش کے حوالے سے کنووں کی کھدائی کا عمل تیز کیا جائے۔ تیل و گیس کی تلاش کے لیے جس قدر زیادہ کنووں کی کھدائی ہوگی اسی قدر تیل و گیس کی دریافت کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اس کے علاوہ ٹائٹ اور شیل گیس کے حوالے سے نئی ٹیکنالوجی بھی جلد از جلد متعارف کروانے کی ضرورت ہے۔