اسلام ٹائمز 19 Nov 2022 گھنٹہ 22:21 https://www.islamtimes.org/ur/news/1025610/لبنان-کے-نئے-صدر-کو-امریکہ-اسرائیل-کا-کٹھ-پتلی-نہیں-ہونا-چاہیئے-شیخ-نعیم-قاسم -------------------------------------------------- ٹائٹل : لبنان کے نئے صدر کو امریکہ و اسرائیل کا کٹھ پتلی نہیں ہونا چاہیئے، شیخ نعیم قاسم -------------------------------------------------- اپنے ٹویٹ میں حزب الله کے نائب سربراہ نے لکھا کہ ایسے شخص کو لبنان کا صدر ہونا چاہیئے، جو ملک کو مالی، اقتصادی اور سماجی بحران سے نکالے، کرپشن کا خاتمہ کرے اور لبنان کے داخلی معاملات کو افہام و تفہیم کے ذریعے سے حل کرے۔ متن : اسلام ٹائمز۔ لبنان کی مقاومتی اور سیاسی تحریک حزب الله کے نائب سربراہ شیخ نعیم قاسم نے اپنے ٹویٹ میں لکھا ہے کہ مستقبل کے لبنانی صدر کو امریکی اور صیہونی منصوبہ سازی کا آلہ کار نہیں ہونا چاہیئے کہ کہیں لبنان کی سالمیت کو نقصان پہنچائے۔ شیخ نعیم قاسم نے ٹویٹ کیا کہ ہم کسی ایسے صدر کو قبول نہیں کرتے، جو امریکہ اور اسرائیل کے منصوبوں کی خاطر کوئی مسئلہ کھڑا کرے اور لبنان کی آزادی، خود مختاری اور سالمیت کو خطرے میں ڈالے۔ انہوں نے مزید لکھا کہ ایسے شخص کو لبنان کا صدر ہونا چاہیئے، جو ملک کو مالی، اقتصادی اور سماجی بحران سے نکالے، کرپشن کا خاتمہ کرے اور لبنان کے داخلی معاملات کو افہام و تفہیم کے ذریعے سے حل کرے۔ شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ لبنان کا اصلی مسئلہ اقتصاد ہے، جسے آنے والے صدر کی اولین ترجیح ہونا چاہیئے۔ واضح رہے کہ لبنانی صدر کے انتخاب کے لئے گذشتہ جمعرات کو پارلیمنٹ میں چھٹی بار اجلاس منعقد ہوا۔ جمعرات کو ہونے والے اجلاس میں 112 اراکین نے شرکت کی، جس میں میشل معوض کو 43 ووٹ، 46 خالی ووٹ اور 23 مسترد ووٹ کاسٹ ہوئے۔ لبنان کا سیاسی ڈھانچہ صدر کے انتخاب کے لیے زیادہ سے زیادہ سیاسی گروہوں کے اتفاق رائے کو ناگزیر بنا دیتا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ میشل معوض 14 مارچ کے نام سے موسوم مقاومت مخالف سیاسی اتحاد کے صدارتی امیدوار ہیں، جنہیں 8 مارچ کے نام سے موسوم مقاومت کے قریبی گروہوں سے مشاورت کئے بغیر امیدوار نامزد کر دیا گیا ہے۔ آٹھ مارچ کے نام سے موسوم سیاسی دھڑے، صدر کے لئے مختلف سیاسی گروہوں کا اتفاق رائے نہ ہونے پر احتجاج کے طور پر خالی ووٹ کاسٹ کرتے ہیں۔ قابل غور بات یہ ہے کہ 31 اکتوبر سے میشل عون کی مدت صدارت ختم ہونے کے بعد لبنان میں سیاسی خلاء پیدا ہوچکا ہے، جس سے لبنان کے اقتصادی اور سماجی ڈھانچے پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔