اسلام ٹائمز 27 Feb 2020 گھنٹہ 10:39 https://www.islamtimes.org/ur/news/847095/پاکستان-نے-جوہری-توانائی-پروگرام-بڑھانے-کیلئے-آئی-اے-سے-مدد-مانگ-لی -------------------------------------------------- ٹائٹل : پاکستان نے جوہری توانائی پروگرام بڑھانے کیلئے آئی اے ای اے سے مدد مانگ لی -------------------------------------------------- پریس ریلیز کے مطابق جوہری قوت کو وسیع کرنے میں مدد کے لیے آئی اے ای اے نے موجودہ قومی تکنیکی تعاون کے 4 منصوبوں کو ایک منصوبے پر یکجا کیا ہے، جس میں پاکستان کے جوہری توانائی کے پروگرام میں ملوث ریگولیٹرز، آپریٹرز، ویسٹ مینیجرز اور نان ڈسٹرکٹو ٹیسٹرز شامل ہیں۔ متن : اسلام ٹائمز۔ پاکستان نے اپنے جوہری توانائی کے پروگرام کو مستحکم کرنے کے لیے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) سے مدد مانگ لی کیونکہ ملک بڑھتی ہوئی توانائی کی طلب کو پورا کرنے کے لیے جوہری قوت کو بڑھا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق آئی اے ای اے کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق جوہری قوت کو وسیع کرنے میں مدد کے لیے آئی اے ای اے نے موجودہ قومی تکنیکی تعاون کے 4 منصوبوں کو ایک منصوبے پر یکجا کیا ہے، جس میں پاکستان کے جوہری توانائی کے پروگرام میں ملوث ریگولیٹرز، آپریٹرز، ویسٹ مینیجرز اور نان ڈسٹرکٹو ٹیسٹرز شامل ہیں۔ پاکستان کے لئے آئی اے ای اے کی حمایت کا مقصد اگلے دہائی کے دوران ایٹمی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کو 6 گنا، 1430 میگاواٹ سے 8800 میگاواٹ تک سے زیادہ بڑھانا ہے جس پر پاکستان کے ایٹمی بجلی پروگرام میں شامل ریگولیٹرز، آپریٹرز اور نمائندوں نے تبادلہ خیال کیا جو ویانا میں آئی اے ای اے کے ہیڈ کوارٹر میں حال ہی میں اکٹھا ہوئے تھے۔ آئی اے ای اے، پاکستانی جوہری توانائی پروگرام کے تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو اکٹھا کر رہے تاکہ ان کے کام کو آسان بنانے، تاخیر اور اخراجات کو کم کرنے، تعاون کو بڑھانے اور ان کی حفاظت اور فضلہ کے انتظام کے طریقوں کو ہم آہنگ کیا جاسکے ۔ پریس ریلیز کے مطابق چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کے ٹیکنیکل کوآرڈینیشن ڈویژن کے منیجر احمد ندیم کا کہنا تھا کہ پاکستان نے آئی اے ای اے کے حفاظتی معیارات اور دیگر تکنیکی دستاویزات سے فائدہ اٹھایا ہے تاہم اس میں بہتری کی گنجائش ہمیشہ موجود ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے جوہری بجلی گھروں کی حفاظت، استحکام اور پائیداری کو مزید بہتر بنانے کے لیے ہم نے جامع اور مربوط قومی منصوبے کے لیے آئی اے ای اے سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا۔