?>?>اسلام ٹائمز 13 May 2020 گھنٹہ 9:42 https://www.islamtimes.org/ur/article/862359/ماہ-مبارک-رمضان-اور-قرآنی-تعلیمات-2 -------------------------------------------------- ٹائٹل : ماہ مبارک رمضان اور قرآنی تعلیمات(2) -------------------------------------------------- اسلام ٹائمز: قرآن پاک میں سترہ مقامات پر بشیر و نذیر کی اصطلاحات ساتھ ساتھ آئی ہیں، لیکن ان سترہ مقامات میں تیرہ بار بشارت کو مقدم رکھا گیا ہے۔ بعض مفسرین کی رائے ہے کہ خداوند عالم کے ہاں خوشخبری مقدم اور ترجیح ہے۔ بہرحال قرآن پاک اور رسول خدا کی تعلیمات میں تربیت کی جو روش اختیار کی گئی ہے، وہ بشارت دینے اور برائی سے ڈرانے والی روش ہے اور یہ سلسلہ رسول خدا کی مکی اور مدنی دونوں زندگیوں میں ملتا ہے اور قرآن کی مکی اور مدنی آیات میں بھی یہی انداز پایا جاتا ہے۔ متن : تحریر: ڈاکٹر راشد عباس رسول خدا فرماتے ہیں، اس کی قسم جس کے علاوہ کوئی خدا نہیں، انسان جب خدا کے بارے میں حسن ظن رکھتا ہے تو خدا کبھی بھی اس کے خلاف عمل نہیں کرتا، کیونکہ خداوند عالم کریم ہے اور تمام خوبیاں اور اچھائیاں اس کے پاس ہیں اور یہ قابل شرم ہے کہ مومن خدا کے بارے میں بدگمانی کرے اور خدا مومن کے حسن ظن اور امید کے خلاف کوئی عمل انجام نہیں دیتا۔ خدواوند عالم کے بارے میں ہمیشہ نیک گمان رکھنا چاہیئے اور اسی لیے تاکید کی گئی ہے کہ خداوند عالم کے بارے حسن ظن رکھو، کیونکہ اس کا صلہ بہشت بریں ہے۔ خداوند عالم انسانیت کو مرحلہ کمال تک پہنچانے کے لیے اس کو بشارت اور نظارت کے راستے سے تربیت کرتا ہے اور یہ روش ہر انسان کے لیے ہر موقع پر اختیار کرتا ہے۔ خداوند عالم کے وعدے اور بشارتیں دنیوی بھی ہیں اور اخروی بھی۔ دنیا میں حاصل ہونے والی نعمتیں جس میں دشمن کے خلاف کامیابی، نعمتوں کا حصول اور اخروی بشارتیں یعنی جنت اور بہشت بریں اور قربت خداوندی۔ قرآن پاک میں سورہ فصلت کی آیت نمبر30 میں ارشاد ہوتا ہے: "بے شک جن لوگوں نے یہ کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے اور اسی پر جمے رہے، ان پر ملائکہ یہ پیغام لے کر نازل ہوتے ہیں کہ ڈرو نہیں اور رنجیدہ بھی نہ ہو اور اس جنت سے مسرور ہو جائو، جس کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے۔" اس آیہ کریمہ میں تمام نیکیوں اور اچھائیوں کو نمایاں کر کے بیان کیا گیا ہے۔ پہلا مرحلہ خدا پر ایمان لانا اور محکم و مستحکم ایمان لانا اور پھر اپنی زندگی پر مکمل خدائی رنگ چڑھانا اور اپنی تمام سرگرمیوں کو خداوند عالم کی ذات پر مرکوز کرنا۔ بہت سارے لوگ خداوند عالم سے عشق و محبت کا دم بھرتے ہیں، لیکن میدان عمل میں استقامت نہیں دکھاتے۔ یہ وہ لوگ ہیں، جب ان کو مشکلات اور شہوات کے طوفان کا سامنا ہوتا ہے تو ان کے پائے استقلال میں تزلزل پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ اس موقع پر وہ ایمان کا دامن چھوڑ دیتے ہیں اور شرک کا راستہ اختیار کرتے ہیں اور جب ان کے مفادات خطرے میں پڑتے ہیں تو سستی، کوتاہی اور خدا سے دوری کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ قرآن پاک میں سترہ مقامات پر بشیر و نذیر کی اصطلاحات ساتھ ساتھ آئی ہیں، لیکن ان سترہ مقامات میں تیرہ بار بشارت کو مقدم رکھا گیا ہے۔ بعض مفسرین کی رائے ہے کہ خداوند عالم کے ہاں خوشخبری مقدم اور ترجیح ہے۔ بہرحال قرآن پاک اور رسول خدا کی تعلیمات میں تربیت کی جو روش اختیار کی گئی ہے، وہ بشارت دینے اور برائی سے ڈرانے والی روش ہے اور یہ سلسلہ رسول خدا کی مکی اور مدنی دونوں زندگیوں میں ملتا ہے اور قرآن کی مکی اور مدنی آیات میں بھی یہی انداز پایا جاتا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ختم شد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔