اسلام ٹائمز 21 Jan 2022 گھنٹہ 11:36 https://www.islamtimes.org/ur/article/974805/پاراچنار-نومنتخب-سیکرٹری-اراکین-انجمن-حسینیہ-سے-قوم-کی-امیدیں -------------------------------------------------- قومی اتحاد کو برقرار رکھا جائے ٹائٹل : پاراچنار، نومنتخب سیکرٹری و اراکین انجمن حسینیہ سے قوم کی امیدیں قومی مرکز کو الیکشن سیاست سے دور رکھا جائے -------------------------------------------------- اسلام ٹائمز: پیش امام نے اپنے خطابات میں بار بار ایک ہی خواہش کا اظہار کیا ہے کہ اتحاد و اتفاق کی فضا قائم رکھی جائے، نفاق اور آپس کی رسہ کشی سے حتی الوسع اجتناب کیا جائے۔ لہذا امید ہے کہ سالوں سے نفاق کے لگائے ہوئے پودے کی اب بیخ کنی ہو جائے گی اور اس حوالے سے نومنتخب انجمن خصوصاً سیکرٹری صاحب اپنی تمام تر کوششوں کو بروئے لاتے ہوئے پوری قوم کو ایک ہی لڑی میں پرو کر تمام تر توانائی دیرینہ قومی مسائل کے حل پر صرف کرینگے۔ اسوقت اہلیان کرم کو بیسیوں قومی مسائل کا سامنا ہے، جنکا حل قومی اتحاد و اتفاق ہی سے ممکن ہے۔ قومی مسائل کے حل کیلئے اقوام کو ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ دینا ہوگا، جبکہ قومی عمائدین نے پہلے ہی سے نومنتخب اراکین کو بھرپور تعاون کا یقین دلایا ہے۔ متن : تحریر: حسنین بنگش سابقہ اراکین کی مدت ختم ہونے کے بعد انجمن حسینیہ کی تشکیل نو ہو کر جمعہ 14 جنوری 2022ء کو نماز جمعہ کے بعد نئے سیکرٹری اور اراکین کے ناموں کا اعلان کر دیا گیا۔ نماز کے فوراً بعد پیش امام علامہ فدا حسین مظاہری نے سیکرٹری اور اراکین انجمن حسینیہ سے حلف لیا۔ انتخاب کے بعد کرم کے قبائلی مشران، عمائدین اور تنظیمی نمائندگان نے بالمشافہ یا میڈیا کے ذریعے نومنتخب اراکین کو مبارکباد پیش کرکے اپنے تعاون اور ہمدردی کا یقین دلایا، جو کہ ایک خوش آئند امر ہے، کیونکہ قوم اپنے قومی اداروں کے بغیر جبکہ ادارے اپنی قوم کے تعاون کے بغیر نہیں چل سکتے۔ لہذا عوام کی جانب سے بھرپور تعاون کی یقین دہانی طوری بنگش اقوام کے مسائل کے حل کی ایک طرح سے پیشین گوئی اور پیش خیمہ ہے۔ ماضی کے برخلاف، انجمن حسینیہ کا حالیہ اور ساتھ ہی پچھلے دو ادوار انوکھے ہیں۔ جن میں سیکرٹری اور اراکین انجمن کا انتخاب کافی حد تک جمہوری انداز سے ہوا۔ پیش امام نے تین ہفتے قبل انجمن کے انتخاب کے لئے اقوام کو ذمہ داری سونپتے ہوئے تقاضا کیا تھا کہ انجمن قومی حقوق کے حصول کے لئے ایک قومی ادارہ ہے۔ لہذا اس کے لئے اپنوں میں سے قابل، لائق اور تعلیم یافتہ بندوں کا انتخاب کرکے بھیجیں، یوں انجمن کے انتخاب کے لئے قبائل میں ایک طرح سے مسابقہ ہوا اور گذشتہ ادوار کی نسبت اس انجمن میں پڑھے لکھے، سنجیدہ، قوت فیصلہ رکھنے والے اور تجربہ کار افراد کی تعداد کچھ زیادہ ہے۔ اسی طرح سیکرٹری عنایت حسین صاحب بھی ایک تجربہ کار تنظیمی شخصیت ہیں اور قومی امور پر پہلے ہی سے گہری نظر رکھتے ہیں۔ االلہ تعالیٰ سے امید ہے کہ ہر قوم نے اپنے حقوق کے حصول کے لئے اپنوں میں سے ایک مناسب ترین شخصیت کا انتخاب کیا ہوگا۔ پیش امام علامہ فدا حسین مظاہری نے اپنے خطابات میں بار بار ایک ہی خواہش کا اظہار کیا ہے کہ اتحاد و اتفاق کی فضا قائم رکھی جائے، نفاق اور آپس کی رسہ کشی سے حتی الوسع اجتناب کیا جائے۔ چنانچہ امید ہے کہ سالوں سے نقاق کے لگائے ہوئے پودے کی اب بیخ کنی ہو جائے گی اور اس حوالے سے نومنتخب انجمن خصوصاً سیکریٹری صاحب اپنی تمام تر کوششوں کو بروئے لاتے ہوئے پوری قوم کو ایک ہی لڑی میں پرو کر تمام تر توانائی دیرینہ قومی مسائل کے حل پر صرف کرینگے۔ اگرچہ چند مخصوص گروپس اب بھی فضا کو خراب کرنے میں سرگرم عمل ہیں، تاہم امید ہے کہ آقائے مظاہری اور نومتخب انجمن حسینیہ انہیں اپنا ایجنڈا تکمیل تک نہیں پہنچانے دینگے۔ اس وقت اہلیان کرم کو بیسیوں قومی مسائل کا سامنا ہے، جن کا حل قومی اتحاد و اتفاق ہی سے ممکن ہے۔ قومی مسائل کے حل کیلئے اقوام کو ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ دینا ہوگا، جبکہ قومی عمائدین نے پہلے ہی سے نومنتخب اراکین کو بھرپور تعاون کا یقین دلایا ہے۔ نومنتخب سیکرٹری اور اراکین سے ایک اہم امید یہ کی جا رہی ہے کہ مرکز اور قومی اداروں کو الیکشن سیاست سے دور رکھیں، کیونکہ مرکز طوری بنگش قبائل کا قومی ادارہ ہے، جبکہ آٹھوں قبائل قومی مرکز کے ہیں اور ہر قوم و قبیلے کا نمائندہ اس میں موجود ہے۔ چنانچہ اس ادارے سے کسی خاص فرد کیلئے مہم چلانے سے دوسرے امیدوار کا قبیلہ یقیناً ناراض ہو جائے گا اور قبیلے یا قبائل کا ساتھ چھوڑنے سے مرکز مضبوط نہیں بلکہ کمزور ہو جائے گا۔ عنایت حسین صاحب ایک سلجھے ہوئے انسان ہیں۔ وہ اپنی شخصیت کو مرکز پر تو قربان کریں گے، مگر وہ ان شاء اللہ مرکز کو کسی کے ذاتی مفاد اور سیاست پر قربان نہیں ہونے دیںگے۔