اسلام ٹائمز 29 Apr 2018 گھنٹہ 19:11 https://www.islamtimes.org/ur/article/721300/چیف-جسٹس-ا-ف-پاکستان-کے-نام-ایم-ڈبلیو-سندھ-سیکرٹری-جنرل-کا-کھلا-خط -------------------------------------------------- ٹائٹل : چیف جسٹس آف پاکستان کے نام ایم ڈبلیو ایم سندھ کے سیکرٹری جنرل کا کھلا خط -------------------------------------------------- اسلام ٹائمز: چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کو لکھے گئے خط میں ایم ڈبلیو ایم سندھ جنرل سیکریٹری نے کہا کہ ایک طرف تسلسل کے ساتھ وطن عزیز پاکستان میں شیعیت کا قتل عام جاری ہے تو دوسری طرف شیعہ رہنماؤں اور مساجد، امام بارگاہوں و مدارس کی سیکورٹی واپس لی جا رہی ہے، جو انتہائی افسوسناک عمل ہے۔ انتظامیہ نے ملک کے مختلف شہروں میں سپریم کورٹ کے احکامات کا بہانہ بنا کر مساجد، مدارس، امام بارگاہوں اور شخصیات سے سیکورٹی واپس لے لی ہے، اس میں ایسی شخصیات بھی شامل ہیں، جن پر ماضی میں ایک سے زائد مرتبہ دہشتگرد حملہ کر چکے ہیں اور وہ دہشتگردوں کی ہٹ لسٹ پر ہیں، ہم امید کرتے ہیں کہ ان شیعہ شخصیات اور اداروں کی سیکورٹی جلد واپس کی جائے، جن کو واقعاً خطرات درپیش ہیں۔ ہم یہ بھی امید رکھتے ہیں ان ہزاروں مظلوموں کو انصاف کی فراہمی میں آپ اپنا کردار ادا کریں گے، جنہیں بے جرم و خطا مارا گیا۔ متن : ترتیب و تزئین: ایس حیدر پاکستان بھر میں شیعہ قتل عام طویل عرصے سے جاری ہے، آمر جنرل ضیاء الحق کے لگائے گئے تکفیریت کے پودے نے جہاں پاکستان کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کی کوشش کی ہے، وہیں اس ہی تکفیریت کی قائل کالعدم دہشتگرد جماعتوں نے پاکستانی اہل تشیع مسلمانوں کو کافر قرار دے کر منظم طریقے سے ان کا بے دریغ قتل عام کیا ہے۔ اہم شخصیات کی ٹارگٹ کلنگ، مساجد و امام بارگاہوں میں خودکش دھماکے کئے، حتیٰ کہ شناختی کارڈ دیکھ کر شیعہ مسلمانوں کے سینوں کو گولیوں سے چھلنی کیا گیا۔ دین اسلام میں جنگ کی حالت میں بھی خواتین اور بچوں سے ناروا سلوک رکھنے کی ممانعت کی گئی ہے، لیکن دہشتگردوں نے یہاں ان پر بھی رحم نہیں کیا اور بچوں اور خواتین کو بھی اپنی بربریت کا نشانہ بنایا۔ ایسی صورتحال میں کہ جب شیعہ عوام پاکستان میں اپنی جان ہتھیلی پر رکھ پر زندگی بسر کر رہے ہیں اور مشرقی سرحد سے داعش کی آمد کے آثار بھی نمودار ہونا شروع ہوگئے ہیں، شیعہ علماء اور اہم شخصیات کی سیکورٹی حکومت نے واپس لے لی ہے، حتیٰ تمام بڑی شخصیات اس وقت دہشتگردوں کیلئے نہایت ہی آسان ہدف بناکر پیش کی گئی ہیں۔ ایسی صورتحال میں شیعہ عوام و خواص کی جانب سے سخت تشویس کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اسی حوالے سے مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے سیکریٹری علامہ مقصود علی ڈومکی نے چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کے نام ایک کھلا خط جاری کیا ہے۔ جو قارئین کے مطالعے کیلئے پیش خدمت ہے۔ جناب عزت مآب ثاقب نثار صاحب چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان موضوع۔ ملک بھر میں ملت جعفریہ کے خلاف جاری دہشتگردی، کوئٹہ میں جاری شیعہ نسل کشی اور شیعہ مساجد، امام بارگاہوں اور شخصیات سے سیکیورٹی کی واپسی السلام علیکم! جناب اعلیٰ گذارش ہے کہ گذشتہ کئی دہائیوں سے وطن عزیز پاکستان میں تسلسل کے ساتھ ملت جعفریہ کے علماء، اکابرین، شخصیات، ڈاکٹرز، انجینئرز اور معزز شہریوں کو تسلسل کے ساتھ دہشتگردی کا نشانہ بنایا گیا، یہ قتل عام اس تسلسل اور شدت کے ساتھ جاری ہے کہ اسے شیعہ نسل کشی ہی کا نام دیا جا سکتا ہے، کیونکہ ہمیں بسوں سے اتار کر شناختی کارڈ چیک کرکے گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ ملک دشمن اور اسلام دشمن سامراجی قوتوں کے یہ آلہ کار اس ملک و قوم کے دشمن ہیں یہی سبب ہے کہ انہوں نے پاک فوج کو نشانہ بنایا، وطن عزیز کی گلیاں پولیس کے جوانوں سے لے کر ہر طبقہ فکر کے معصوم انسانوں کے خون ناحق سے رنگین ہیں، مگر اس صورتحال میں جس مسلک اور مکتب کو سب سے زیادہ ظلم کا نشانہ بنایا گیا، وہ شیعان علیؑ ہی ہیں۔ آج بھی کوئٹہ کے ہزارہ قبیلہ کو شیعہ ہونے کی سزا دی جا رہی ہے۔ سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں جنازوں کو اپنے کاندھوں پر اٹھانے والی اس ملت نے ہمیشہ پاکستان سے اپنی لازوال محبت کا اس طرح سے ثبوت دیا ہے کہ قومی پرچم کے سائے تلے اپنے شہیدوں کے جنازوں کو اٹھایا۔ جناب چیف جسٹس صاحب اس صورتحال کا افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ دہشتگردی کے مراکز، سہولتکاروں اور کالعدم دہشتگرد تنظیموں کو ملک بھر میں کھلی چھوٹ دی گئی ہے، جو نفرت انگیز سرگرمیوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور آج بھی کافر کافر کے فتنہ انگیز نعرے بلند کرتے ہیں، جبکہ تسلسل کے ساتھ ہونے والے ان سانحات میں ملوث مجرم ہر دفعہ باعزت بری ہو جاتے ہیں۔ بطور مثال 23 اکتوبر 2015ء کی شب عاشور جیکب آباد میں قیامت صغریٰ بپا ہوئی، اٹھائیس معصوم انسان دہشتگردوں کے ہاتھوں مارے گئے، فقط دو سال کے اندر تمام دہشتگرد اور ان کے ساتھی باعزت بری ہوگئے، 22 اکتوبر 2015ء کو بلوچستان کے گاؤں چھلگری ضلع بولان کے خودکش حملے کے شہداء کے وارث آج بھی حکومتی اداروں سے اپنے پیاروں کیلئے انصاف طلب کر رہے ہیں، انہیں ڈھائی سال کے طویل عرصہ میں ایک بھی قاتل دہشتگرد یا اس کے سہولت کار ساتھی کا نام تک نہیں بتایا گیا۔ یہی صورتحال ان متعدد واقعات کی ہے، جو کوئٹہ میں رونما ہو رہے ہیں۔ جناب اعلیٰ ایک طرف تسلسل کے ساتھ وطن عزیز پاکستان میں شیعیت کا قتل عام جاری ہے تو دوسری طرف شیعہ رہنماؤں اور مساجد، امام بارگاہوں و مدارس کی سیکورٹی واپس لی جا رہی ہے، جو انتہائی افسوسناک عمل ہے۔ انتظامیہ نے ملک کے مختلف شہروں میں سپریم کورٹ کے احکامات کا بہانہ بنا کر مساجد، مدارس، امام بارگاہوں اور شخصیات سے سیکورٹی واپس لے لی ہے، اس میں ایسی شخصیات بھی شامل ہیں، جن پر ماضی میں ایک سے زائد مرتبہ دہشتگرد حملہ کر چکے ہیں اور وہ دہشتگردوں کی ہٹ لسٹ پر ہیں، ہم امید کرتے ہیں کہ ان شیعہ شخصیات اور اداروں کی سیکورٹی جلد واپس کی جائے، جن کو واقعاً خطرات درپیش ہیں۔ ہم یہ بھی امید رکھتے ہیں ان ہزاروں مظلوموں کو انصاف کی فراہمی میں آپ اپنا کردار ادا کریں گے، جنہیں بے جرم و خطا مارا گیا۔ جناب چیف جسٹس صاحب آپ نے مختلف شعبوں میں عوام پر ہونے والی زیادتیوں کے خلاف جس جرأت و دلیری سے اقدام اٹھائے ہیں، وہ یقیناًلائق ستائش ہیں، ایک مظلوم ملت کا فرد ہونے کے ناطے (جس نے اب تک بلامبالغہ سینکڑوں شہیدوں کا جنازہ اٹھایا ہے) آپ سے درخواست گذار ہوں، ان ہزاروں شہداء کے قاتل دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کو جلد کیفر کردار تک پہنچائیں، کوئٹہ میں ہونے والے مظلوم شیعہ ہزارہ شہریوں کے قتل عام کو رکوائیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس قوم و ملک کی بہتر خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین نیک خواہشات کے ساتھ مقصود علی ڈومکی سیکریٹری جنرل، مجلس وحدت مسلمین صوبہ سندھ