اسلام ٹائمز 10 Jun 2014 گھنٹہ 0:54 https://www.islamtimes.org/ur/news/390660/امریکہ-دنیا-کی-سب-سے-بڑی-دہشت-گرد-حکومت-ہے-پروفیسر-باریوس -------------------------------------------------- ٹائٹل : امریکہ دنیا کی سب سے بڑی دہشت گرد حکومت ہے، پروفیسر باریوس -------------------------------------------------- اسلام ٹائمز: ارجنٹائن یونیورسٹی کے پروفیسر مگل انچل باریوس نے امریکہ کو دنیا کی سب سے بڑی دہشت گرد حکومت قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ روز بروز اپنی زوال کی جانب گامزن ہے جس کی وجہ سے 2030ء تک چین اقتصاد اور صنعت کے میدان میں امریکہ کو پیچھے چھوڑ دے گا۔ متن : اسلام ٹائمز [مانیٹرنگ ڈیسک] فارس نیوز ایجنسی کے مطابق ارجنٹائن یونیورسٹی کے معروف استاد پروفیسر مگل انچل باریوس نے تہران یونیورسٹی میں منعقدہ ایک علمی نشست سے خطاب کرتے ہوئے لاطینی امریکہ اور مشرق وسطی کے بعض اہم امور پر اظہار خیال کیا ہے۔ انہوں نے اپنی تقریر کے آغاز میں حضرت امام خمینی رحمہ اللہ علیہ کی سوچ اور نظریات کی قدردانی کرتے ہوئے کہا کہ مغرب کی جانب سے رائج کردہ معیشت اور بین الاقوامی اقتصادی نظام کی بنیاد پر گلوبلائزیشن کی کوششیں ناانصافی پھیلنے اور انسانوں کے احترام کے نظرانداز ہونے کا باعث بنی ہیں۔ پروفیسر باریوس نے امریکہ کو دنیا کی سب سے بڑی دہشت گرد حکومت قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ تیزی سے اپنے زوال کی جانب گامزن نظر آتا ہے جس کی وجہ سے 2030ء تک چین اور بھارت معیشت اور صنعت کے میدان میں امریکہ کو پیچھے چھوڑ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا یونی پولر عالمی نظام سے ملٹی پولر عالمی نظام کی جانب گامزن ہے۔ ارجنٹائن یونیورسٹی کے معروف پروفیسر نے تاکید کرتے ہوئے کہا کہ اگر لاطینی امریکہ کے ممالک اور عالم اسلام اپنے وظائف اور ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے انجام دیں تو اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ دونوں خطے دنیا کے دو موثر بلاکس میں تبدیل ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مغربی دنیا ان دو بلاکس کے ایکدوسرے کے ساتھ متحد ہونے سے شدید خوفزدہ ہیں۔ پروفیسر مگل انچل باریوس نے ایران اور دوسرے اسلامی ممالک اور لاطینی امریکہ کے ممالک کے درمیان موجود روابط کی کمی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ارجنٹائن کے عوام کے ذہن میں دین اسلام اور اسلامی جمہوریہ ایران سے متعلق کوئی واضح تصویر نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی ذرائع ابلاغ اسلام کو دہشت گردی اور شدت پسندی کے دین کے طور پر پیش کرتے ہیں جبکہ ایران کو بھی ایک پسماندہ اور متحجر دینی حکومت کے طور پر متعارف کرواتے ہیں لہذا مغربی معاشروں میں رہنے والے افراد اسی تصور کو اپنے ذہنوں میں لئے ہوئے ہیں۔ میری نظر میں دین کا مطلب انقلاب ہے اور اسلام ایسے اہداف و مقاصد کو حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے جنہیں مارکسزم بھی حاصل نہیں کر پایا۔ ارجنٹائن یونیورسٹی کے پروفیسر باریوس نے اسلامی جمہوریہ ایران کو عالم اسلام کا مرکز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران میں موجود امن و امان اور ایکدوسرے کا احترام لاطینی امریکہ کے کسی ملک میں نہیں دیکھا جا سکتا۔ یاد رہے پروفیسر مگل انچل باریوس پولیٹیکل سائنس اور ایجوکیشن میں پی ایچ ڈی کی ڈگری رکھتے ہیں۔ وہ ارجنٹائن کی وزارت خارجہ سے وابستہ فارن سروسز سنٹر میں تدریس بھی کرتے ہیں اور جیوپولیٹکس، اسٹریٹجک سائنسز اور ملٹری سائنسز کے شعبوں میں کئی کتابوں اور مقالات کے مصنف بھی ہیں۔ ان کی سب سے معروف کتاب "لاطینی امریکہ کی جیوپولیٹکس اور سیکورٹی کی ثقافت" کے عنوان سے شائع ہو چکی ہے۔