اسلام ٹائمز 23 Nov 2021 گھنٹہ 21:30 https://www.islamtimes.org/ur/article/965112/اعلان-بالفور-سے-حماس-کو-دہشتگرد-قرار-دینے-تک -------------------------------------------------- ٹائٹل : اعلان بالفور سے حماس کو دہشتگرد قرار دینے تک -------------------------------------------------- اسلام ٹائمز: اسرائیلی وزیراعظم نے برطانوی حکومت کے اس اقدام کو سراہا ہے۔ حماس نے اس اقدام پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ فلسطینی عوام کے بارے کی گئی تاریخی غلطی پر معافی مانگنے اور اسے سدھارنے کی بجائے غاصب کی حمایت کر رہا ہے۔ حماس نے کہا کہ غاصبانہ قبضے کیخلاف حتی المقدور جدوجہد حتی کہ مسلح تحریک عالمی قانون کا حصہ ہے، جو کہ مقبوضہ خطے کے باسیوں کا حق ہے۔ حماس نے اس بیان میں اسی اعلان بالفور کی جانب نشاندہی کی ہے، جو نومبر کے مہینے میں ہی سامنے آیا۔ پورے ایک سو برس کے بعد برطانیہ ایک مرتبہ پھر اپنے حقیقی چہرے کیساتھ دنیا کے سامنے آیا چاہتا ہے، تاہم یہ غاصب جس قدر مرضی ایکا کر لیں، فلسطینی تحریک کو ہی بالآخر کامیاب ہونا ہے۔ ان شاء اللہ متن : تحریر: سید اسد عباس مجھے شاہ برطانیہ کی طرف سے آپ کو بتاتے ہوئے از حد خوشی ہو رہی ہے کہ درج ذیل اعلان صہیونی یہودیوں کی امیدوں کے ساتھ ہماری ہمدردی کا اظہار ہے اور اس کی توثیق ہماری کابینہ بھی کرچکی ہے: "شاہ برطانیہ کی حکومت فلسطین میں ایک یہودی ریاست کے قیام کی حامی ہے اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے اپنی ہر ممکن صلاحیت کو بروئے کار لائے گی، مگر اس بات کو مدِنظر رکھا جائے کہ فلسطین کی موجودہ غیر یہودی آبادی مسلمان اور مسیحی کے شہری و مذہبی حقوق یا دوسرے ممالک میں یہودیوں کی سیاسی حیثیت کو نقصان نہ پہنچے۔” میں بہت ممنون ہوں گا، اگر اس اعلان کو صہیونی فیڈریشن کے علم میں بھی لایا جائے۔ آپکا مخلص آرتھر جیمز بالفور سیکریٹری خارجہ برطانیہ 2 نومبر 1917ء یہ ہے وہ منحوس خط جسے اعلان بالفور کی نشانی سمجھا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ معاہدہ، اعلان اور خط حاییم وائزمین جو بعد میں اسرائیل کا پہلا صدر بنا اور ناہوم سوکولو کی متواتر کوششوں کا نتیجہ تھا، جو لندن میں صیہونی یہودیوں کے نمائندے تھے۔ ان کی خواہش تھی کہ فلسطین کے دس لاکھ لوگوں کو وہاں سے نکال کر وہاں ایک یہودی ریاست کا قیام عمل میں لایا جائے۔ یہ اعلان بعد میں نہ صرف ترکی کے ساتھ ایک معاہدہ کا حصہ بھی بنا بلکہ اس کو خفیہ طور پر وائزمین نے کچھ عربوں سے بھی منوایا، جو اس زمانے میں اقتدار کی شدید ہوس میں مبتلا تھے اور اس کے لیے سلطنتِ عثمانیہ کے خاتمے سمیت کچھ بھی کرنے کو تیار تھے۔ صہیونی اگرچہ ایک طویل عرصے سے فلسطینی علاقوں میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھے، تاہم اس خفیہ معاہدے کے بعد ان کو کھلی چھوٹ مل گئی اور انھوں نے ہر غلط صحیح حربے کا استعمال کرتے ہوئے فلسطینی زمینوں پر قبضے شروع کر دیئے۔ اعلان بالفور کے تحت 1918ء سے 1948ء کے درمیان برطانیہ نے یہودیوں کو فلسطین میں آبادکاری کا پورا موقع فراہم کیا۔ 1918ء میں فلسطینی سرزمین پر یہودیوں کی کل آبادی 55 ہزار تھی جو 1948ء میں بڑھ کر 646 ہزار تک یعنی آٹھ فیصد سے بڑھ کر تقریباً بتیس فیصد تک پہنچ گئی۔ اسی طرح بڑے پیمانے پر فلسطینی اراضی پر بھی یہودیوں کو قبضہ دلایا گیا۔ یہ 30 برس فلسطین کی مسلم آبادی کے لیے کسی بھی طور سے ایک سخت ترین آزمائش سے کم نہ تھے، اس دوران ان کو ہر طرح سے دبا کر رکھنے اور کمزور کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس کے برعکس یہودیوں کو معاشی، سیاسی، عسکری، تعلیمی اور سماجی ہر پہلو سے مضبوط کیا گیا۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 1948ء میں جب عالمی طاقتوں کی نگرانی اور سرپرستی میں پوری تیاری کے ساتھ یہودیوں نے اسرائیلی ریاست کے قیام کا اعلان کیا، اس وقت ان کے پاس اپنی ستر ہزار سے زائد تربیت یافتہ افواج موجود تھیں۔ اس خطرناک اور گہری سازش کے باوجود، جبکہ طاقت اور قوت کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے فلسطین پر قبضہ کیا گیا اور عالمی طاقتوں کی جانب سے اس کی کھل کر تائید کی گئی، فلسطین کی خوددار عوام نے نہ تو کبھی برطانوی استعمار کو قبول کیا اور نہ ہی صہیونی منصوبوں کے سامنے گھٹنے ٹیکے، فلسطین کی خوددار عوام نے ہمیشہ ہی آزادی کا علم بلند کئے رکھا۔ 1920ء کے بعد ہی سے فلسطینی عوام نے موسیٰ کاظم، امین الحسینی اور ان کے ساتھیوں کی قیادت میں آزادی کے لیے جدوجہد کا آغاز کر دیا تھا، چنانچہ 1920ء، 1921ء، 1929ء، 1933ء میں زبردست تحریکیں چلائی گئیں، 1936ء تا 1939ء میں اس تحریک آزادی کی قیادت عزالدین القسام اور عبدالقادر الحسینی نے کی اور اس قدر عوامی دباؤ بنایا کہ مئی 1939ء میں برطانیہ کو دس سال کے اندر فلسطینی حکومت کے قیام کے سلسلے میں معاہدہ کرنا پڑگیا، اس معاہدے میں یہ بات بھی شامل تھی کہ برطانوی حکومت مخصوص علاقوں کو چھوڑ کر فلسطین کی اراضی یہودیوں کے ہاتھ فروخت نہیں کرسکتی اور پانچ سال کے اندر اندر یہودیوں کے فلسطین آنے پر مکمل پابندی لگائی جائے گی، تاہم نومبر 1945ء میں برطانیہ نے معاہدہ شکنی کرتے ہوئے اس مسئلے سے علیحدگی اختیار کرلی اور امریکہ نے اسرائیل کی سرپرستی کا ذمہ لے لیا۔ برطانیہ ہمیشہ اسرائیل کا حامی رہا ہے، لیکن فعال حامی کی حیثیت سے اس نے کرسی امریکہ سے بدل لی، جو تاحال بدستور اسی کے پاس ہے۔ برطانیہ کے شکم میں بھی اپنی ناجائز اولاد کا درد ایک مرتبہ پھر جاگا ہے۔ حال ہی میں برطانیہ کی ہوم سیکرٹری پریتی پٹیل نے مقاومت فلسطین کی پہچان اور غزہ میں حاکم حماس کو دہشت گرد تنظیم کے ایکٹ کے تحت کالعدم قرار دینے کی قراردار پیش کی ہے۔ پریتی پٹیل کا نام ہی واضح نشاندہی ہے کہ یہ اسرائیل ہندوستان گٹھ جوڑ کا نتیجہ ہے، جس کا اگلا شکار یقیناً کشمیری تنظیمیں ہوں گی۔ مجھے حیرت تو اس بات پر ہوئی کہ برطانیہ میں حماس اب تک بین نہیں ہے، کیونکہ الشیخ السعود اور الشیخ الامارات تو پہلے ہی حماس کو دہشت گرد تنظیم قرار دے چکے ہیں۔ پریتی پٹیل کا کہنا ہے کہ اس تنظیم کے سیاسی اور عسکری ونگ میں تمیز ممکن نہیں، لہذا اس تنظیم کو بین کیا جانا چاہیئے۔ یاد رہے کہ برطانیہ نے القسام بریگیڈ کو مارچ 2001ء میں بین کر دیا تھا۔ اگر برطانوی پارلیمنٹ حماس کو دہشت گردی ایکٹ کے تحت کالعدم قرار دیتی ہے تو اس تنظیم کو پابندیوں کے ساتھ ساتھ اس کے حامیوں کو 14 برس تک جیل ہوسکتی ہے۔ برطانیہ، امریکہ اور یورپی یونین کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کی طرح کا ملک ہو جائے گا۔ اسرائیلی وزیراعظم نے برطانوی حکومت کے اس اقدام کو سراہا ہے۔ حماس نے اس اقدام پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ فلسطینی عوام کے بارے کی گئی تاریخی غلطی پر معافی مانگنے اور اسے سدھارنے کی بجائے غاصب کی حمایت کر رہا ہے۔حماس نے کہا کہ غاصبانہ قبضے کے خلاف حتی المقدور جدوجہد حتی کہ مسلح تحریک عالمی قانون کا حصہ ہے، جو کہ مقبوضہ خطے کے باسیوں کا حق ہے۔ حماس نے اس بیان میں اسی اعلان بالفور کی جانب نشاندہی کی ہے، جو نومبر کے مہینے میں ہی سامنے آیا۔ پورے ایک سو برس کے بعد برطانیہ ایک مرتبہ پھر اپنے حقیقی چہرے کے ساتھ دنیا کے سامنے آیا چاہتا ہے، تاہم یہ غاصب جس قدر مرضی ایکا کر لیں، فلسطینی تحریک کو ہی بالآخر کامیاب ہونا ہے۔ ان شاء اللہ