اسلام ٹائمز 7 Aug 2022 گھنٹہ 23:35 https://www.islamtimes.org/ur/news/1008124/مسلم-لیگ-نون-کا-پارلیمنٹ-کے-ذریعے-نواز-شریف-کی-واپسی-راستہ-ہموار-کرنے-پر-غور -------------------------------------------------- ٹائٹل : مسلم لیگ نون کا پارلیمنٹ کے ذریعے نواز شریف کی واپسی کا راستہ ہموار کرنے پر غور -------------------------------------------------- رانا ثناء اللہ نے ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کی واپسی پر پارٹی میں بات چیت ہوئی ہے، امکان ہے کہ وہ اگلے عام انتخابات سے قبل پاکستان واپس آئیں گے اور مسلم لیگ (ن) کی انتخابی مہم کی قیادت کرینگے۔ رانا ثناء اللہ نے مسلم لیگ (ن) کے رہنماء جاوید لطیف کے ان دعوؤں کو مسترد کیا، جنکے مطابق نواز شریف ستمبر کے وسط میں پاکستان واپس آنے پر غور کر رہے ہیں۔ متن : اسلام ٹائمز۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت اپنے پارٹی کے قائد نواز شریف کی پاکستان واپسی کو آسان بنانے کے لیے متعلقہ قانون سازی پر غور کر رہی ہے، جو کہ طبی بنیادوں پر لندن گئے تھے اور اب وہاں خود ساختہ جلاوطنی اپنائے ہوئے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے رہنماء اور وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ مخلوط حکومت کچھ ایسی ترامیم کرسکتی ہے، جس سے نواز شریف پر پاناما پیپرز کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے ذریعے عائد کردہ پابندی کو ختم کرنے میں مدد ملے گی۔ اندرونی ذرائع نے بتایا کہ پارلیمنٹ سیاست دانوں پر تاحیات پابندی کو کالعدم کرسکتی ہے اور ہوسکتا ہے کہ عدالت اسے لاگو نہ کرسکے۔ ذرائع نے کہا کہ اگر اس قانون سازی کو پارلیمنٹ میں لایا جاتا ہے اور بعد میں اسے منظور کیا جاتا ہے تو نتیجتاً اس کا فائدہ نواز شریف کو ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس قانون کو متعارف کروایا جانا سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے سپریم کورٹ میں سیاستدانوں پر تاحیات پابندی کو چیلنج کرنے والی درخواست کے نتائج سے منسلک ہوگا۔ اس سے قبل مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے اشارہ دیا تھا کہ ان کے والد واپس آنا چاہتے ہیں، لیکن ان کی واپسی میں کچھ مسائل رکاوٹ بن رہے ہیں۔ مریم نواز دراصل قانونی مسائل کا حوالہ دے رہی تھیں، کیونکہ وطن واپسی پر نواز شریف کو العزیزیہ کرپشن ریفرنس میں جیل جانا پڑے گا، اس کے علاوہ ان کی واپسی کے لیے مریم نواز نے طاقتور حلقوں کی جانب سے گرین سگنل نہ ملنے کا بھی حوالہ دیا۔ اپریل میں شہباز شریف کے وزیراعظم بننے کے بعد مسلم لیگ (ن) کے کچھ رہنماء اس امید کے ساتھ پُرجوش تھے کہ اب ان کے پارٹی قائد جلد ہی ان کے درمیان ہوں گے، لیکن قانونی رکاوٹوں کو ان کی واپسی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا جا رہا ہے۔ نواز شریف ممکنہ طور پر عام انتخابات سے قبل پاکستان واپس آسکتے ہیں، کیونکہ مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کا خیال ہے کہ سیاسی میدان میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر قابو پانے کے لیے ان کی موجودگی ضروری ہے۔ رواں سال اپریل میں وزیراعظم کے عہدے سے ہٹائے گئے پی ٹی آئی چیئرمین کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے پیش نظر پوری مسلم لیگ (ن) کی قیادت اس بات پر متفق ہے کہ اگر آئندہ انتخابات میں پارٹی کو فتح حاصل کرنی ہے تو انتخابات سے قبل نواز شریف کی پاکستان میں موجودگی ضروری ہے۔ اندرونی ذرائع نے بتایا کہ پنجاب میں گذشتہ ماہ ہونے والے ضمنی انتخابات میں شرمناک شکست نے پارٹی کے اندر اس خیال کو تقویت بخشی ہے کہ مریم نواز اور شہباز شریف جیسی دوسرے درجے کی قیادت عمران خان کے سیاسی قد کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ مریم نواز کی جارحانہ انتخابی مہم کے باوجود 22 جولائی کو ہونے والے ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کو عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں انہیں پنجاب کی حکومت سے ہاتھ دھونا پڑا۔ ذرائع نے مزید کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی سینیئر قیادت کا خیال ہے کہ سیاسی میدان میں صرف نواز شریف ہی عمران خان کو قابو کرسکتے ہیں۔ دریں اثنا وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے نواز شریف کی فوری واپسی سے متعلق افواہوں کو مسترد کر دیا ہے، تاہم انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ نواز شریف آئندہ عام انتخابات سے قبل پارٹی کی مہم کو آگے بڑھانے کے لیے واپس آجائیں گے۔ رانا ثناء اللہ نے ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کی واپسی پر پارٹی میں بات چیت ہوئی ہے، امکان ہے کہ وہ اگلے عام انتخابات سے قبل پاکستان واپس آئیں گے اور مسلم لیگ (ن) کی انتخابی مہم کی قیادت کریں گے۔ رانا ثناء اللہ نے مسلم لیگ (ن) کے رہنماء جاوید لطیف کے ان دعوؤں کو مسترد کیا، جن کے مطابق نواز شریف ستمبر کے وسط میں پاکستان واپس آنے پر غور کر رہے ہیں۔ جاوید لطیف بھرپور انداز میں اپنی پارٹی کے سربراہ سے وطن واپس آنے کی اپیل کر رہے ہیں، اس سے پہلے کہ عمران خان کا مقابلہ کرنے میں دیر ہو جائے۔ نواز شریف نومبر 2019ء سے علاج کے لیے لندن میں اس وقت سے مقیم ہیں، جب ہائی کورٹ نے انہیں علاج کے سلسلے میں لندن جانے کے لیے 4 ہفتے کی مہلت دی تھی، وہ طبی بنیادوں پر لندن روانگی سے قبل العزیزیہ کرپشن کیس میں لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں 7 سال کی قید کاٹ رہے تھے۔ ان کے باہر جانے سے قبل ان کے چھوٹے بھائی شہباز شریف نے لاہور ہائی کورٹ میں ایک حلف نامہ جمع کرایا تھا، جس میں اس بات کو یقینی بنایا گیا تھا کہ ان کے بڑے بھائی 4 ہفتوں کے اندر یا ڈاکٹروں کی جانب سے ان کی صحت کی بحالی کے حوالے سے تصدیق کے بعد پاکستان واپس آجائیں گے، تاہم ان کی صحت کو درپیش خدشات کی وجہ سے ان کی واپسی میں بار بار تاخیر ہو رہی ہے۔ نواز شریف کے پاسپورٹ کی میعاد فروری 2021ء میں ختم ہوگئی تھی، تاہم شہباز شریف کی حکومت نے رواں سال اپریل میں انہیں نیا پاسپورٹ جاری کر دیا۔ واضح رہے کہ گذشتہ برس محکمہ داخلہ نے طبی بنیادوں پر لندن میں نواز شریف کے قیام میں مزید توسیع سے انکار کر دیا تھا، جس کے بعد نواز شریف نے برطانوی امیگریشن ٹربیونل میں اپیل دائر کی تھی۔ نواز شریف قانونی طور پر برطانیہ میں اس وقت تک رہ سکتے ہیں، جب تک کہ ٹریبونل ان کی ملک میں قیام کی درخواست پر فیصلہ جاری نہیں کرتا۔