اسلام ٹائمز 25 Sep 2013 گھنٹہ 10:09 https://www.islamtimes.org/ur/news/305187/سعودی-عرب-اور-ترکی-شام-کے-بارے-میں-اپنے-موقف-پر-نظرثانی-کریں-سید-حسن-نصراللہ -------------------------------------------------- شام پر حملہ کے خطرناک نتائج برآمد ہونگے ٹائٹل : سعودی عرب اور ترکی شام کے بارے میں اپنے موقف پر نظرثانی کریں، سید حسن نصراللہ -------------------------------------------------- اسلام ٹائمز: سوموار کی رات لبنانی ٹی وی پر خطاب میں حزب اللہ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ حزب اللہ لبنان، کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال میں دین اور شریعت کی پابند ہے، شام کے کیمیاوئی ہتھیاروں کی لبنان منتقلی کا دعویٰ مضحکہ خیز اور خطرناک نتائج کا حامل ہے۔ متن : اسلام ٹائمز۔ حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے اس بات کی تردید کرتے ہوئے کہ شام کے کیمیاوی ہتھیار، حزب اللہ لبنان کے پاس ہیں، اس قسم کے دعوے کو مضحکہ خیز قرار دیا ہے۔ وہ سوموار کیرات لبنانی ٹی وی پر خطاب کر رہے تھے۔ سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ حزب اللہ لبنان، کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال میں دین اور شریعت کی پابند ہے، شام کے کیمیاوئی ہتھیاروں کی لبنان منتقلی کا دعویٰ خطرناک نتائج کا حامل ہے اور یہ بات، لبنان کے لئے خطرے کا باعثہے۔ انہوں نے حزب اللہ لبنان کی وائرلیس سروس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ لبنان کا وائرلیس سسٹم دوسرے افراد کی گفتگو سننے کے لئے استعمال نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے شام پر حملہ کے خطرناک نتائج کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ شام پر حملے سے سب سے پہلے متاثر ہونے والا ملک لبنان ہوگا۔ حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھاکہ شام میں تکفیری گروہوں کی موجودگی، لبنانی عوام، دیگر ممالک اور ملتوں کے لئے خطرے کا باعث ہے اور اس خطے کے بعض دوست ممالک نے دو سال قبل ہی انقرہ کو شام میں موجود مسلح دہشتگردوں کی جانب سے لاحق خطرات کے بارے میں آگاہ کر دیا تھا۔ انہوں نے سعودی عرب اور ترکی کی حکومتوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ شام کے بارے میں اپنے موقف پر نظرثانی کریں۔ لبنان کے داخلی مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے لبنانی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ لبنانی عوام ملک میں امن و سلامتی کی خاطر لبنان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔ انہوں نے لبنان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سلسلے میں اس امید کا اظہار کیا کہ وہ اپنے اصلی فریضے پر عمل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ حزب اللہ لبنان اس بات کے خلاف ہے کہ کوئی بھی گروہ یا قبیلہ، خود ٹیم بنا کر اپنے علاقے کی حفاطت کرے کیونکہ لبنانی عوام کی حفاظت، حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیروت کے علاقے الرویس میں ہونے والے دھماکے، شام میں موجود مسلح دہشتگردوں کی سازش کا نتیجہ تھے۔ انہوں نے کہا کہ دھماکوں کے بعد حزب اللہ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے کہا کہ وہ علاقے کی صورتحال پر قابو پانے کے لئے اقدامات کریں، لیکن چند سیاسی گروہوں نے حزب اللہ کے اس اقدام کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ سید حسن نصراللہ نے بیروت کے نزدیک ہونے والے دھماکوں کے بعد علاقے میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے پر لبنانی فوج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور فلسطینی گروہوں کا شکریہ بھی ادا کیا۔