اسلام ٹائمز 7 Sep 2019 گھنٹہ 19:08 https://www.islamtimes.org/ur/news/815055/یمن-ہر-2-گھنٹوں-میں-ایک-یمنی-خاتون-دم-توڑ-دیتی-ہے-اقوام-متحدہ -------------------------------------------------- ٹائٹل : یمن، ہر 2 گھنٹوں میں ایک یمنی خاتون دم توڑ دیتی ہے، اقوام متحدہ -------------------------------------------------- یو این او نے اپنی رپورٹ میں یمن پر جارح ملک سعودی عرب کیطرف سے مسلط کردہ خوفناک جنگ کے باعث بہت سے ہسپتالوں کے تباہ، ناقابل استعمال یا بند ہو جانے کی وجہ سے 10 لاکھ سے زائد طبی امداد کی منتظر یمنی خواتین کی زندگی کو لاحق شدید خطرات سے پردہ ہٹایا ہے۔ متن : اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ نے اعلان کیا ہے کہ یمن میں جارح ملک سعودی عرب کیطرف سے مسلط کردہ خوفناک جنگ کے باعث ہر 2 گھنٹوں میں 1 یمنی خاتون جانبحق ہو جاتی ہے۔ بین الاقوامی عرب اخبار "روسیا الیوم" کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ یمن پر سعودی عرب کیطرف سے مسلط کردہ جنگ کی وجہ سے کم از کم 100 سے زائد ہسپتال تباہ یا بند ہوچکے ہیں جبکہ ایک اندازے کے مطابق اگر حالات اسی ڈگر پر چلتے رہے تو جاری ماہ ستمبر کے اواخر تک 75 دوسرے ہسپتال بھی مالی مشکلات یا مسلط کردہ جنگ کا لقمہ بن کر بند ہو جائیں گے۔ اقوام متحدہ کی اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ "اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ" کے تحت چلنے والے ہسپتالوں کے بند ہو جانے سے 10 لاکھ سے زائد یمنی خواتین متاثر ہوں گی جبکہ یمنی ہسپتالوں کے بند ہونے کی موجودہ شرح سے طبی امداد کی منتظر تقریبا 6 لاکھ 50 ہزار یمنی خواتین متاثر ہو رہی ہیں۔ یو این او پاپولیشن فنڈ کی مینیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر ناتالیا کانیم نے اس بارے میں وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ 10 لاکھ سے زائد یمنی خواتین کو طبی حوالے سے مالی معاونت کی شدید ضرورت ہے، تاکہ زچہ و بچہ طبی مراکز جو ان کی جان بچا سکتے ہیں، تک ان کی دسترسی باقی رہ سکے۔ ڈاکٹر ناتالیا کانیم نے کہا کہ یمن میں ہر 2 گھنٹوں کے دوران حمل اور وضع حمل کی مشکلات کی وجہ سے 1 خاتون اپنی جان کھو بیٹھتی ہیں۔ یو این او پاپولیشن فنڈ کی رپورٹ کے مطابق جاری سال کے ماہ فروری میں ہونیوالی ڈونرز کانفرنس کے دوران 2 بلین 600 ملین ڈالرز کو یمن میں انسانی حقوق سے متعلق کاموں کی انجام دہی کیلئے مختص کیا گیا تھا جبکہ اقوام متحدہ کے شراکت داروں اور انسانی حقوق کے کارکنان کو تاحال اس رقم کا آدھا حصہ وصول ہوا ہے۔ علاوہ ازیں جاری سال میں یمنی ہسپتالوں کی مالی امداد کی خاطر 110 ملین ڈالرز کی ضرورت تھی جبکہ اس مد میں صرف 33 ملین ڈالرز وصول ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے ضرورت کی دواؤں اور طبی سازوسامان کی خریداری کا سلسلہ رُک گیا ہے۔