اسلام ٹائمز 12 Feb 2020 گھنٹہ 16:33 https://www.islamtimes.org/ur/article/844143/امریکی-اعتراف-کی-اگلی-قسط -------------------------------------------------- ٹائٹل : امریکی اعتراف کی اگلی قسط -------------------------------------------------- اسلام ٹائمز: عراق میں امریکی بیس عین الاسد پر داغے گئے ایرانی میزائلوں کے بعد امریکی صدر نے کہا تھا کہ وہاں "سب ٹھیک" ہے۔ بعد میں اعتراف کی پہلی قسط یوں جاری ہوئی اور پینٹا گون نے اعتراف کیا کہ ایرانی میزائل حملوں میں 11 فوجیوں کو دماغی چوٹ لگی ہے، پھر یہ تعداد 19 ہوگئی۔ جب سرکاری سطح پر یہ اعتراف کیا گیا تو امریکی روایت پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار بھانپ گئے تھے کہ نقصان اس سے زیادہ ہوا ہے، جو تسلیم کیا جا رہا ہے۔ اس کیوجہ بھی ظاہر ہے کہ امریکہ نے حملے کے کافی دنوں بعد اعتراف کیا تھا کہ اسکے 34 فوجیوں کو دماغی چوٹیں آئی ہیں، پھر یہ تعداد بڑھ کر 64 ہوگئی۔ 8 جنوری کو عراق میں عین الاسد ایئر بیس پر ایرانی حملے سے متاثر ہونیوالے فوجیوں کے حوالے سے پینٹاگون نے اپنے نقصان کے اعتراف کی اگلی قسط بھی جاری کر دی ہے، جسکے مطابق ایرانی بیلسٹک میزائل حملوں میں زخمی ہونیوالے امریکی فوجیوں کی تعداد 109 ہے۔ متن : تحریر: طاہر یاسین طاہر مادی و ایمانی طاقتوں کا ٹکرائو تاریخ انسانیت کا معلوم باب ہے۔ اس باب کا نتیجہ بھی معلوم ہے۔ یہی کہ ہمیشہ ایمانی طاقت کو فتح کا عَلم نصیب ہوا۔ جھوٹ کے پائوں نہیں ہوتے، سچ ہمیشہ سربلند ہوتا ہے۔ بدر و حنین سے کربلا تک اور پھر کربلا سے صبح ِقیامت تک ایمانی طاقت کا جھنڈا ہی سربلند رہے گا۔ اللہ کو یہی پسند ہے، یہی مشیت ِالٰہی ہے۔ دلیل کو بھی جو نہ مانے اس کی بات دوسری ہے، ایسے افراد کا فکری شجرہ ابو جہل سے ملتا ہے، جو آشکار چیزوں کو ماننے سے انکار اس لیے کر دیتے ہیں کہ ان کا زعم تکبر، ان کی انا، انہیں ایسا کرنے سے روکتی ہے۔ امریکہ مادی حوالے سے دنیا کی سب سے بڑی طاقت ہے، جدید سائنسی علوم کی بنیاد پر امریکہ نے اپنے مشرقی و مغربی حواریوں کے ہمراہ دنیا کو "آگے لگانے" کی ٹھانی ہوئی ہے۔ لیکن اسے کہیں کہیں ٹھوکریں بھی کھانا پڑ رہی ہیں۔ اپنے ابلاغی ذرائع کی مدد سے مختلف ممالک کے خلاف منفی پروپیگنڈا بھی امریکی حملوں میں سے ایک ہے۔ اسرائیل کی حمایت، فلسطین کے لیے ظالمانہ ڈرافٹ کیا گیا "صدی کا امن منصوبہ"، طاقت کے اظہار کی شیطانی جھلک ہے۔ ہمیں یہ تسلیم کرنے میں تکلف نہیں کرنا چاہیئے کہ امریکہ طاقت اور سفارت دونوں کو بروئے کار لاتا ہے۔ جہاں سفارت کاری کے عالمی آداب امریکی مفادات کا تحفظ نہیں کر پاتے، وہاں امریکہ دھمکی کی زبان میں بات کرتا ہے اور دھمکی سے کام نہ چلے تو حملہ بھی کر دیتا ہے، جیسا کہ امریکہ نے عراق پر کیا تھا۔ افغانستان پر حملے کی وجوہات عراق پر ہونے والے امریکی حملے سے مختلف ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہیئے کہ جنگوں کے بھی "مقاصد" ہوتے ہیں۔ کبھی یہ انسانی حقوق کے نام پر لڑی جاتی ہیں تو کبھی وسائل پر قبضہ کرنے کے لیے۔ ایک کالم جنگوں کے "مقاصد" اور جنگوں کی تحریک بننے والے عوامل کا احاطہ نہیں کرسکتا۔ تاریخ کی گہری اور دور وادیوں میں جھانکنے کے لیے دقیق مطالعہ، گہرا تفکر اور اس سے عادلانہ نتیجہ اخذ کرنے کے لیے ایک عمر درکار ہوتی ہے۔ امریکہ کے لیے یہ بات بڑی دردناک اور تکلیف دہ ہوتی ہے کہ اس کی عسکری، تہذیبی اور معاشی طاقت کو کہیں بھی چیلنج کیا جائے۔ کہا جاتا ہے کہ افغان و عراق جنگ میں امریکی و اتحادی فوجیوں کے جانی نقصان کو امریکہ اور اس کے اتحادی چھپاتے ہیں۔ یعنی مرنے والوں کی اصل تعداد یک بیک ظاہر نہیں کرتے کہ اس سے امریکی و اتحادی فوجیوں کے خاندان، سول سوسائٹی کی مدد سے جنگ مخالف مظاہروں کے لیے نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ افغانستان و عراق میں زیادہ جانی نقصان کس کا ہوا؟ اس حوالے سے بھی ہمیں کسی "فکری و جہادی" مغالطے کا شکار نہیں ہونا چاہیئے۔ بے شک ہر دو جگہ کلمہ گو مسلمانوں کا جانی و مالی نقصان زیادہ ہوا۔ شام اور یمن اس آگ میں جھلس رہے ہیں اور لیبیا الگ سے مشقِ ستم بنا ہوا ہے۔ امریکی قیادت اوبامہ کے دور سے یہ تکرار کر رہی ہے کہ امریکہ افغانستان سے اپنے فوجیوں کو نکال لے جائے گا، حالیہ دنوں میں افغان طالبان سے "امن مذاکرات" کا دور دورہ بھی چل رہا ہے۔ جس پر اس اخبار نویس نے لکھا تھا کہ ابھی امن مذاکرات کی میز کے گرد کرسیاں ہی سیدھی ہو رہی ہوں گی کہ کوئی ایسا واقعہ رونما ہو جائے گا، جسے بہانہ بنا کر امریکہ افغان طالبان سے امن مذاکرات سے پہلو تہی کر لے گا۔ پھر یہ خبر گرم ہوئی کہ افغان طالبان نے پرتشدد کارروائیوں میں کمی لانے کا عندیہ دے دیا ہے۔ مگر اس عندیہ کے بعد امریکی فوجی ہیلی کاپٹر کو افغان طالبان کی جانب سے مار گرانے کا دعویٰ سامنے آیا اور اب کابل میں ملٹری اکیڈمی کے قریب خودکش حملے میں 6 افراد ہلاک اور 12 زخمی ہوگئے۔ اس واقعہ کے حوالے سے افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ کا کہنا ہے کہ "یہ کام ہمارا" نہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کسی نے تو یہ حملہ کیا ہے، جو خودکش راستے کو جنت کا راستہ مانتا ہے؟ یعنی جانی نقصان کا سلسلہ جاری ہے۔ کالم کی مہار کو موڑتے ہوئے ہم اس امریکی رویئے کی طرف آتے ہیں جسے عنوان بنایا گیا ہے۔ جنوری کی تین تاریخ کو امریکہ نے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو بغداد ایئر پورٹ پر اس وقت نشانہ بنایا، جب جنرل قاسم سلیمانی عراقی حکومت کی دعوت پر بغداد پہنچے تھے اور ان کا استقبال کرنے کے لیے جنرل ابو مہدی مہندس ایئر پورٹ پر آئے ہوئے تھے۔ امریکہ نے دونوں کو شہید کر دیا۔ اس پر عراق میں بڑے پیمانے پر امریکہ مخالف مظاہرے شروع ہوگئے ہیں اور امریکہ سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ عراق سے فوری طور پر نکل جائے۔ ایران نے جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت پر سخت ردعمل کا اظہار کیا اور بدلہ لینے کا عہد کیا۔ اس عہد کا اظہار یوں بھی ہوا کہ مسجدِ جمکران پر سرخ پرچم لہرا دیا گیا۔ جس وقت جنرل قاسم سلیمانی کو عراق و ایران میں ان کے لاکھوں مداح گریہ و زاری اور عزم و ہمت کے نئے پیمان کے ساتھ الوداع کر رہے تھے، تو اس وقت امریکیوں نے کسی ذریعہ سے ایران سے کہا کہ آپ اتنا بدلہ لیں، جتنا آپ کا نقصان ہوا۔ ایران نے البتہ اپنے مقبول ترین جنرل کو لحد میں اتارنے سے قبل امریکی اہداف کو نشانے پر لیا اور 80 سے زائد امریکیوں کو مارنے کا دعویٰ کیا تھا۔ عراق میں امریکی بیس عین الاسد پر داغے گئے ایرانی میزائلوں کے بعد امریکی صدر نے کہا تھا کہ وہاں "سب ٹھیک" ہے۔ بعد میں اعتراف کی پہلی قسط یوں جاری ہوئی اور پینٹا گون نے اعتراف کیا کہ ایرانی میزائل حملوں میں 11 فوجیوں کو دماغی چوٹ لگی ہے، پھر یہ تعداد 19 ہوگئی۔ جب سرکاری سطح پر یہ اعتراف کیا گیا تو امریکی روایت پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار بھانپ گئے تھے کہ نقصان اس سے زیادہ ہوا ہے، جو تسلیم کیا جا رہا ہے۔ اس کی وجہ بھی ظاہر ہے کہ امریکہ نے حملے کے کافی دنوں بعد اعتراف کیا تھا کہ اس کے 34 فوجیوں کو دماغی چوٹیں آئی ہیں، پھر یہ تعداد بڑھ کر 64 ہوگئی۔ 8 جنوری کو عراق میں عین الاسد ایئر بیس پر ایرانی حملے سے متاثر ہونے والے فوجیوں کے حوالے سے پینٹاگون نے اپنے نقصان کے اعتراف کی اگلی قسط بھی جاری کر دی ہے، جس کے مطابق ایرانی بیلسٹک میزائل حملوں میں زخمی ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد 109 ہے۔ ظاہر ہے کہ امریکی رویئے کا تجزیہ کیا جائے تو اس حوالے سے ممکن ہے کہ مزید قسطیں بھی جاری کی جائیں، جن میں مرنے والے امریکی فوجیوں کی تعداد کا بیان ہو۔ اگرچہ عالمی برادری کے متحرک کردار کی وجہ سے فوری طور پر ایران امریکہ جنگ کا خطرہ تو ٹل گیا ہے، لیکن جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کے بعد خطے کی عسکری، سیاسی و سفارتی فضا میں جو تبدیلی آئی ہے، اس کے اثرات بہت گہرے اور امریکی زعمِ تکبر کو تکلیف دینے والے ہیں۔ کیا امریکہ اپنے فوجیوں کا بدلہ ایران پر کوئی سرجیکل سٹرائیک کرکے لے گا؟ میرا نہیں خیال کہ امریکہ ایسی غلطی کرے گا۔ البتہ امریکہ، افغانستان، عراق، شام اور یمن میں اپنی جارحیت میں تیزی لائے گا، جس سے خطے کی فضا امن کے جھونکے کو برسوں ترستی رہے گی۔ ہمیں زمینی حقیقت کے اس پہلو کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیئے کہ ایران امریکہ تنائو سے عالمی سطح پر سیاسی، عسکری اور معاشی گروہ بندیوں کی نئی چالیں بھی چلی جا رہی ہیں، جبکہ عالمی برادری ایران پر سفارتی و معاشی دبائو بھی بڑھائے گی۔ یقیناً اس حوالے سے ایران نے بھی تو پیش بندی کی ہوئی ہے۔ یہ جنگ ابلاغ اور اعصاب کی جنگ بھی ہے۔ اس جنگ کے کئی پہلو ہیں اور ہر محاذ اپنی جگہ سخت ترین ہے۔