اسلام ٹائمز 8 Jul 2019 گھنٹہ 0:22 https://www.islamtimes.org/ur/interview/802248/قبلہ-اول-کیلئے-ہم-میدان-عمل-میں-موجود-ہیں-اور-رہینگے-مولانا-فضل-الرحمن -------------------------------------------------- تبدیلی کیخلاف جہاد کرنا ہے اور اس پہ آخری وار کرنا ہے ٹائٹل : قبلہ اول کیلئے ہم میدان عمل میں موجود ہیں اور موجود رہینگے، مولانا فضل الرحمن پاکستان کا جنرل ملک کا اتنا وفادار نہیں ہوسکتا جتنا میں ہوں -------------------------------------------------- جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے اسلام ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پوری امت مسلمہ اور ملت پاکستان بھی کئی عشروں سے اس سے دوچار ہے، اس احساس کے ساتھ کہ ہم اب ایک محفوظ امت اور محفوظ قوم نہیں رہے، ہماری اجتماعی زندگی گزر رہی ہے، ہم ملک کے وفادار ہیں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ پاکستان کا جنرل اتنا ملک کا وفادار نہیں ہوسکتا، جتنا میں اس ملک کا وفادار ہوں۔ پاکستان کے جرنیل نے ملک کو توڑا ہے، میں نے اس ملک کو بچانے کی جنگ لڑی ہے۔ پاکستان کے جرنیل نے آئین کو توڑا ہے، میں نے اس آئین کی بحالی کی جنگ لڑی ہے۔ متن : جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن 1953ء میں پیدا ہوئے، 1980ء میں جے یو آئی کے سیکرٹری جنرل بنے، 1988ء میں پہلی مرتبہ رکن قومی اسمبلی بنے، 2018ء تک رکن قومی اسمبلی رہے۔ 2018ء کے قومی انتخابات میں قومی اسمبلی کی نشست سے کامیاب نہیں ہوسکے، 2018ء ہی میں مسلم لیگ نون سمیت اپوزیشن کیطرف سے صدارتی امیدوار بنے۔ 2018ء ہی میں ایم ایم اے کے سربراہ بنے۔ انہوں نے سیاسی کیئریر میں مذہبی و سیاسی جماعتوں کے اتحاد بنانے میں اہم کردار ادا کیا، احتجاجی لانگ مارچ اور مظاہروں کی قیادت کی۔ تمام حکومتوں کیساتھ مفاہمانہ تعلق رکھا۔ 2018ء میں پی ٹی آئی کی حکومت کی تشکیل کے پہلے دن سے ہی سیاسی جوڑ توڑ میں مصروف ہیں اور حکومت کیخلاف احتجاج کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے،اسلام ٹائمزنے موجودہ ملکی و سیاسی صورتحال پہ انکے ساتھ جو گفتگو کی ہے، انٹرویو کیصورت قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔(ادارہ) اسلام ٹائمز: اپوزیشن جماعتوں نے اے پی سی کی تاریخ آگے بڑھانے کی تجویز دی تھی، آپ نے اس سے اتفاق کیوں نہیں کیا۔؟ مولانا فضل الرحمن: اپوزیشن جماعتوں کی جانب یہ کوئی شرط نہیں تھی۔ دیگر تجاویز کی طرح یہ بھی ایک تجویز تھی۔ اگر اے پی سی کی تاریخ تبدیل کرتے تو عوام تک اس کا منفی پیغام جانا تھا۔ ویسے بھی وجہ بجٹ اجلاس کی تھی تو یہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں تھا کہ جسے ہینڈل نہیں کیا جاسکتا تھا۔ اسلام ٹائمز: حکومت گرانے سے کیا جمہوری عمل کو نقصان نہیں پہنچے گا۔؟ مولانا فضل الرحمن: حکومت جمہوریت کو نقصان پہنچا کر ہی تو عمل میں آئی ہے۔ تو اس حکومت کے جانے سے جمہوریت کو نقصان نہیں پہنچے گا۔ اس وقت ہماری جنگ ملک کو بچانے کی جنگ ہے۔ موجودہ معاشی پالیسیاں پاکستان کو ختم کرنے کا سبب بن سکتی ہیں۔ ضروری ہے کہ ایسے نااہل حکمرانوں سے ملک کو نجات دلائی جائے۔ نیشنل ایکشن پلان کی جگہ ایک نیشنل اکنامک پلان کی منصوبہ بندی کی جائے۔ موجودہ حکمرانوں کے پاس جعلی اکثریت ہے۔ ہم اس جعلی اکثریت کی بنیاد پہ اس کے حق حکمرانی کو تسلیم نہیں کرسکتے۔ جمعیت علماء اسلام پورے ملک میں ملین مارچ کا سلسلہ جاری رکھے گی۔ اسلام آباد کو لاک ڈاؤن کرنے کیلئے حکمت عملی مرتب کرنے کیلئے کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ اسلام ٹائمز: آپ نے حکومت کو بھی مسترد کر دیا ہے اور بجٹ کو بھی، ایسی صورت میں ملکی نظام کیسے چلے گا۔؟ مولانا فضل الرحمن: عام انتخابات کے بعد سبھی نے اس بات کو تسلیم کیا کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے۔ جب یہ واضح ہوچکا تھا کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے تو ہونا یہ چاہیئے تھا کہ اسے کلی طور پر مسترد کیا جاتا۔ غلطی یہ ہوئی کہ اس نظام کو اس عمل کو مسترد بھی کیا اور اس کے ساتھ چلے بھی۔ نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔ نااہل حکمرانوں نے ظالمانہ بجٹ کے ذریعے عوام کی کمر توڑ دی ہے۔ موجودہ بجٹ پاکستان کی معیشت تباہ کرنے کا ذریعہ ہے۔ جس کی وجہ سے ہم اسے مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔ موجودہ حکومت کی جو پالیسیاں ہیں، وہ پاکستان کو ختم کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔ اس وقت ہماری جنگ حکومت سے زیادہ ملک کو بچانے کی جنگ ہے۔ حالات اس نہج تک پہنچ چکے ہیں کہ موجودہ حکمرانوں سے ملک کو نجات دلانی لازم ہے۔ دھاندلی اور جعلی اکثریت کی بنیاد پہ یہ حکمران مسلط کئے گئے ہیں۔ ہم ان جعلی اکثریت رکھنے والوں کے حق حکمرانی کو تسلیم نہیں کرتے۔ یہ حقیقت ہے کہ اگر یہ بجٹ انہی ٹیکسز کے ساتھ اگر لاگو ہوتا ہے تو میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ آپ اپنے گھروں کے جولائی اور اگست کے بل ادا نہیں کرسکیں گے۔ لوگ اپنی ضروریات کیلئے راشن نہیں خرید سکیں گے۔ اسلام ٹائمز: الیکشن میں دھاندلی ہوئی تھی تو اس کیخلاف تحریک کا خیال تاخیر سے کیوں آیا۔؟ مولانا فضل الرحمن: الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے، بدترین دھاندلی ہوئی۔ الیکشن کمیشن شفاف الیکشن کروانے میں ناکام ہوا ہے۔ الیکشن کمیشن کو مستعفی ہو جانا چاہیئے۔ دوبارہ الیکشن ہونے چاہیئں اور ایک اتحاد وجود میں آیا اور اس اتحاد کا نام تھا الائنس فار دی فری اینڈ فئیر الیکشن۔ اب یہ بیانیہ طے تھا۔ ہم نے پبلک کے جذبات میں اس کو جگہ دینی ہے، تاکہ عام آدمی کا دل و دماغ اس کو قبول کرے اور رچ بس جائے اور اس کی بنیاد پر تحریک کو آگے لے جانا تھا، لیکن میں نے کہا کہ اب اس کا تقاضا یہ ہے کہ ہم حکومت سازی کے عمل میں شریک مت ہوں اور حکومت سازی کے عمل میں شریک نہ ہونے کا آغاز یہاں سے کیا جائے کہ اسمبلیوں کا حلف نہ اٹھایا جائے، لیکن جب ہم نے اسمبلیوں کا حلف اٹھا لیا۔ ہم حکومت سازی کے عمل میں شریک ہوگئے تو ہم نے جو بیانیہ طے کیا تھا، وہ عام آدمی کے دماغ سے محو ہوگیا۔ ہم نے اس کی بنیاد پر سفر نہیں کیا۔ ہم نے اس بنیاد پر قوم کو منظم نہیں کیا۔ ہم نے وزیراعظم کے الیکشن میں اختلاف کیا۔ ہم نے ملک کے صدارتی الیکشن میں اختلاف کیا۔ حزب اختلاف کو تقسیم کرنے کا ہم سبب بنے۔ آج ہم ایک نئے بیانیے کے منتظر ہیں۔ اسلام ٹائمز: ایک طرف حکومت کو تسلیم نہیں کر رہے اور دوسری جانب اکنامک پلان کی بات بھی کی ہے آپ نے۔؟ مولانا فضل الرحمن: معیشت گر جائے تو ملک گر جاتے ہیں۔ ملک کو اکنامک پلان کی ضرورت ہے اور یہ بات میں حکومت سے نہیں بلکہ ریاست سے کر رہا ہوں۔ حکومت جعلی اور فراڈی ہے۔ حکومت ملکی معیشت کو تباہ کرنے کی ذمہ دار ہے۔ منصفانہ انتخابات ہی ملک میں بہتری لا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز: فاٹا میں ضمنی انتخابات ہونے جا رہے ہیں ، آپ ان انتخابات میں اپنی عوامی قوت کا اظہار تو کرسکتے ہیں۔؟ مولانا فضل الرحمن: فاٹا کے اندر الیکشن کے ذریعے یہ باور کرایا گیا ہے کہ ووٹ فوجی کے سامنے ڈالا جائے اور بکسے کا مالک فوجی ہوگا۔ فوجی کی نگرانی میں ووٹ ڈالا جائے گا اور اسی کی نگرانی میں ہی گنا جائے گا۔ ایسے الیکشن کو کون منصفانہ انتخاب قرار دے سکتا ہے۔ میرے نزدیک الیکشن کمیشن مکمل طور پر ناکام ہوچکا ہے۔ الیکشن کمیشن کو مستعفی ہونا چاہیئے۔ اسے مزید انتخابی ذمہ داریاں نہیں دی جا سکتیں۔ ہماری اپنی کوتاہیاں یہ ہیں کہ ہم نے اس نظام کو مسترد بھی کیا اور اس نظام کے ساتھ چلے بھی۔ اسلام ٹائمز: ایک جمہوری عمل کے نتیجے میں یہ بھی حکومت برسر اقتدار آئی ہے۔ کیا اسے اپنی مدت پوری نہیں کرنی چاہیئے۔؟ مولانافضل الرحمن:حالات کا تقاضہ یہی ہے کہ ناجائز اور جعلی حکومتوں کو مزید برداشت نہ کیا جائے۔ یہ ناجائز، جعلی اور خلائی حکومتیں مزید برداشت نہیں کی جاسکتیں۔ یہ حکومتیں ملک کو غلامی کی طرف دھکیلنے کا سبب تو ہوسکتی ہیں۔ یہ ہماری خوشحالی کا سبب نہیں ہوسکتیں۔ رہی سہی آزادی کو دوبارہ غلامی میں تبدیل کرنا، کیا اس کا نام ہے تبدیلی؟ اگر رہی سہی، ایک غریب آدمی کے گھر میں کچھ کھانے کو کچھ پونجی بچی ہوئی ہے۔ اس کو مہیا ہے، آج وہ اس سے چھین لینا اس کو ہم تبدیلی کا نام دے رہے ہیں۔ کس چیز کی تبدیلی؟ اگر ہمارے گھروں میں اور ہمارے محلوں میں کوئی حیا رہ گئی تھی، جوانوں میں حیا رہ گئی تھی۔ آج ہماری ماؤں بہنوں کے سروں سے حیا کا دوپٹہ نوچ لینا اور نوجوانوں کو آوارہ گردی کا راستہ دکھا دینا، کیا اس کا نام ہے تبدیلی؟ ہم اس تبدیلی کو مسترد کرتے ہیں، ہم اس تبدیلی پر لعنت بھیجتے ہیں۔ ہم اس تبدیلی کے خلاف جنگ لڑنا چاہتے ہیں، جہاد کرنا چاہتے ہیں۔ اب ہمیں وار کرنا ہے، اب آخری وار کرنا ہے اور میں ملک کے خیرخواہ کی حیثیت سے، اس سرزمین وطن کے ایک رضاکار سپاہی کی حیثیت سے یہ بات پوری ذمہ داری کے ساتھ کہہ رہا ہوں۔ اسلام ٹائمز: یہ جنگ، جہاد اور آخری وار آپ کس کیخلاف کرنے جا رہے ہیں۔؟ مولانا فضل الرحمن: ہمارے گردوپیش میں خطرات کے اور خوف کے مہیب سائے بھی منڈلاتے رہتے ہیں۔ پوری امت مسلمہ بھی اس سے دوچار ہے اور ملت پاکستان بھی کئی عشروں سے اس سے دوچار ہے۔ اس احساس کے ساتھ کہ ہم اب ایک محفوظ امت نہیں رہے۔ اس احساس کے ساتھ کہ ہم اب ایک محفوظ قوم نہیں رہے۔ ہماری اجتماعی زندگی گزر رہی ہے۔ اس میں کیسے تبدیلیاں لانی ہیں، ظاہر ہے کہ اس لئے ہمیں اپنی قومی زندگی کے خطوط کو ازسرنو استوار کرنا ہوگا۔ ہم ملک کے وفادار ہیں، خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ پاکستان کا جنرل اتنا ملک کا وفادار نہیں ہوسکتا، جتنا میں اس ملک کا وفادار ہوں۔ پاکستان کے جرنیل نے ملک کو توڑا ہے، میں نے اس ملک کو بچانے کی جنگ لڑی ہے۔ پاکستان کے جرنیل نے آئین کو توڑا ہے، میں نے اس آئین کی بحالی کی جنگ لڑی ہے۔ پاکستان کی وفاداری میں ہم ان سے دو قدم آگے ہوسکتے ہیں، پیچھے نہیں ہوسکتے۔ لہذا ہم جنگ نہیں چاہتے، ہم ایک پیج پر آنا چاہتے ہیں، ہم آج بھی دعوت دیتے ہیں کہ متنازعہ اقتدار کو ملک سے ختم کرو، متنازعہ الیکشن کو ختم کرو۔ یہ کوئی الیکشن نہیں ہے، جو قوم پر مسلط کئے گئے۔ اسلام ٹائمز: کیا آپ ان قربانیوں سے انکاری ہیں کہ جو دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پیش کی گئی ہیں۔؟ مولانا فضل الرحمن: میں پہلے بھی متعدد بار یہ کہہ چکا ہوں کہ دہشت گردی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کا بیانیہ اب بوسیدہ اور فرسودہ ہوچکا ہے۔ ریاست کو حقائق پر مبنی نئی پالیسی ترتیب دینی ہوگی۔ ملک اور اس ملک کے عوام کے ساتھ جتنی زیادتی ہونی تھی، ہو چکی۔ امریکہ ہماری اس امت مسلمہ کو دہشت گردی کے نام پر اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر بلیک میل کرتا رہے گا اور پوری اسلامی دنیا میں اپنی دفاعی اور عسکری موجودگی کے جواز کے لئے دہشتگردی کا بیانیہ پیش کرتا رہے گا۔ کب تک ہمارے ملک کی اسٹیبلشمنٹ اور کب تک ہماری ریاست اپنی قوم کو بلیک میل کرنے کے لئے اور ملک کے چپے چپے پر اپنی موجودگی کو مضبوط و مستحکم بنانے کے لئے دہشتگردی کا راگ الاپا جائے گا۔ میں آج بھی اسی بات پہ قائم ہوں کہ جو آج سے دس سال پہلے کی تھی۔ پوری دنیا میں دہشتگردی کو ایجاد کرنا، اسے فروغ دینا، اس کے اسباب پیدا کرنا، مسلمانوں میں تفریق اور مسلمانوں کے مابین آپسی اشتعال، یہ امریکہ کی بنیادی پالیسی رہی ہے اور افسوس کے ساتھ کہ ہماری ریاست کی سوچ اس سے مختلف نہیں ہے۔ ہم عالمی سطح پہ جاری اس کھیل میں ملوث ہیں، اس کھیل کو اپنے ملک پہ مسلط کرنے میں شریک ہیں۔ یہ عالمی گھناؤنا کھیل کسی اور کے ذریعے نہیں بلکہ ہماری اسٹیبلشمنٹ کے ذریعے مسلط کیا جاتا ہے۔ آخر ہم کب تک ان حقائق کو جھٹلاتے رہیں گے۔ حقائق سے نظریں چراتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز: کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ اگر علماء کماحقہ اپنے فرائض انجام دیتے تو آج اتنا انتشار، تفریق، منافرت نہ ہوتی۔؟ مولانا فضل الرحمن: نہ تو نظریہ پاکستان کو جھٹلایا جاسکتا ہے اور نہ ہی جس نظریئے کے تحت عوام نے قربانیاں دیں، ان سے انکار ممکن ہے اور نہ ہی کسی طور پاکستان میں مختلف مکاتب فکر کی موجودگی سے انکار کیا جا سکتا ہے۔ علماء نے اپنی ذمہ داریاں ادا کی ہیں۔ ہمارے اکابر نے ہمیشہ ہم آہنگی کیلئے کام کیا ہے۔ آپ پاکستان کی تاریخ تو ذرا اٹھا کر دیکھ لیں۔ قرارداد مقاصد سے لیکر آج تک تمام مکاتب فکر آپ کو متفق دکھائی دیں گے۔ قرارداد مقاصد پہ متفق تھے۔ آئین پہ متفق تھے۔ آئین کی اسلامی حیثیت پہ پہلے بھی متفق تھے اور آج بھی متفق ہیں۔ قوانین سازی میں اسلامی سفارشات کیلئے اسلامی نظریاتی کونسل میں تمام مکاتب فکر کی نمائندگی شامل ہے اور کونسل کے اندر اور باہر ان تمام مکاتب میں ہمیشہ اتفاق رہا ہے۔ پاکستان کی مذہبی اور مذہبی سیاسی قیادت نے مذہبی یکجہتی کیلئے کام کیا ہے۔ مگر اس کے باوجود فرقہ واریت پیدا ہوتی ہے۔ فرقہ وارانہ تصادم کرانے کی کوشش ہوتی ہے۔ میری یہ بات یاد رکھیں فرقہ واریت کسی مکتب کے علماء یا مذہبی حلقوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ فرقہ واریت نہ پہلے مذہبی حلقوں کی ضرورت تھی اور نہ ہی آج ضرورت ہے۔ البتہ فرقہ واریت کی ضرورت جب بھی ہوئی ہے تو اس ملک کے حکمرانوں کو ہوئی ہے۔ اس ملک کے اداروں کو ہوئی ہے۔ جب انہیں ضرورت ہوتی ہے، لڑا دیتے ہیں۔ جب ضرورت محسوس کرتے ہیں، اس ماحول کو ختم کرتے ہیں۔ ہم ایسے دور میں داخل ہوچکے ہیں کہ ہماری نظریاتی شناخت خطرے میں پڑ چکی ہے۔ ختم نبوت کے قانون کو خطرہ ہے۔ آج اسرائیل کو تسلیم کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ اسلام ٹائمز: اسرائیل کو تسلیم کرنیکی کوششوں سے آپکی کیا مراد ہے۔؟ مولانا فضل الرحمن: میں نے پہلے بھی کہا تھا اور آج بھی کہتا ہوں کہ یہ حکومت آئی نہیں بلکہ اسے لایا گیا ہے اور جو حکمران ہم پہ مسلط کیا گیا ہے، اس کے بھی اپنے مقاصد ہیں۔ جب آپ کسی کو لاتے ہیں تو پھر اس سے کام بھی لیتے ہیں۔ آج وہی کام لینے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ نام ریاست مدینہ کا لیکر ہر کام اس کے خلاف کیا جا رہا ہے اور آج میثاق مدینہ کے نام پہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔ دلیل یہ پیش کی جا رہی ہے کہ جب پیغمبر اکرم نے دوران نماز ہی قبلہ رخ تبدیل کر لیا تو یہ دلیل ہے کہ اب قبلہ (بیت اللہ) ہے۔ یہ تقسیم اللہ نے خود ہی کر دی ہے کہ مسجد اقصٰی یہودیوں کیلئے اور بیت اللہ مسلمانوں کیلئے۔ کیا حضرت عمر نے یہی مسجد اقصیٰ، قبلہ اول واپس نہیں لی، کیا وہ نہیں جانتے تھے۔ کیا صلاح الدین ایوبی اس تقسیم سے لاعلم تھا اور عمران خان کو اس کا زیادہ پتہ ہے۔؟ قبلہ اول کیلئے ہم میدان عمل میں موجود ہیں اور موجود رہیں گے۔ ہم نے میدان چھوڑا نہیں ہے۔ اسرائیل کو تسلیم کرنا، فلسطینیوں کی زمین پہ صہیونیوں کے حق کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے اور میں یہ بھی بتا دوں کہ اگر فلسطین پہ صہیونیوں کے قبضے کو تسلیم کیا گیا تو کشمیر پہ بھارتی قبضے کے خلاف آپ کا دعویٰ کمزور ہو جائے گا۔ حکومت کا ایجنڈا یہ بھی ہے کہ کشمیر سے دستبردار ہوا جائے۔ آج کسی کو کشمیر کمیٹی کے چیئرمین کا پتہ ہے۔ حکمرانوں کی دلچسپی کشمیر حاصل کرنے کے بجائے اسرائیل کو تسلیم کرنے میں ہے۔ یاد رکھیں کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی صورت میں کشمیر پہ ہمارا موقف اور دعویٰ بالکل کمزور ہو کر رہ جائے گا۔