اسلام ٹائمز 5 May 2021 گھنٹہ 5:05 https://www.islamtimes.org/ur/video/930804/مزار-قائد-پر-28-دنوں-کا-دھرنا-کیا-حاصل-ہوا-علامہ-احمد-اقبال-رضوی-اہم-ویڈیو-بیان -------------------------------------------------- منفی پروپیگنڈے کرنیوالے افراد احساس ذمہ داری کریں ٹائٹل : مزار قائد پر 28 دنوں کا دھرنا، کیا حاصل ہوا؟ علامہ احمد اقبال رضوی کا اہم ویڈیو بیان ہم مسلسل اپنے حقوق کیلئے آواز بلند کرتے رہیں گے -------------------------------------------------- اسلام ٹائمز: اپنے ویڈیو بیان میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی فار شیعہ مسنگ پرسنز کے رہنماء نے کہا کہ الحمدللہ اب بازیابی کا عمل بھی دوبارہ شروع ہوگیا ہے، کچھ افراد دھرنا ختم کرنے کی پریس کانفرنس سے قبل ہی بازیاب ہوگئے تھے، بعض افراد کا مطالبہ ہے کہ آپ نام بتائیں تو صرف اتنا کہنا چاہوں گا کہ سکیورٹی مسائل کی وجہ سے ہم ان جوانوں کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں، لہذا اگر کوئی نام جاننا چاہتا ہے تو خود لاپتہ افراد کے خانوادوں سے رابطہ کرسکتا ہے، دھرنے میں شریک خانوادے سب جانتے ہیں کہ اب تک کون آیا ہے اور کون ابھی باقی ہے۔ متن : رپورٹ: ایم رضا جوائنٹ ایکشن کمیٹی فار شیعہ مسنگ پرسنز کے رہنماء علامہ احمد اقبال رضوی نے شیعہ لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے اٹھائیس دنوں تک مزار قائد کے باہر جاری رہنے والے احتجاجی دھرنے کو کامیاب بنانے پر تمام شیعہ جماعتوں، اداروں، علماء، خطباء، نوحہ خواں، منقبت خواں حضرات، اہل سنت برادری اور سیاسی و مذہبی جماعتوں سمیت تمام طبقات کا شکریہ ادا کیا ہے کہ جنہوں نے لاپتہ افراد کے اہم مسئلے پر مسنگ پرسنز کے خانوادوں کے ساتھ اپنی آواز ملائی۔ اپنے ویڈیو بیان میں علامہ احمد اقبال رضوی کا کہنا ہے کہ اس ملک پاکستان میں بسنے والے تمام مسلمان اور غیر مسلم ہمارے ہیں، ان کا نقصان ہمارا نقصان ہے، بہت سے لوگ چاہے ہماری ملت میں ہوں یا باہر سے ہوں، شدت پسندی کو راہ حل سمجھتے ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ شدت پسندی کے ساتھ اپنے حقوق کو چھینا جائے، اس میں نادان دوست بھی ہیں اور دانا دشمن بھی۔ گذشتہ چالیس سال سے ملت جعفریہ پر ظلم و ستم جاری ہے لیکن ملت جعفریہ نے ہمیشہ امن کا دامن تھامے رکھا۔ علامہ احمد اقبال رضوی نے کہا کہ شیعہ قائدین چاہے علامہ ساجد نقوی ہوں یا علامہ راجہ ناصر عباس سب نے اس ملت کو امن کے راستے پر گامزن رکھا اور ہمیشہ عوامی جدوجہد کی تاکید کی۔ بیلنس پالیسی کے تحت ہمیں ظلم کا شکار بنایا گیا لیکن ہمارے قائدین نے کبھی ملت جعفریہ کو شدت پسندی پر نہیں ابھارا، یہ ملت جعفریہ کا طرہ امتیاز ہے، ہم بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح (رہ) کے بیٹے ہیں، اسی لئے ہم نے دھرنے کیلئے مزار قائد کا انتخاب کیا، ہم بانی پاکستان کے وفادار بیٹے ہیں، اپنے اجداد کے ساتھ کبھی خیانت نہیں کریں گے، ہماری جدوجہد آئینی ہے، عوامی ہے، قانونی ہے اور جمہوری ہے، لہذا شدت پسندی اور باغی افکار پھیلانے والے عناصر کو رد کرتے ہیں، ہمارے علماء رد کرتے ہیں، ہماری فقہ اس بات کی اجازت نہیں دیتی، ہماری شریعت اس بات کی اجازت نہیں دیتی، ہمارا اخلاق اس بات کی اجازت نہیں دیتا، ہمارا آئین اور قانون بھی اس بات کی اجازت نہیں دیتا، ہماری تمام جدوجہد آئینی، قانونی اور شرعی ہے۔ علامہ احمد اقبال رضوی کا کہنا تھا کہ مسنگ پرسنز کے ایشو کے حوالے سے ہم نے ہمیشہ کہا کہ ہماری تحریک آئین کی عملداری کی تحریک ہے، قانون کی عملداری کی تحریک ہے، ہم اس ملک میں آرٹیکل 10 پر عمل کرکے اس ملک کا استحکام چاہتے ہیں، یہاں شیعہ ملت یا دیگر اقوام کے افراد کو جو لاپتہ کرکے ان کے حقوق سلب کئے جا رہے ہیں ہم ان کی بازیابی چاہتے ہیں، ہماری کوئی جنگ ریاستی اداروں سے نہیں ہے، ہم صرف بعض اداروں کی زیادتیوں پر پرامن طریقے سے احتجاج کر رہے ہیں اور ان کا مداوا چاہتے ہیں، ہم کہتے ہیں کہ ہمارے لاپتہ عزاداروں کو بازیاب کیا جائے، انہیں عدالتوں میں پیش کیا جائے، اگر وہ مجرم ہیں تو انہیں سزا دینے کا حق عدالت کے پاس ہے، لیکن اگر وہ مجرم نہیں ہیں تو انہیں رہا کیا جائے، مسنگ پرسنز کی تحریک گذشتہ کئی سالوں سے جاری ہے، پہلے چھوٹے چھوٹے مظاہرے ہوتے تھے، پھر جیل بھرو تحریک کا سلسلہ شروع ہوا، اس میں بندہ حقیر اور علامہ حسن ظفر نقوی نے رضاکارانہ گرفتاری پیش کی، اس کے بعد صدر ہاؤس کراچی پر دھرنا دیا گیا، 13 دن اس میں ہم اپنی بھائیوں کے شانہ بشانہ تھے۔ علامہ احمد اقبال رضوی نے مزید کہا کہ اس کے بعد دو سال قبل جب مسنگ پرسنز کی فیملیز ہمارے پاس آئیں، ہم نے ان کا بھرپور ساتھ دیا اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی فار شیعہ مسنگ پرسنز بنائی، جس میں لاپتہ افراد کے خانوادوں کے نمائندے بھی شامل ہیں، باقی تمام ملی جماعتیں اس میں ہمارے ساتھ آن بورڈ ہیں، ہماری کوشش یہ تھی کہ ہم بات چیت اور پرامن انداز میں ان مظلوم مسنگ افراد کے مسئلے کو حل کریں اور ان مذاکرات کے نتیجے میں ان دو سالوں کے اندر 34 شیعہ عزادار جو لاپتہ تھے، پورے پاکستان سے الحمدللہ وہ بازیاب ہوئے، جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ باتوں سے کچھ نہیں ہوتا تو میں ان سے کہتا ہوں کہ ہم نے یہ کام کیا ہے، لہذا اگر یہ عمل انجام نہ دیا ہوتا اور ہمیں کامیابی حاصل نہ ہوتی تو یقیناً آپ کہنے میں حق بجانب ہوتے، لہذا جب ریاستی اداروں سے بات ہوتی ہے تو اعتماد کی فضاء پیدا کرنی پڑتی ہے، تاکہ حل کی جانب بڑھا جاسکے۔ علامہ احمد اقبال رضوی کا کہنا تھا کہ موجودہ دھرنے کے حوالے سے عرض کروں گا کہ جب کئی مہینوں تک بات چیت میں تعطل رہا اور بازیابی کا عمل رک گیا تو اس وقت ہم مسلسل تذکر دیتے رہے لیکن کوئی رسپانس نہیں آیا، تو پھر اس پر ہم نے ڈیڈلائن دی کہ اگر ہمارے لاپتہ عزادار بازیاب نہیں ہوتے اور یہ عمل دوبارہ شروع نہیں ہوتا تو ہم دو اپریل کو دھرنا دیں گے، بہرحال ہماری کوئی شنوائی نہیں ہوئی، اس کے بعد ہم نے مزار قائد کے جوار میں پرامن طریقے سے اپنے احتجاجی دھرنے کا آغاز کیا، اس دھرنے کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ جو مذاکرات کا عمل رُکا ہے، اسے دوبارہ سے شروع کیا جائے اور بازیابی کا عمل بھی دوبارہ شروع ہو، جس خوبصورت اور مہذب انداز سے شیعہ ثقافت کے تحت اس دھرنے کو کامیاب بنایا گیا ہے، وہ آنے والی نسل کیلئے ایک نمونہ عمل ہے۔ علامہ احمد اقبال رضوی نے مزید کہا کہ دھرنے دوران تلاوت قرآن، ذکر اہل بیت (ع) اور امام زمانہ (عج) کے وسیلے سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس دھرنے کے مقاصد میں کامیابی عطا فرمائی اور مذاکرات شروع ہوئے۔ مذاکرات کے آغاز کے بعد خانوادوں اور شیعہ جماعتوں کی مشاورت کے بعد احتجاجی دھرنے کو اٹھا دیا گیا، الحمدللہ اب بازیابی کا عمل بھی دوبارہ شروع ہوگیا ہے، کچھ افراد دھرنا ختم کرنے کی پریس کانفرنس سے قبل ہی بازیاب ہوگئے تھے، بعض افراد کا مطالبہ ہے کہ آپ نام بتائیں تو صرف اتنا کہنا چاہوں گا کہ سکیورٹی مسائل کی وجہ سے ہم ان جوانوں کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں، لہذا اگر کوئی نام جاننا چاہتا ہے تو خود لاپتہ افراد کے خانوادوں سے رابطہ کرسکتا ہے، خانوادے سب جانتے ہیں کہ اب تک کون آیا ہے اور کون ابھی باقی اور کون ابھی پائپ لائن میں ہے۔ میں امید کرتا ہوں ریاستی اداروں سے کہ وہ اپنے وعدوں پر عمل کریں گے اور جو اعتماد ملت جعفریہ نے آپ پر کیا ہے، اسے ٹھیس نہیں پنہچائیں گے۔ علامہ احمد اقبال رضوی نے کہا کہ میں سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈے کرنے والے افراد سے کہنا چاہتا ہوں کہ احساس ذمہ داری کریں، سنجیدگی سے کام لیں، یہ ملک ہمارا ہے، یہ ملت ہماری ہے، یہ مسنگ پرسنز ہمارے ہیں، میری ذات سے مسئلہ ہے تو مجھ سے شکوہ کریں، یہ مسنگ پرسنز کی مائیں جو پہلے ہی دل شکستہ ہیں، براہ کرم ان کی تکلیف میں اضافہ نہ کریں، لوگوں کو مایوس اور بدظن کرنا بہت بڑی زیادتی ہوتی ہے، پس ہماری جدوجہد جاری ہے، یہ دھرنا پہلا دھرنا نہیں ہے اور نہ ہی آخری ہے، ہم مسلسل اپنے حقوق کیلئے آواز بلند کرتے رہیں گے، جب تک ہمارا آخری عزادار واپس نہیں آجاتا ہماری یہ آئینی اور قانونی تحریک جاری رہے گی۔