اسلام ٹائمز 21 May 2020 گھنٹہ 13:52 https://www.islamtimes.org/ur/article/863945/قبلہ-اول-بیت-المقدس-کی-آزادی-منزل -------------------------------------------------- ٹائٹل : قبلہ اول بیت المقدس کی آزادی کی منزل -------------------------------------------------- اسلام ٹائمز: یہ بہت ہی حوصلہ افزا ہے کہ ایران پہلے ہی اسرائیل کو تباہ کرنے کیلئے اپنی ذمہ داریوں کو ادا کر رہا ہے، اس نے اپنے مجاہدین کا بدلہ لینے کیلئے اسکی نیندیں حرام کر رکھی ہیں، اسرائیل میں لوگ ایران کی دھمکیوں کے باعث تہہ خانوں میں سونے پر مجبور ہوتے ہیں، یہی خوف اور ڈر ہی ان کیلئے موت کا پیغام ہے اگر جنگ ہوگئی تو انکی عوام کا کیا حال ہوگا، جبکہ دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ اہل فلسطین، فلسطین کی کربلائی مائیں اپنے بچوں کو شہادت کیلئے تیار کرتی ہیں اور اپنے حق کی آواز کو دنیا تک پہنچانے کیلئے قربانیوں کی نئی تاریخ رقم کر رہی ہیں۔ ہم سلام پیش کرتے ہیں ان کربلائی جذبوں سے سرشار ماؤں کو جو گذشتہ ستر برس سے مسلسل اپنے جگر کے ٹکڑوں کو اس مقدس سرزمین کی آزادی کیلئے میدان میں بھیج رہی ہیں، انکی لہو رنگ لاشیں وصول کر رہی ہیں، اپنی عزتوں کو پائمال ہونے سے بچانے کیلئے اپنے فرزندوں کی تربیت کربلائی ماؤں کیطرح کرتی ہیں، اپنی آبائی زمینوں کو غاصبوں سے واپس لینے کیلئے گولیوں اور ٹینکوں سے ٹکرا جاتی ہیں۔ متن : تحریر: ارشاد حسین ناصر irshadhnasir@gmail.com ارض ِمقدس فلسطین جسے انبیاؑء کی سرزمین بھی کہا جاتا ہے، آج بھی ایک طرف آگ و خون کا منظر پیش کر رہی ہے تو دوسری طرف یہ مقدس سرزمین تحرک، بیداری، حمیت، غیرت، ایثار، قربانی، جہاد، دعوت، اتحاد، وحدت، اخوت اور مزاحمت کی عملی تصویر بنی دیکھی جا سکتی ہے۔ اس وقت جب دنیا کرونا وائرس کی وبا سے بری طرح متاثر ہے اور دنیا کا نظام درہم برہم ہوگیا ہے، اسرائیل کی جانب سے اہل فلسطین پر مظالم کا سلسلہ پہلے کی طرح جاری ہے، دنیا کرونا وائرس سے جنگ لڑنے میں مصروف ہے، مگر اسرائیل فلسطینی مسلمانوں کی نسل کشی اور انہیں اپنے گھروں سے بے دخل کرکے ناجائز تجاوزات میں مشغول ہے۔ صیہونیت اس وبا کے دوران بھی اپنے مخصوص نظریات کو عملی کرنے میں کوشاں ہے، دجال کی آمد کی باتیں بھی کی جا رہی ہیں، امت مسلمہ نجانے کب بیدار ہوگی۔ رمضان المبارک کے مقدس مہینہ کے آخری جمعہ کو عالمی سطح پر یوم القدس کے طور پہ منایا جاتا ہے، تاکہ اس روز عالمی سطح پر امت مسلمہ کے اس دیرینہ مسئلہ کو اجاگر کیا جا سکے۔ جب سے امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے متنازعہ اور غیر انسانی و غیر آئینی فیصلہ کہ یروشلم اسرائیل کا دارالخلافہ ہے اور امریکی سفارت خانہ یروشلم شفٹ کرنے کی بات کی ہے، فلسطین بالخصوص غزہ میں ایک نئی لہر نئے انتفادہ نے جنم لیا۔ اس تحریک کو اسرائیلی سرحدوں پہ بے خوف و خطر فلسطینی نوجوانوں کی یلغار کی صورت میں ہم آج بھی دیکھ رہے ہیں۔ ایک طرف تو ٹرمپ نے دارالخلافہ تبدیل کرنے کا افتتاح کیا، دوسری طرف مظلوم و ستم رسیدہ فلسطینی نوجوانوں، یہاں کی ماؤں اور بہنوں نے اپنے وطن کی طرف واپسی مہم شروع کر رکھی ہے۔ جو بھی احتجاج ہوتا شدید احتجاج ہوتا اور اس میں بیسیوں لوگ شہید ہوتے آرہے ہیں۔ سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں اس وقت تک زخمی ہیں، اپنے آبائی وطن، اپنی سرزمین، اپنے گھروں اپنی جائیدادوں کی طرف واپسی مظلوم فلسطینیوں کا بنیادی حق ہے، جسے حاصل کیے بنا انہیں کبھی چین نہیں آئے گا۔ مگر ہم ہیں کہ امت کی قیادت کے نام پہ امت سے غداری کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ سب سے بڑھ کے آل سعود اور اس کے اتحادی عرب ممالک کو یہ بات گوارا نہیں کہ مظلوم فلسطینی مسلمانوں کو ان کا آبائی وطن واپس ملے۔ بلکہ اسرائیل کے تجاوز اور مظالم کے خلاف فلسطینیوں کی تحریک آزادی پر لگتا ہے، یہ عرب شیوخ امریکہ و اسرائیل کی محبت مین خدا کے قہر کو بھول چکے ہیں اور امت مسلمہ کی مدد کی بجائے اسے مختلف بہانوں سے کوستے ہیں۔ فلسطین کی بیداری و تحریک اور جدوجہد کے بارے ان کا خیال ہے کہ اسے چونکہ ایران کی مدد حاصل ہے، لہذا یہ ایران کی عربوں پر حکمرانی اور تسلط کی سازش ہے اور فلسطینیوں کی اس مزاحمانہ تحریک پر سخت و سست ردعمل سعودی عرب کی طرف سے مسلسل سامنے آتا رہا ہے اور اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی اور کھلے عام میل ملاقاتیں اور بہت سے حقائق سامنے آچکے ہیں۔ فلسطین کے مظلومین مسلمان عرب گذشتہ سات دہائیوں سے زائد عرصہ سے عالمی ضمیر فروشوں اور صیہونی ایجنٹوں کے ہاتھوں گھروں سے بے دخل کیے جا رہے ہیں۔ خصوصی طور پہ بے غیرت عرب بادشاہوں کی ہوس اقتدار اور امریکی و اسرائیلی غلامی کے باعث ان کا خون بہایا جا رہا ہے، انہیں بنیادی ترین انسانی و بین الاقوامی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے، ان اکہتر برسوں میں یہاں کا ہر گھر بلکہ ہر فرد متاثر ہوا ہے۔ شہادتوں سے لیکر اسارتوں اور عزتوں کی پامالی سے کوئی بھی محفوظ نہیں رہا، اس کے باوجود یہاں پر بیداری ہے، تحرک ہے، میدان میں آمادگی ہے، قربانی کا جذبہ ہے، ایثار گری کی ان مٹ مثالیں ہیں، شوق شہادت ہے، جبر و تشدد، قید و بند کی صعوبتیں ان کے اندر سے ان کا جذبہ آزادی نہیں چھین سکیں اور وہ پتھروں، غلیلوں سے دنیا کی جدید ترین فورسز کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ میں (جسے امریکی لونڈی کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا) امریکہ نے اسرائیل کے جرائم کے خلاف پیش کی گئی ہر قرارداد کو ویٹو کیا ہے۔ امریکہ اسرائیل نوازی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ لہذا تاریخ شاہد ہے کہ جتنی بھی قراردادیں اسرائیل کی جارحیت، مظالم اور سفاکیت کے خلاف پیش کی گئیں، انہیں ویٹو ہی کیا گیا، اسرائیل کو اسی واسطے امریکہ کی ناجائز اولاد سے تشبیہ دی گئی اور اسے اس خنجر سے تشبیہ دی گئی جس کا پشتہ امریکہ کے ہاتھوں میں ہے اور وہ اسے مسلمانوں کے قلب میں پیوستہ کر رہا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ القدس شریف اور اس کے باسیوں کے جسم پر آنے والے ہر زخم کا ذمہ دار امریکہ ہی ہے اور اس سے اس کا حساب لیا جائے گا۔ بانی اسلامی انقلاب خمینی بت شکن کی رہبری میں آنے والے اسلامی انقلاب کی حریت، آزادی، حمیت و غیرت کی روشن شعاعوں اور کرنوں کو گذشتہ اکتالیس برس سے روکنے کا مکروہ کھیل اسی لئے کھیلا جا رہا ہے کہ اس بت شکن کے فرزند القدس شریف کو اسرائیل کے ناپاک پنجوں سے آزادی نہ دلوا سکیں۔ مگر انہیں بھول ہے کہ وہ ایسا کرسکیں گے اور کامیاب ہو پائیں گے۔ ہم یقین سے کہتے ہیں کہ ہم القدس شریف کو آزاد کروانے ضرور آئیں گے۔ اسی برس کے شروع میں اسلامی انقلاب کے ایک عظیم فرزند جنرل قاسم سلیمانی کو بغداد ایر پورٹ پہ ایک حملے میں شہید کیا گیا تو پوری دنیا کی طرح اہل فلسطین نے ان کا غم منایا، انہیں شہید القدس قرار دیا، جو ظاہر کرتا ہے کہ اہل فلسطین کے دلوں پر کس کی حکمرانی ہے، تمام تر مظالم کے باوجود یہ طے ہے کہ القدس ہمارا ہے اور ہم ہی اس کی آزادی کیلئے اپنی جانوں کو نچھاور کرکے آزاد کروائیں گے۔ ہماری حکمران اشرافیہ میں بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے کی مہم چلائی گئی، جسے پاکستان کی باشرف ملت قبول نہیں کرتی۔ سعودی عرب کی سربراہی میں اسلامی ممالک کے فوجی اتحاد کی سربراہی ہمارے ایک پاپولر جرنیل کے سپرد کی گئی، مگر یہ اتحاد اپنی افادیت کھو بیٹھا کہ اسے یمن میں مظلوموں کی بستیاں اجاڑنے کا اختیار دیا گیا، ماہ مبارک رمضان میں بظاہر جنگ بندی کا اعلان کیا گیا، مگر یمنی بے دست و پا مسلمانوں پر آگ و بارود کی بارش جاری رہی۔ فلسطین کے مظلوم و ستم رسیدہ آئے روز شہادتوں کی داستانیں رقم کرنے والے کسی مسیحا کے منتظر بھی ہیں اور خود بھی جہاد و شہادت کا علم بلند کیے ہوئے ہیں، ان کی جدوجہد جلد کامیاب ہوگی اور ایک نجس وجودِ دنیا کے نقشے سے ختم ہو جائے گا۔ پاکستان واحد مسلم ملک ہے، جس کے سبز پاسپورٹ پہ لکھا ہے کہ اس کو رکھنے والا اسرائیل کا سفر کرنے کی اجازت نہیں رکھتا، اسرائیل ہندوستان کے ساتھ ملکر پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف رہتا ہے، ہماری افواج اس پہ نظر رکھتی ہیں۔ کچھ عرصہ قبل افواج پاکستان کی طرف سے ایک بیان بھی جاری ہوا تھا کہ اسرائیل نے کوئی حماقت کی تو اسے چند گھنٹوں میں صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے گا۔ یہ بات اسرائیل اور اس کے محافظ و سرپرست امریکہ کو بھی بہت بری لگی تھی، مگر ہمارے لیے یہ بہت ہی حوصلہ افزا ہے کہ ایران پہلے ہی اسرائیل کو تباہ کرنے کیلئے اپنی ذمہ داریوں کو ادا کر رہا ہے، اس نے اپنے مجاہدین کا بدلہ لینے کیلئے اس کی نیندیں حرام کر رکھی ہیں، اسرائیل میں لوگ ایران کی دھمکیوں کے باعث تہہ خانوں میں سونے پر مجبور ہوتے ہیں، یہی خوف اور ڈر ہی ان کیلئے موت کا پیغام ہے، اگر جنگ ہوگئی تو ان کی عوام کا کیا حال ہوگا، جبکہ دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ اہل فلسطین، فلسطین کی کربلائی مائیں اپنے بچوں کو شہادت کیلئے تیار کرتی ہیں اور اپنے حق کی آواز کو دنیا تک پہنچانے کیلئے قربانیوں کی نئی تاریخ رقم کر رہی ہیں۔ ہم سلام پیش کرتے ہیں ان کربلائی جذبوں سے سرشار ماؤں کو جو گذشتہ ستر برس سے مسلسل اپنے جگر کے ٹکڑوں کو اس مقدس سرزمین کی آزادی کیلئے میدان میں بھیج رہی ہیں، ان کی لہو رنگ لاشیں وصول کر رہی ہیں، اپنی عزتوں کو پائمال ہونے سے بچانے کیلئے اپنے فرزندوں کی تربیت کربلائی ماؤں کی طرح کرتی ہیں، اپنی آبائی زمینوں کو غاصبوں سے واپس لینے کیلئے گولیوں اور ٹینکوں سے ٹکرا جاتی ہیں۔ سلام ہے ان بہنوں پر جو نہتی ہو کر بندوق برداروں کے سامنے اپنے بھائیوں کے شانہ بشانہ میدان عمل میں اتری دکھائی دیتی ہیں۔ قسم بخدا یہ بہنیں ہمیں ان نام نہاد خلیفوں، شاہوں، امت کے ٹھیکیدار مذہبی جغادریوں اور بے غیرت نام نہاد خادم الحرمین اور عیاش و فحاش حکمرانوں سے زیادہ عزیز ہیں، جن کا کردار اور عمل ان مظالم پر مظلومین کے بجائے غاصبوں اور ظالمین کا دفاع کرنا ہے۔ ان کی زبانیں گنگ ہیں، ہوس اقتدار میں جکڑے یہ بدبخت عرب شاہ ستر سال سے اپنے ہی بھائی بندوں اور قوم کے لوگوں سے غداری کر رہے ہیں اور انہیں تنہا چھوڑ دیا ہے۔ جیسے جنگل میں بھیڑیئے کے سامنے کسی کمزور جانور کو چھوڑا جاتا ہے، مگر یہ یاد رہے، اب اسرائیل کے خاتمہ تک یہ تحریک یونہی رواں دواں رہیگی، ہم اس دن کو قریب دیکھ رہے ہیں، جب فلسطین کی مقدس سرزمین اسرائیل کے ناپاک پنجوں سے آزاد ہوگی، شہداء کی قربانیاں رنگ لائیں گی، اجڑا ہوا فلسطین ایک بار پھر آباد ہوگا اور انبیاؑء کی اس مقدس سرزمین اس کے اصل وارثوں کی دسترس میں ہوگی، وعدہ الہیٰ اور امام خامنہ ای کی پیشین گوئی سچ و حق ہو گی۔۔۔۔!