اسلام ٹائمز 8 May 2020 گھنٹہ 21:18 https://www.islamtimes.org/ur/news/861479/اسرائیلی-قبضے-کی-حمایت-پر-مبنی-امریکی-بیان-شرمناک-اور-فلسطینی-قوم-کیخلاف-جارحیت-کے-مترادف-ہے-حماس -------------------------------------------------- ٹائٹل : اسرائیلی قبضے کی حمایت پر مبنی امریکی بیان شرمناک اور فلسطینی قوم کیخلاف جارحیت کے مترادف ہے، حماس -------------------------------------------------- فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے ترجمان حازم قاسم نے گزشتہ روز غاصب صیہونی رژیم اسرائیل میں امریکی سفیر ڈیوڈ فریڈمین کیطرف سے فلسطینی سرزمین پر مزید صیہونی قبضے کی حمایت میں جاری ہونیوالے بیان کے جواب میں کہا ہے کہ فلسطینی شہر الخلیل اور مغربی کنارے کی اراضی پر غیرقانونی صیہونی قبضے کی کھلی حمایت پر مبنی امریکی سفیر کا بیان انتہائی شرمناک اور فلسطینی قوم کیخلاف براہ راست امریکی جارحیت کے مترادف ہے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ فلسطینی قوم ہی اس سرزمین اور اسکی تاریخ کی مالک اور اسکی حقدار ہے جبکہ فلسطینی قوم اپنی سرزمین سے ہر قسم کی قابض قوتوں کے مکمل اخراج تک اپنی حق بجانب جدوجہد جاری رکھے گی۔ متن : اسلام ٹائمز۔ فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے ترجمان حازم قاسم نے گزشتہ روز غاصب صیہونی رژیم اسرائیل میں امریکی سفیر ڈیوڈ فریڈمین کی طرف سےفلسطینی سرزمین پر مزید صیہونی قبضے کی حمایت میں جاری ہونے والے بیان کے جواب میں کہا ہے کہ فلسطینی شہر الخلیل اور مغربی کنارے کی اراضی پر غیرقانونی صیہونی قبضے کی کھلی حمایت پر مبنی امریکی سفیر کا بیان انتہائی شرمناک اور فلسطینی قوم کے خلاف براہ راست امریکی جارحیت کے مترادف ہے۔ حازم قاسم نے امریکی سفیر کے جاری ہونے والے بیان کو اسرائیلی لیکویڈ پارٹی اور حقیقت کو بگاڑ کر اس میں تحریف کرنے کی ٹرمپ حکومت کی پالیسی کے عین مطابق قرار دیا۔ فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے ترجمان حازم قاسم نے اس حوالے سے زور دیتے ہوئے کہا کہ فلسطینی قوم ہی اس سرزمین اور اس کی تاریخ کی مالک اور اس کی حقدار ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی قوم اپنی سرزمین سے ہر قسم کی قابض قوتوں کے مکمل اخراج تک اپنی حق بجانب جدوجہد جاری رکھے گی۔ حازم قاسم نے کہا کہ فلسطینی عوام اپنے دارالحکومت "قدس" شریف میں عنقریب ایک آزاد و خود مختار حکومت تشکیل دیں گے۔ اس حوالے سے فلسطینی حکومت نے بھی اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کے بیان کو "جھوٹ کا پلندہ" قرار دیتے ہوئے رد کر دیا تھا۔ واضح رہے کہ اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر نے مزید فلسطینی اراضی کو اسرائیل میں شامل کرنے کے صیہونی پروگرام کی حمایت کرتے ہوئے بنجمن نیتن یاہو سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ مزید فلسطینی اراضی کو اسرائیل میں شامل کرنے کے پروگرام پر جلد از جلد عملدرآمد کرے۔ ڈیوڈ فریڈمین نے کہا تھا کہ امریکہ آئندہ چند ہفتوں میں مزید فلسطینی سرزمین اور غیرقانونی یہودی بستیوں کے اسرائیل میں شامل کر لئے جانے کے بعد انہیں اسرائیلی سرزمین کے طور پر فورا تسلیم کر لے گا۔