اسلام ٹائمز 15 Mar 2023 گھنٹہ 23:56 https://www.islamtimes.org/ur/news/1046934/تہران-اور-ریاض-کے-درمیان-معاہدہ-ایک-مثبت-قدم-ہے-احمد-ابو-الغیظ -------------------------------------------------- ٹائٹل : تہران اور ریاض کے درمیان معاہدہ ایک مثبت قدم ہے، احمد ابو الغیظ -------------------------------------------------- اپنی پریس کانفرنس میں عرب لیگ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اگلے مہینے سعودی عرب میں عرب سربراہی کانفرنس ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ احتمالاََ اس کانفرنس کا اصلی موضوع اقتصاد ہوگا۔ متن : اسلام ٹائمز۔ عرب لیگ کے سربراہ نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان معاہدے کو ایک مثبت قدم قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے اولین اثرات سے دونوں ممالک میں سیاسی اور سلامتی استحکام آئے گا۔ آج بدھ کے روز عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل "احمد ابوالغیظ" نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ عرب سربراہی اجلاس اگلے ماہ سعودی عرب میں منعقد ہوگا۔ احمد ابو الغیظ نے آج لبنان کا دورہ کیا۔ انہوں نے اس دورے کے دوران لبنان کے وزیراعظم نجیب میقاتی سے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد پریس کانفرنس میں عرب لیگ کے سربراہ نے بتایا کہ اگلے مہینے سعودی عرب میں عرب سربراہی کانفرنس ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ احتمالاََ اس کانفرنس کا اصلی موضوع اقتصاد ہوگا۔ جس میں غریب عرب ممالک کی مدد کے طریقہ کار کے بارے میں تبصرہ کیا جائے گا۔ تہران اور ریاض کے مابین معاہدے پر انہوں نے کہا کہ یہ ایک حقیقی اور مثبت قدم ہے، جس کا سب سے پہلا اثر دونوں ممالک کے سیاسی اور سلامتی استحکام پر پڑے گا۔ لیکن ابھی تک خطے کے باقی موضوعات پر اس کے اثرات غیر واضح ہیں۔ واضح رہے کہ حالیہ جمعے کے روز تہران اور ریاض نے آپس میں معاہدے کا اعلان کیا تھا۔ یاد رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان 2015ء سے سفارتی تعلقات منقطع تھے۔ یہ تعلقات سعودی عرب میں شیخ نمر کی شہادت کے بعد خراب ہوئے، جب مظاہرین نے تہران اور مشہد میں سعودی سفارتخانے کے سامنے اپنے شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ ان تمام اقدامات کے بعد سعودی عرب نے یک طرفہ طور پر ایران سے اپنے تعلقات منقطع کر لئے تھے۔ گذشتہ سال دونوں ممالک نے آپس میں سکیورٹی سطح پر مذاکرات شروع کر دیئے تھے اور مذاکرات کے چار ادوار بھی گذشتہ سال منعقد ہوئے تھے۔ عراق کے وزیر خارجہ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان بات چیت سکیورٹی اداروں کی فارمیٹ کے تحت قرار پائی۔ مذاکرات کا پانچواں دور بھی حال ہی میں منعقد ہوا تھا۔