اسلام ٹائمز 14 Jan 2022 گھنٹہ 22:38 https://www.islamtimes.org/ur/article/973592/ایران-کے-مقابلے-میں-اسرائیل-کی-ناتوانی-اور-اسکی-وجوہات-1 -------------------------------------------------- ٹائٹل : ایران کے مقابلے میں اسرائیل کی ناتوانی اور اسکی وجوہات(1) -------------------------------------------------- اسلام ٹائمز: فوجی میدان میں اسلامی جمہوریہ ایران کی طاقت کا اہم حصہ زمین سے ہوا اور زمین سے زمین پر مار کرنیوالے بیلسٹک میزائلوں سے لیس ہونے پر مشتمل ہے۔ ایران کے پاس مائع اور ٹھوس ایندھن والے کم رینج (1000 کلومیٹر تک) اور درمیانی رینج (1000 سے 3000 کلومیٹر تک) کے بیلسٹک میزائلوں کا وسیع ذخیرہ موجود ہے۔ حال ہی میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کیجانب سے ٹیسٹ کئے جانیوالے بیلسٹک میزائلوں میں 2000 کلومیٹر سے زیادہ رینج والے ایسے میزائل بھی شامل تھے، جنکی رفتار آواز کی رفتار سے چند گنا زیادہ ہے۔ اگر یہ میزائل نطنز سے فائر کئے جاتے ہیں تو وہ 7 منٹ کے اندر اندر صہیونی رژیم کی ڈیمونا جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ صہیونی حکمران بارہا ان میزائلوں سے اپنا خوف ظاہر کرچکے ہیں۔ متن : تحریر: محمد رضا مرادی غاصب صہیونی رژیم کے حکمرانوں نے 1990ء سے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے حصول کی صورت میں اسے فوجی حملوں کا نشانہ بنائیں گے۔ ان دھمکیوں کو آغاز ہوئے تین عشرے گزر چکے ہیں لیکن اب بھی نہ صرف ان میں کمی واقع نہیں ہوئی بلکہ مزید شدت آئی ہے۔ صہیونی کابینہ نے واضح طور پر ایران کے خلاف جنگ کیلئے بجٹ مخصوص کرنے کا اعلان کیا ہے اور حتی اس جنگ کیلئے ضروری دستورات بھی وضع کئے جا چکے ہیں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ صہیونی حکام کی یہ دھمکیاں کس حد تک حقیقت پر مبنی ہیں؟ اور کیا اسرائیل ایران پر حملہ کرنے کی توانائی اور جرات رکھتا بھی ہے یا نہیں؟ اور آیا یہ دھمکیاں محض نفسیاتی جنگ کا حصہ ہیں؟ ان سوالات کا جواب جاننے کیلئے اسرائیل کے مقابلے میں ایران کی توانائیوں کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ 1)۔ ایران کی میزائل اور ڈرون طاقت فوجی میدان میں اسلامی جمہوریہ ایران کی طاقت کا اہم حصہ زمین سے ہوا اور زمین سے زمین پر مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں سے لیس ہونے پر مشتمل ہے۔ ایران کے پاس مائع اور ٹھوس ایندھن والے کم رینج (1000 کلومیٹر تک) اور درمیانی رینج (1000 سے 3000 کلومیٹر تک) کے بیلسٹک میزائلوں کا وسیع ذخیرہ موجود ہے۔ حال ہی میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی جانب سے ٹیسٹ کئے جانے والے بیلسٹک میزائلوں میں 2000 کلومیٹر سے زیادہ رینج والے ایسے میزائل بھی شامل تھے، جن کی رفتار آواز کی رفتار سے چند گنا زیادہ ہے۔ اگر یہ میزائل نطنز سے فائر کئے جاتے ہیں تو وہ 7 منٹ کے اندر اندر صہیونی رژیم کی ڈیمونا جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ صہیونی حکمران بارہا ان میزائلوں سے اپنا خوف ظاہر کرچکے ہیں۔ 2)۔ حالیہ جنگی مشقیں اگرچہ غاصب صہیونی حکمران روز بروز ایران کے خلاف دھمکیوں کی شدت بڑھاتے جا رہے ہیں، لیکن حال ہی میں ایران نے ایسی جنگی مشقیں انجام دی ہیں، جن میں اسرائیل کی جانب سے ایران پر ممکنہ حملہ انجام پانے کی صورتحال میں جنگی اسرائیل کی صورتحال ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ جنگی مشقیں ایران کی مسلح افواج کی مشترکہ مشقیں تھیں، جو پیغمبر اعظم (ص) کے نام سے انجام پائیں اور ان کے آخری مرحلے میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے اپنی میزائل طاقت کا مظاہرہ کیا۔ اس مرحلے میں ایک ساتھ کم رینج، درمیانی رینج اور لمبی رینج والے 16 مختلف بیلسٹک میزائل فائر کئے گئے، جنہوں نے کامیابی سے مفروضہ دشمن کے خلاف اپنے اپنے اہداف کو نشانہ بنا کر تباہ کر ڈالا۔ ان میزائلوں کے ساتھ ساتھ 10 ڈرون جنگی طیارے بھی ایک ساتھ ہوا میں اڑے اور پہلے سے طے شدہ اہداف کو نشانہ بنا کر تباہ کرنے میں کامیاب رہے۔ جنگی مشقوں کے آخری مرحلے میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ان 16 بیلسٹک میزائلوں کی اڑان پر مبنی ویڈیو جاری کی گئی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مفروضہ اہداف کے طور پر ڈیمونا جوہری تنصیبات کا ماڈل تیار کیا گیا تھا۔ اس ٹیسٹ میں عماد، قدر، سجیل، زلزال، دزفول اور ذوالفقار نامی میزائل شامل تھے، جنہوں نے پیغمبر اعظم (ص) 17 جنگی مشقوں کے آخری مرحلے میں کامیابی سے غاصب صہیونی رژیم کی حساس تنصیبات کے ماڈلز کو نشانہ بنا کر صفحہ ہستی سے محو کر دیا۔ ان جنگی مشقوں نے درحقیقت غاصب صہیونی رژیم کی جانب سے ہر قسم کے گستاخانہ اقدام کے مقابلے میں ایران کے ممکنہ ردعمل کا ایک چھوٹا سا حصہ پیش کیا ہے۔ 3)۔ خطے میں ایران کے بازو غاصب صہیونی رژیم کے انٹیلی جنس ادارے بارہا اس بات کا اظہار کرچکے ہیں کہ ان کا اصل مسئلہ ایران پر فوجی حملہ نہیں بلکہ اس کے بعد جنم لینے والا ممکنہ ردعمل ہے۔ ایران خطے میں اسلامی مزاحمتی بلاک کا علمبردار ہے۔ انصاراللہ یمن، حزب اللہ لبنان، فلسطینی مزاحمتی گروہ اور عراق اور شام میں حشد الشعبی اسلامی مزاحمتی بلاک کا حصہ ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ تمام گروہ فوجی میدان میں عظیم کامیابیاں حاصل کرچکے ہیں، جس کا مطلب اسرائیل کیلئے خطرے کی گھنٹی کی صورت میں ہے۔ انصاراللہ یمن شدید پابندیوں کے باوجود گذشتہ سات برس سے نہ صرف سعودی اتحاد کے خلاف ڈٹا ہوا ہے بلکہ اب تک مختلف مقامات پر موجود سعودی عرب کی فوجی اور تیل کی تنصیبات کو کامیابی سے میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بھی بنا چکا ہے۔ فلسطین میں اسلامی مزاحمتی گروہ حماس اور اسلامک جہاد بھی اب تک غاصب صہیونی رژیم کے خلاف مختلف جنگوں میں اہم کامیابیاں حاصل کرچکے ہیں، جس کی تازہ ترین مثال سیف القدس معرکہ تھا۔ خود صہیونی باخبر ذرائع کے بقول حزب اللہ لبنان اس وقت 2000 ڈرون طیاروں اور ہزاروں جدید ٹیکنالوجی سے لیس ٹھیک نشانے پر مار کرنے والے میزائلوں سے لیس ہے۔ لہذا اسرائیل ان مزاحمتی گروہوں سے براہ راست ٹکر لینے سے کتراتا آرہا ہے۔ عراق میں حشد الشعبی نے بھی شدید مزاحمت اور دباو کے ذریعے امریکہ کو فوجی انخلاء پر مجبور کر دیا ہے۔ درحقیقت اسلامی مزاحمتی بلاک ایسے ممالک اور گروہوں پر مشتمل ہے، جو سب اعلیٰ درجے کی فوجی مہارت رکھتے ہیں اور اسرائیل کی جانب سے ایران کی طرف پہلا میزائل فائر کئے جانے یا پہلا جنگی طیارہ اڑتے ہی سرگرم عمل ہو کر اسرائیل کی نابودی کا زمینہ فراہم کرسکتے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(جاری ہے)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔