اسلام ٹائمز 15 May 2019 گھنٹہ 15:34 https://www.islamtimes.org/ur/article/794069/حامیۃ-الرسول-حضرت-خدیجۃ-الکبری-سلام-اللہ-علیہا -------------------------------------------------- ٹائٹل : حامیۃ الرسول حضرت خدیجۃ الکبریٰ سلام اللہ علیہا -------------------------------------------------- اسلام ٹائمز: روایت میں آیا ہے کہ جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم ملا کہ خدا کی عبادت کیلئے 40 دن تک اپنی وفادار بیوی سے دور رہنا ہوگا تو حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کو یہ پیغام بھیجا: يا خديجة! لا تظني أن إنقطاعي عنك هجرة ولا قلى، ولكن ربي عز وجل أمرني بذلك لتنفذ أمره، فلا تظني يا خديجة إلا خيرا فإن الله عز وجل ليباهي بككرام ملائكته كل يوم مرارا(۶)"اے خدیجہ سلام اللہ علیہا! تم ہرگز یہ گمان نہ کرنا کہ یہ دوری تم سے نفرت اور بیزاری کیوجہ سے ہے بلکہ یہ پروردگار کا حکم ہے، تاکہ میں اسکے حکم کو بجا لا سکوں۔ اے خدیجہ سلام اللہ علیہا سوائے خیر کے کچھ مت سوچنا، خداوند عالم ہر روز ملائکہ کے نزدیک تمہارے وجود پر فخر و مباہات کرتا ہے۔" اسطرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی باوفا بیوی سے دوری کو برداشت کیا جبکہ ان کیلئے بہت سخت تھا اور جناب خدیجۃ الکبریٰ کو اپنے عبادی پروگرام سے باخبر کیا اور انہیں خدا کے خاص لطف و عنایت کا بھروسہ دلایا۔ متن : تحریر: ظہیر عباس جٹ نام: حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا القاب: مبارکہ، طاہرہ، سیدہ نساء قریش، ام الیتمامی، کبریٰ، غرا، صدیقہ، زکیہ، راضیہ، مرضیہ، ملیکۃ العرب کنیت: ام ہند، ام المومنین، ام الزہراء سلام علیہا والد گرامی: خویلد بن اسد مادر گرامی: فاطمہ بنت زائدہ محل ولادت: مکہ معظمہ تاریخ اسلام کے دامن میں ام المومنین حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا جیسے کردار کی حامل کوئی دوسری خاتون نہیں، آپ تاریخ نسواں میں زوجیت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی منزل میں بے مثل اور عظیم کردار رکھتی ہیں، عالی ہمت، بلند کردار، اعلیٰ نسب، شریف خاندان کسی اور زوجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نہیں۔ آپ کی شخصیت، فدا کاری، قربانی، حمایت رسالت اور آپ کی ذات شریف زوجات رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں مثالی اور لازوال کردار رکھنے والی اس ملیکہ عرب کے حسب و نسب، طہارت و نجابت، پاکیزگی نفس اور دیگر امتیازات پر مسلسل اہل قلم نے لکھا اور لکھتے رہیں گے۔ یہاں پر جناب خدیجۃ الکبریٰ کی چند خصوصیات پر روشنی ڈالتے ہیں۔ جناب خدیجہ (س) اور پیغمبر اسلام (ص) کا حسب و نسب حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا اور پیامبر اسلام صلی الله علیه و آله وسلّم کا حسب و نسب قریش پر منتہی ہوتا ہے۔ جناب خدیجہ سلام اللہ علیہا کے پدری سلسلہ جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چوتھے اجداد (قصی) سے جانا ملتا ہے۔ اس بنا پر جناب خدیجہ سلام اللہ علیہا تین واسطوں سے پیغمبر اسلام کی چچا زاد بہن ہیں.(1) آٹھویں جد تک رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا شجرہ نسب مندرجہ ذیل ہے۔ عبدالمطلب(شیبہ) ابن ہاشم ابن عمرو ابن عبد مناف (المغیرہ) ابن قصی (زید) ابن کلاب ابن مرة ابن کعب ابن لوی ابن غالب ابن فہر ابن مالک ابن النصر الی آخر اسماعیل ابن ابراهیم سام ابن نوح ۔۔۔ شیث ابن آدم علیہا لسلام۔(2) قیامت کے دن حضرت خدیجہ سلام اللہ کا استقبال شیعہ محدثین نے حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کی فضیلت میں ائمہ معصومین علیہم السلام سے روایت نقل کی ہے:"قیامت کے دن ستر ہزار فرشتے خوبصورت پرچم کے ساتھ جس پر اللہ اکبر لکھا ہوگا، حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کا استقبال کریں گے۔"{10} حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کی شفاعت کا مقام شیخ طوسی نقل کرتے ہیں کہ حضرت ابو عبداللہ السلام سے اس آیت: "وبينهما حجاب" کے بارے میں سوال کیا گیا تو آنحضرت نے فرمایا: بین الجنة و النار، قائم علیه محمد صلی الله علیه وآله و علی و الحسن و الحسین و فاطمة و خدیجة ع فینادون: أین محبونا أین شیعتنا، فیقبلون إلیهم فیعرفونهم بأسمائهم و أسماء آبائهم، و ذلک قوله تعالى یعرفون کلا بسیماهم فیأخذون بأیدیهم (فیجوزون بهم) الصراط و یدخلونهم الجنة۔(3) "جنت و جہنم کے درمیان ایک ایسی جا ہے، جس پر حضرت محمد صلی الله علیه و آله وسلّم حضرت علی علیہ السلام حضرت حسن علیہ السلام حضرت حسین علیہ السلام حضرت فاطمۃ الزہراء سلام علیہا حضرت خدیجہ سلام اللہ کھڑے ہوکر آواز دیں گے کہ ہمارے چاہنے والے کہاں ہیں؟ ہمارے شیعہ اور پیروں کار کہاں ہیں؟ اسماء کے بعد لوگوں کی طرف دیکھیں گے اور انہیں ان کے نام و لپیٹ کے ساتھ پہچان لیں گے اور قول خدا سے مراد یہی ہے کہ خداوند عالم فرماتا ہے۔ انہیں ان کے چہروں کے ساتھ پہچانیں گے۔ اس بعد ان لوگوں کے ہاتھوں پکڑ کر پل صراط سے گزاریں گے اور جنت میں داخل کر دیں گے۔" حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کی پاکدامنی جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شادی سے پہلے وہ اس قدر پاکیزہ تھیں کہ جناب ابو طالب علیہ السلام جو قریش کے بزرگ اور سردار بنی ھاشم تھے، اس طرح ان کی تعریف کرتے ہیں: ان خديجة امرة کاملة ميمونة فاضلة تخشى العار و تحذر الشنار(4) "جناب خدیجہ سلام اللہ علیہا، خاتون کامل، بابرکت نیز صاحب فضل ہیں اور تمام عیبوں سے پرہیز کرتی ہیں، نیز تمام بدنامیوں اور رسوائیوں سے دور ہیں۔" حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا پر خدا کا سلام حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کی شخصیت اور مقام بہت ہی بلند و بالا ہے، جسے کسی معمولی معیار پر نہیں پرکھا جاسکتا۔ ان کی منزلت اس قدر بلند ہے کہ بارہا خداوند عالم نے جبرائیل کے ذریعے سلام بھیجا اور ان کے لیے بہت بڑے انعام کا وعدہ کیا گیا، کوئی بھی ان کے مقام تک نہیں پہنچ سکتا، چاہے وہ گذشتگان میں سے ہو یا ان کے زمانے والے ہوں یا اصحاب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہوں، روایت میں آیا ہے: أتي جِبْرِيلُ النبي صلي الله عليه وسلم فقال يا رَسُولَ اللَّهِ هذه خَدِيجَةُ قد أَتَتْ مَعَهَا إِنَاءٌ فيه إِدَامٌ أو طَعَامٌ أو شَرَابٌ فإذا هِيَ أَتَتْكَ فَاقْرَأْ عليها السَّلَامَ من رَبِّهَا وَمِنِّي وَبَشِّرْهَا بِبَيْتٍ في الْجَنَّةِ من قَصَبٍ لَا صَخَبَ فيه ولا نَصَبَ(5) "جبرائيل رسول خدا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: اے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ خدیجہ سلام اللہ علیہا ہیں، جن کے ساتھ ایک برتن اور اس میں کھانا یا پانی ہے، جب بھی آپ کے قریب آئیں تو آپ خدا اور میری طرف سے سلام پہنچائیں اور جنت میں ایک قصر کی بشارت دیں، جو انتہائی پرسکون (شور و غلام سے خالی) اور غم و اندوہ سے خالی ہے، جس میں کسی طرح کی زحمت اور ہنگامہ نہیں ہے۔" حضرت خدیجۃ الکبریٰ سلام اللہ علیہا پر خدا کا فخر و مباہات حضرت خدیجۃ الکبریٰ سلام اللہ علیہا کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ خداوند عالم روزانہ کئی بار حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کے وجود پر ملائکہ کے سامنے فخر و مباہات کرتا ہے۔ روایت میں آیا ہے کہ جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم ملا کہ خدا کی عبادت کے لیے 40 دن تک اپنی وفادار بیوی سے دور رہنا ہوگا تو حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کو یہ پیغام بھیجا: يا خديجة! لا تظني أن إنقطاعي عنك هجرة ولا قلى، ولكن ربي عز وجل أمرني بذلك لتنفذ أمره، فلا تظني يا خديجة إلا خيرا فإن الله عز وجل ليباهي بككرامملائكته كل يوم مرارا(6)"اے خدیجہ سلام اللہ علیہا! تم ہرگز یہ گمان نہ کرنا کہ یہ دوری تم سے نفرت اور بیزاری کی وجہ سے ہے بلکہ یہ پروردگار کا حکم ہے، تاکہ میں اس کے حکم کو بجا لا سکوں۔ اے خدیجہ سلام اللہ علیہا سوائے خیر کے کچھ مت سوچنا، خداوند عالم ہر روز ملائکہ کے نزدیک تمہارے وجود پر فخر و مباہات کرتا ہے۔" اس طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی باوفا بیوی سے دوری کو برداشت کیا جبکہ ان کے لیے بہت سخت تھا اور جناب خدیجۃ الکبریٰ کو اپنے عبادی پروگرام سے باخبر کیا اور انہیں خدا کے خاص لطف و عنایت کا بھروسہ دلایا۔ حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نظر میں ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں لوگوں کے سامنے امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام کا تعارف کراتے ہوئے فرمایا: اے لوگوں کیا میں تمہیں ایسے انسانوں کی خبر نہ دوں، جو نانا اور نانی کی طرف سے سب سے بہتر ہوں، لوگوں نے کہا ضرور بتائیے پھر آپ نے فرمایا قال: الحسن و الحسين، جدهما رسول الله صلى الله عليه و آلهو جدتهما خديجة بنت خويلد(7) "وہ حسن و حسین علیہما السلام ہیں جن کے نانا رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور نانی جناب خدیجہ سلام اللہ علیہا بنت خویلد ہیں۔" حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کا مقام حضرت آدم علیہ السلام کے نزدیک جناب خدیجہ سلام اللہ علیہا کے مقام و منزلت میں مشاہدہ کیا جاسکتا ہے، ان روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ صفی خدا حضرت آدم علیہ السلام نے حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کی فضیلت کو ان کے پیدا ہونے سے صدیوں پہلے بیان کیا: انى لسيد البشر يوم القيامة الأرجل من ذريتى نبى من الأنبياء يقال له محمد فضل على باثنين زوجته عاونته له عوناوکانت زوجتى على عونا(8)"مین روز قیامت، تمام لوگوں کا سردار ہوں، سوائے کچھ افراد کے جو میرے فرزندوں میں سے ہیں۔ ایک محمد صلی الله علیه و آله وسلّم جو دو اعتبار سے مجھ سے برتر ہیں: نمبر ایک ان کی بیوی جناب خدیجہ سلام اللہ علیہا جو ان کی مدد گار ہیں، نمبر دو ان کی بیوی جو خدمتگار ہیں، لیکن میری بیوی جس نے مجھے نقصان پہنچائے۔" ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ منابع 1۔ الطبقات الکبریٰ، أبو عبداللہ بن سعد ج 8 ص 11 2۔ السیرہ النبوية، أبو منذر بن ھاشم کلبی ج 1 ص 187 3۔ بحارالانوار ج 24 ص255 4۔ بحارالانوار ج 16 صباح 52 5۔ سر چشمہ کوثر ام المومنین خدیجہ الکبری ص 15 6۔ بحار الانوار ج 16 ص 11 7۔ بحارالانوار ج 22 ص 502 8۔ بحار الانوار ج 43 صباح 302 6 بحارالانوار ج 16 ص 11