اسلام ٹائمز 6 Feb 2023 گھنٹہ 22:13 https://www.islamtimes.org/ur/news/1039897/مختلف-ادوار-میں-بلوچستان-کے-عوام-کو-دھوکہ-دیا-گیا-مولانا-عبدالحق-ہاشمی -------------------------------------------------- ٹائٹل : مختلف ادوار میں بلوچستان کے عوام کو دھوکہ دیا گیا، مولانا عبدالحق ہاشمی -------------------------------------------------- اپنے بیان میں جماعت اسلامی کے صوبائی امیر نے کہا کہ بلوچستان کی 70 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ متن : اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی بلوچستان مولانا عبدالحق ہاشمی نے کہا کہ آئی ایم ایف اور حکمران قومی خزانہ اور عوام کو لوٹ رہے ہیں۔ لوٹ مار کی وجہ سے پاکستان دیوالیہ، قومی خزانہ بیرون ملک منتقل ہو رہا ہے۔ مولانا ہدایت الرحمان بلوچ و دیگر قائدین کی رہائی تک ہر سطح پر احتجاج جاری رکھیں گے۔ گوادر بلوچستان کے حقوق کے حصول کی جدوجہد گرفتاری مقدمات سے نہیں رک سکتی۔ بلوچستان کے ساتھ اپنوں اور غیروں نے ہمیشہ برا سلوک کیا۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک، ساحل، بارڈر اور دیگر معدنیات، وسائل اور ترقی پر سب سے پہلا حق بلوچستان کا ہے۔ بارڈر ٹریڈ پر آسانی دے کر بلوچستان کے ساحل و وسائل بلوچستان سے غربت، بے روزگاری ختم کرنے پر خرچ کیا جائے۔ لاپتہ افراد بازیاب، نوجوانوں کو روزگار دیا جائے۔ مختلف ادوار میں مختلف جذباتی نعروں اور پیکیجز کے نام پر بلوچستان کے عوام کو دھوکہ دیا گیا ہے۔ گوادر کے لوگوں سے کئے گئے وعدے پورے کئے جائیں۔ بدعنوان لوگ، پارٹیاں بدلنے یا چہروں کی تبدیلی سے عوامی مسائل حل نہیں ہوگی۔ نظام کی تبدیلی سے مسائل حل ہوں گے۔ جماعت اسلامی نظام کی تبدیلی کیلئے کوشاں ہے۔ نوجوان، علمائے کرام جماعت اسلامی کی جدوجہد کا حصہ بنیں اور جاگیرداروں و وڈیروں کے ظلم کے خلاف بلاخوف آواز بلند کرکے اسلامی نظام کے نفاذ میں ہمارا ساتھ دیں۔ نوجوان فرسودہ نظام سے تنگ آ چکے ہیں اور ملک میں اسلامی نظام چاہتے ہیں۔ ان کے خوابوں کی تعبیر کریں گے۔ گوادر پورٹ کو گیم چینجر کا نام دیا گیا لیکن سالوں گزرنے کے باوجود بات صرف وعدوں اور نعروں تک محدود رہی۔ مقامی رہائشی بنیادی سہولتوں تک سے محروم ہیں۔ بلوچستان کی 70 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ بے روزگاری کی شرح بھی سب سے زیادہ، جن لوگوں کے پاؤں تلے معدنیات کے ذخائر ہیں، حکمرانوں کی نااہلی کی وجہ سے انہیں پینے کا صاف پانی تک میسر نہیں۔ کرپشن اور امن و امان کی صورتحال بلوچستان میں سب سے بڑا چیلنجز ہے۔ صوبے میں سیلاب و بارش متاثرین دربدر پھر رہے ہیں۔ بلوچستان کا نوجوان حکمرانوں سے بے زار اور مایوس ہو چکے، محرومیاں بڑھتی رہیں تو حالات مزید خطرناک ہونگے۔ قدرتی گیس پیدا کرنے والے علاقے کے 80 فیصد عوام کو کھانا پکانے کے لئے ایندھن میسر نہیں۔ بلوچستان کے بیشتر دیہاتوں میں بجلی سرے سے نہیں، شہروں میں گھنٹوں لوڈشیڈنگ اور پینے کاپانی تک دستیاب نہیں۔