اسلام ٹائمز 23 Jun 2021 گھنٹہ 14:27 https://www.islamtimes.org/ur/news/939626/تجاوزات-کے-بجائے-سندھ-حکومت-گرائی-جائے-مصطفی-کمال-کا-سپریم-کورٹ-سے-مطالبہ -------------------------------------------------- ٹائٹل : تجاوزات کے بجائے سندھ حکومت گرائی جائے، مصطفیٰ کمال کا سپریم کورٹ سے مطالبہ -------------------------------------------------- پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ پورے سندھ میں سرکاری ملازمین کی تعداد پانچ لاکھ ہے، جو پیسہ مل رہا ہے وہ ڈیولپمنٹ کے بجائے 58 فیصد تنخواہوں میں جا رہا ہے، کیونکہ 158 میں سے 93 ارب سندھ حکومت صرف تنخواہوں اور پنشنز میں دے گی۔ متن : اسلام ٹائمز۔ پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین مصطفیٰ کمال نے سندھ حکومت کی کارکردگی کو بدترین قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ سے بڑا مطالبہ کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان ہاؤس کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے سندھ حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ شہری کوٹے پر چالیس فیصد بھی نوکری نہیں دی جا رہی ہے، صوبے میں تیرہ سالوں میں حکومت کرنے والوں نے کراچی کی ٹرانسپورٹ کیلئے ایک بھی نئی بس فراہم نہیں کی، ستم ظریفی یہ ہے کہ بلاول بھٹو نے کراچی کے پانی کم ہونے پر ایک لفظ نہیں بولا۔ مصفطیٰ کمال نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا کہ تجاوزات کے بجائے سندھ حکومت گرائی جائے، میئر اور مقامی حکومتوں کے تحت کام کرنے والے اداروں کو آئین میں شامل کیا جائے۔ چیئرمین پی ایس پی کا کہنا تھا کہ وفاق 18ویں ترمیم کے بعد بہت سی چیزیں صوبوں کو دے چکا ہے، سندھ کی 5 کروڑ آبادی کو صرف 42 بلین روپے مل رہے ہیں، پانچ لاکھ لوگوں کو وفاق سے ملنے والے پیسے کا 58 فیصد جا رہا ہے۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پورے سندھ میں سرکاری ملازمین کی تعداد پانچ لاکھ ہے، جو پیسہ مل رہا ہے وہ ڈیولپمنٹ کے بجائے 58 فیصد تنخواہوں میں جا رہا ہے، کیونکہ 158 میں سے 93 ارب سندھ حکومت صرف تنخواہوں اور پنشنز میں دے گی۔ مصطفیٰ کمال نے الزام عائد کیا کہ پنجاب تنخواہوں پر 33 فیصد، جبکہ سندھ 58 فیصد خرچ کر رہا ہے، کراچی میں جعلی ڈومیسائل بنا کر لوگوں کو نوکریاں دی جا رہی ہیں۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ واویلا ہو رہا ہے کہ معیشت اچھی ہوگئی ہے، بتایا جا رہا ہےکہ ٹیکسز بہت زیادہ جمع ہوگئے، اگر عام آدمی کی بات کریں تو وہ بے روزگار ہو رہا ہے، عام آدمی پر مہنگائی کابم گر رہا ہے۔ چیئرمین پی ایس پی کا کہنا تھا کہ عدالتوں کا احترام کرتے ہیں، نسلہ ٹاور بنانے والے سرکاری افسران اور بلڈرز کو سزا ملنی چاہیے، غریب رہائشیوں کے ساتھ سلوک پر نظر ثانی ہونی چاہئیے، جن کے گھر توڑے جا رہے ہیں، انکی مالی مدد ہونی چاہئیے۔